دہشتگردی کی منصوبہ بندی ‘ گرفتار 3 ملزموں کے بیانات ریکارڈ

دہشتگردی کی منصوبہ بندی ‘ گرفتار 3 ملزموں کے بیانات ریکارڈ

ملتان (خبر نگار خصو صی ) انسداد دہشت گردی عدالت نمبر2 ملتان کے جج رانا محمد سلیم نے گزشتہ روز دہشت گردی کی منصوبہ بندی (بقیہ نمبر30صفحہ12پر )

کرنے اور حساس اداروں کو نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار 3 ملزمان مزمل حسین محمد اکرم اور عبدالماجد کے بیانات زیر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کئے۔ اس موقع پر ملزمان کے وکیل باصر خان سکھانی نے عدالت کو بتایا کہ مزمل کا تعلق ڈسٹرکٹ نارووال محمد اکرم کا سندھ کے ضلع سانگھڑ اور عبدالماجد ساہیوال ضلع سرگودھا کا رہنے والا اور وہ تینوں ایک دوسرے کو جانتے بھی نہ ہیں اور انہوں نے ایک دوسرے کو عدالت میں پہلی بار دیکھا ہے۔ مزمل نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ لاہور کی ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا جہاں سے سی ٹی ڈی نے اسے گرفتار کرکے ملتان کے حوالے کردیا۔ اس کی بیوی رخسانہ نے اس کے اچانک گم ہونے پر ایف آئی آر بھی درج کرائی۔ محمد اکرم نے کہا کہ وہ تلاش روزگار کے سلسلے میں پنجاب آیا تھا اور یوحنا آباد میں کام کرتا ہے یکم مئی کو سی ٹی ڈی نے اسے اٹھایا اور ملتان سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا۔ اسی طرح عبدالماجد نے کہا کہ وہ ساہیوال ضلع سرگودھا کا رہائشی ہے اور وہاں مسجد میں امامت کراتا ہے۔ وہ 9 ویں جماعت کا امتحان دے رہا تھا۔ 3اپریل کو اس کا آخری پیپر تھا مگر سی ٹی ڈی سرگودھا نے اسے 2 اپریل کو اٹھا لیا اور وہ تین اپریل کا پیپر نہ دے سکا۔ ملزم نے اپنی رول نمبر سلپ اور رزلٹ کارڈ بھی پیش کیا جس میں وہ ایک پرچے میں غیر حاضر ظاہر کیا گیا تھا۔ فاضل عدالت میں سی ٹی ڈی کی 24مئی 2018ء کی درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق بچہ والا باغ نواب بچہ پر تینوں ملزمان حساس اداروں پر حملے کی پلاننگ کررہے تھے۔ یہ ایف آئی آر سی ٹی ڈی کے عمر ارشد کی رپورٹ پر درج کی ہے۔

ریکارڈ

مزید : ملتان صفحہ آخر