پنجاب اسمبلی قواعد میں ترمیم پر اتفاق رائے، سپیکر کو پروڈکشن آرڈر کا اختیار مل گیا!

پنجاب اسمبلی قواعد میں ترمیم پر اتفاق رائے، سپیکر کو پروڈکشن آرڈر کا اختیار ...

پارلیمانی جمہوریت میں باہمی مذاکرات ہی مسائل کا حل ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے بعد اب پنجاب اسمبلی میں بھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان اسمبلی کارروائی چلانے کیلئے مفاہمت ہوگئی اور سپیکر پنجاب اسمبلی کی صدارت میں ہونے والے مذاکرات بھی کامیاب ہوگئے، حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں طے پایا ہے کہ زیر حراست رکن اسمبلی کو اجلاس میں شمولیت کیلئے سپیکر کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا اختیار دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے اسمبلی قواعد میں ترمیم کردی گئی، اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ ایوان کی کارروائی چلانے کیلئے مجالس قائمہ بھی بنالی جائیں اور حزب اختلاف اپنی طرف سے اراکین نٰامزد کرنے پر رضامند ہوگئی ہے، یوں اس سیشن کے دوران دونوں کام کرلئے جائیں گے، پہلے قواعد میں ترمیم ہو گئی اور یوں سپیکر کو پروڈکشن آرڈر کا اختیار ملے گا تو خواجہ سعد رفیق کے چھوٹے بھائی خواجہ سلمان رفیق کو اجلاس میں شرکت کیلئے بلایا جا سکے گا۔ دونوں بھائی نیب کی حراست میں ہیں اس طرح جب مجالس قائمہ تشکیل پاجائیں گی تو اسمبلی میں قانون سازی بھی ہو سکے گی جو ابھی تک نہیں ہوئی، اجلاس جاری ہے۔

ہمارے سیاست دان بھی سیاست اور ذاتی تعلقات اور بول چال میں روایات کو برقرار رکھتے ہیں، جہاں کہیں یہ حضرات کسی تقریب میں اکٹھے ہو جائیں تو ایک دوسرے سے مخالفت بھلا کر مل لیتے ہیں لیکن سیاسی میدان میں اپنے اپنے گھوڑے ہی دوڑاتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزام تراشی سے رک نہیں پاتے۔ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان بہت نوک جھونک ہوئی ہے اور سندھ کے وزراء اور خود وزیراعلیٰ نے بھی کہا تھا کہ سندھ میں گڑبڑ کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ سابق وزیر اور پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے تو کہہ دیا کہ سندھ میں داخلے سے بھی روکا جاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اتوار کو یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو روز کیلئے سندھ جا رہے ہیں اور ان کو کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سندھ میں مختلف سیاسی قائدین اور جماعتوں کے حضرات سے ملاقاتیں کرکے حالات حاضرہ پر مشاورت کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سندھ جی ڈی اے کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان گھوٹکی میں جلسے سے خطاب کریں گے اور وہاں ایک روزہ دورے کے دوران سیاسی قائدین سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ جلسہ 25 جنوری کو ہوگا۔

چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے ہفتہ رفتہ میں چھٹی کے روز لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کی۔ لاہور رجسٹر میں بطور چیف جسٹس کی یہ آخری سماعت تھی کہ وہ 17 جنوری کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ لاہور میں قیام کے دوران ان سے اعلیٰ عدالتوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے بھی ملاقات کی، چیف جسٹس نے ان صحافیوں کو بتایا کہ وہ اب ریٹائر ہو رہے ہیں تو اس کے بعد وہ ایک فری لیگل سروس کا آغاز کریں گے۔ جہاں ایسے شہریوں کی قانونی امداد اور معاونت کی جائے گی جو مظلوم غریب اور بے سہارا ہوں گے، ان کو مفت قانونی امداد دی جائے گی۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی بہتر سمت کا تعین کر دیا ہے، اب سب کو مل کر اسے آگے لے جانا ہوگا۔

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں زیرحراست ہیں۔ موسم کی شدت کے باعث ان کی طبیعت خراب ہوگئی، ان کی صاحبزادی مریم نواز کے مطابق ان کو ذاتی معالج کی ضرورت تھی لیکن جیل حکام نے ڈاکٹر کو اجازت نہ دی۔ مریم نواز کے مطابق ان کے بازو میں درد تھا جو انجائنا کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ گزشتہ جمعرات کو اہل خانہ سے ملاقات کا روز تھا۔ چنانچہ مریم نواز اپنی دادی اور اپنے صاحبزادے کے ساتھ ملنے آئیں، ان کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بھی ملاقات کی اور تبادلہ خیال کیا۔ جبکہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر سابق گورنر مخدوم احمد محمود نے بھی جیل حکام کی اجازت سے ملاقات کی اور سابق وزیراعظم کی خیریت دریافت کی اور سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے عیادت کرنے کے علاوہ ان کا پیغام بھی پہنچایا۔ مخدوم احمد محمود کا کہنا تھا کہ ان کے شریف خاندان سے ذاتی مراسم بھی ہیں۔

مریم نواز کے بیان کے بعد پنجاب حکومت کے ترجمان نے کہا کہ سابق وزیراعظم کا جیل میں باقاعدہ طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور وہ صحت مند ہیں۔ اس کے علاوہ باہر سے ان کے ذاتی معالج کواجازت قواعد کے مطابق دے دی گئی تھی اور انہوں نے معائنہ بھی کرلیا۔

(جمعرات) کو ملاقات کا دن ہے اور اہل خانہ پھرملنے آئیں گے۔ اس عرصہ میں سپریم کورٹ کے لاجر بنچ نے نیب کی وہ درخواست مسترد کردی ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف دی گئی تھی جس کے تحت ایوان فیلڈ ریفرنس میں کی گئی اپیل کی سماعت مکمل ہونے تک محمد نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانب منظور کی گئی تھی۔ اب وہ اس مقدمہ میں اپیل کی سماعت مکمل ہونے تک ضمانت پر رہیں گے۔ مسلم لیگ (ن) والوں نے اس فیصلے پر خوشی کااظہار کیا اور یقین ظاہر کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں بھی انصاف ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1