موسم کی برف باری، سیاحوں کا رخ مری کی طرف، سہولتیں ناپید،سیاح پریشانسیاسی ڈائری

موسم کی برف باری، سیاحوں کا رخ مری کی طرف، سہولتیں ناپید،سیاح پریشانسیاسی ...

اسلام آباد سے سہیل چوہدری

گزشتہ ہفتے ملکہ کوہسار مری میں برفباری کا سلسلہ جاری رہا ، ویک اینڈ پر ملک بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد نے برفباری کے نظاروں سے محظوظ ہونے کی خاطر مری کا رخ کیا ، اگرچہ نئے پاکستان میں اچھی گورننس حکومت کا ایک اہم نعرہ ہے لیکن مری میں برفباری کے مضمرات سے نپٹنے کے کوئی غیر معمولی اقدامات نظر نہیں آئے بالخصوص ٹریفک پولیس کے روایتی روئیے کی بناء پر دور دراز سے آئے ہوئے سیاح گھنٹوں ٹریفک بلاک کی وجہ سے سڑکوں پر پھنسے رہے ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ، جبکہ مقامی لوگوں کی جانب سے ہوٹلوں اور ریستوران پر من مرضی کی قیمتوں کی وصولی کی شکایات کی اطلاعات ہیں ، مری اپنی خوبصورتی منفرد موسم اور حسین نظاروں کی بناء پر ملک بھر میں سیاحت کے حوالے سے ایک اہم ترین جگہ ہے لیکن انتظامی لحاظ سے یہ ضلع راولپنڈی کی ایک تحصیل ہے لیکن تحصیل کی سطح کے افسران اس اہم شہر کے مسائل ھل کرنے سے قاصر لگتے ہیں۔

دارالحکومت میں سخت سردی پڑرہی ہے لیکن سیاسی موسم گرم ہوتا نظر آرہاہے ، قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس کا آغاز ہوگیا ہے قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس کمیٹی کے مطابق یہ اجلاس 25جنوری تک جاری رہے گا، ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی بالخصوص سندھ کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معمولی سیاسی مضمرات کا حامل ہوگا، حکومت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سختی سیاسی بیانات کے تسلسل نے بالآخر پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام ف کو قریب لانے میں اہم کردار اداکیا، اس کے غیر معمولی مناظر پیر کی شام قومی اسمبلی کے پہلے روز کے اجلاس میں دیکھنے میں آئے ، ائندہ دنوں میں ان خاکوں میں مزید رنگ بھرتا ہوا نظر آتاہے ، قومی اسمبلی کے ا جلاس کے پہلے روز اپوزیشن رہنماؤں میں غیر معمولی تال میل نظر آیا، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اپوزیشن رہنماء میاں شہبازشریف نے ایوان میں سابق صدر پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا غیر معمولی گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا ، پاکستان کی سیاست میں یہ ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جارہی ہے ، اس کے بعد دونوں رہنماؤں میں بالواسطہ اور بلا واسطہ مشاورت کا سلسلہ دیکھنے میں آیا ، ن لیگی رہنماء رانا تنویر اور سابق سپیکر سردا ر ایاز صادق سابق صدر آصف علی زرداری اور اپوزیشن رہنماء شہباز شریف کے مابین شٹل ڈپلو میسی کے فرائض انجام دیتے رہے ، حتیٰ کہ یہ سرگرمیاں حکومتی بنچوں کی بھی توجہ کا مرکز تھیں ، سیاست کو ئی جامد چیز نہیں ہر حالت اور وقت کے مطابق بدلتی رہتی ہے ، ایک وقت تھا کہ لگتا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور اپوزیشن رہنماء شہبازشریف کے مابین صلح جوئی کی کوئی کوشش کارگر نہیں ہو گی،سابق صدر اپنے روایتی حریف شریف خاندان بالخصوص شہباز شریف کے رویہ سے سخت نالاں تھے ، پاکستان مسلم لیگ ن کے بعض رہناؤں اور جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی دونوں کو قریب لانے کی کوششوں کے برعکس سابق صدر آصف زرداری کا مسلسل جھکاؤ حکومت کی جانب رہا اور وہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مسلسل مثبت اشارے دیتے رہے لیکن یہ سب بے سود ثابت ہوا، پاکستان تحریک انصاف نے مسلسل انہیں آڑے ہاتھوں لیا، بالآخر آصف زردار ی کے پاس ن لیگ سے قربت کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔سابق صدر کی اسمبلی میں تقریر اور بلاول بھٹو کے بعض بیانات سے لگتاہے کہ وہ مزاحمتی سیاست کیلئے ذہنی طورپر تیار ہیں ، اپوزیشن جماعتوں کی قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اپوزیشن رہنماء شہباز شریف نے سابق صدر آصف زرداری کی تقریر سننے کیلئے اپنی فزیو تھراپی موخر کردی۔ اب لگتاہے کہ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی اور شائد مجلس عمل بہت سارے ایشوز پر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گی۔آئندہ آنے والے دن حکومت کیلئے مزید مشکلات کا باعث ہونگے ، حکومت کیلئے ائندہ ایک بڑا چیلنج فوجی عدالتوں میں توسیع کے لئے قانون سازی میں اپوزیشن جماعتوں کا تعاؤن ہے ، اگرچہ اپوزیشن رہنماء کا فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے حوالے سے مثبت رویہ ہے لیکن پیپلزپارٹی ان عدالتوں کی توسیع کے حق میں دکھائی نہیں دیتی ، اس اہم ایشو پر ائندہ دنوں میں خوب سیاست ہوگی ، اپوزیشن اس ایشو پر حکومت سے سودے بازی کرے گی۔

حکومت 23جنوری کو منی بجٹ لانے کا اعلان کر چکی ہے اگرچہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ وہ ٹیکسوں کا بم نہیں گرائیں گے لیکن ملکی معیشت کی سست روی ،ڈالر کی اونچی اڑان ، سٹاک مارکیٹ کی مسلسل گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام پریشان ہیں جبکہ ماہرین معیشت کی اکثریت اس بات پر عالم استعجاب میں ہے کہ حکومت معیشت کے رو ڈ میپ دینا تو درکنار مثبت اشارے دینے سے قاصر نظر آتی ہے ، حکومت آئی ایم ایف جانے کے حوالے سے ابھی تک کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے میں معذور دکھائی دیتی ہے ملک میں بجلی اور گیس کا بحران جاری ہے ، لوڈ شیڈنگ یا لوڈ مینجمنٹ کا عفریت پھر باہر نکل آیا ہے گیس کے حوالے سے سخت سردی سے متاثرہ لوگ مشکلات کا شکارہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی غرض سے افغان طالبان اورامریکہ کے مابین مذاکرات میں بھی پاکستان اور عرب و خلیجی ممالک کا اہم کردار نظر اندا ز نہیں کیا جاسکتا، اگرچہ طالبان اور امریکہ کے مابین حالیہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا ہے لیکن امید ہے کہ یہ ڈیڈلاک ختم ہوجائیگا ، اس لئیے افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد بھی پاکستان کے دورہ آئے ہیں قبل ازیں وہ چین کے دورہ پر تھے ، و ہ خطے کے انتہائی اہم دورہ پر ہیں یہ الگ بات ہے کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں پر زور کردار ادا کررہاہے تو دوسری جانب پاکستان کو نان نیٹو اتحادی سے نکالنے کی غرض سے امریکی کانگریس مین بل پیش کردیا گیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1