’’تبدیلی‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ خواب پورا نذہ ہوا، کرپشن کے داغ والے گئے، درپردہ حکمرانی ان کی؟

’’تبدیلی‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ خواب پورا نذہ ہوا، کرپشن کے داغ والے گئے، ...

موجودہ سیاسی اور سماجی حالات کو سامنے رکھیں تو ہر پاکستانی اب کی مرتبہ یہ کہتا سنائی اور دکھائی دے رہا ہے کہ ہم بھی کبھی اپنی زندگی میں انصاف ہوتا دیکھ سکیں گے یا پھر ’’پتلی تماشہ ‘‘ ہی چلتا رہے گا ، روٹی ، کپڑا اور مکان جیسے عوامی نعرے سے لے کر انصاف کے نام ’’تبدیلی ‘‘ تک ’’انقلاب ‘‘ کی کئی منزلیں تو طے ہوگئیں سیاست دان حکمرانوں کے ساتھ ساتھ کرپشن کے داغ لئے چلے گئے یا پھر اب بھی موجود ہیں، لیکن براہِ راست اور بالواسطہ حکومتیں ابھی بھی ان کی ہی ہیں عوامی خواہش تو خیر کبھی پوری نہ ہوگی، لیکن امید یہ تھی کہ اب کی مرتبہ کچھ نہ کچھ تبدیلی آنے والی ہے جس کے لئے عوام کو ذہنی طورپر کچھ عرصہ برداشت کرنے کا درس دیا جاتا رہاہے، لیکن اب لگتا ہے کہ وہ وقت بھی ان کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے، کیونکہ یہ بھی قانون کی حکمرانی کی بات تو ضرور کرتے ہیں، لیکن عمل درآمد کے وقت مصلحت کا شکار ہورہے ہیں اور شاید قانون کو مزید کمزور کررہے ہیں باتیں اتنی کہ الامان، گمان ہوتا ہے کہ اب یہاں دو دھ کی نہریں ہی بہا کریں گی اور کرپٹ سابق حکمرانوں اور سرکاری ملازمین کی چیخیں نکلوانے کا دعوے کرنے والوں نے خیبر سے لے کراچی تک عوام کی ہی چیخیں نکلوا دی ہیں کرپٹ لوگوں کی بجائے اب عوام کی چیخیں آسمان تک پہنچیں گی،بلکہ پہنچ رہی ہیں اب قدرت ان چیخوں کو کب سنتی اور مدوا کرتی ہے وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے، کیونکہ ایک کروڑ نوکریاں تو کیا ملتی تھیں لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہورہے ہیں کمپنیاں اور ادارے ڈاؤن سائزنگ پر مجبور ہیں بنکوں کا کام ٹھپ ہوتا جارہا ہے بغیر وجہ کے پاکستانی کرنسی کو بے توقیر کیا جارہا ہے، حالانکہ بین الاقوامی منڈی میں ڈالر اور پونڈ سٹرلنگ کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے، لیکن یہاں اسے پر لگادئیے گئے درآمدات میں اب بھی کمی نہیں ہو رہی ہے برآمدات تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنی کم سطح پر چلی گئی ہیں کہ کاروباری نقصان بڑھتا جارہا ہے، لیکن ہمیں برداشت کرنا ہے کہ اچھا وقت آئے گا، لیکن اچھا وقت آنے کی کوئی ایسی نشانی سامنے نہیں آرہی، جس سے تسلی ہوسکے۔ عوام کو امید تھی کہ میگا کرپشن کے مقدمات کا فیصلہ ہوجاتا قصوووار کو سزا ہوتی ، غداری اور وطن فروشی میں ملوث افراد انجام کو پہنچتے، لیکن اس کے بجائے مہنگائی اور بے روزگاری سے غریب عوام کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں اور ابھی مزید بھی سنائی دیں گی، کیونکہ محکمہ زراعت کا کہنا موافق موسمی حالات اور گندم کی شکل نہیں ہے ملکی آبادی کا آدھا حصہ گھر دانے سے محروم ہوگا اگر ایسا ہوا تو پھر عرش پر چیخیں کرپٹ لوگوں کی ہوں گی یا پھر ان مظلوموں کی ہوں گی اور ان چیخوں کا ہدف کون ہوگا یہ سمجھنے کے لئے کوئی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ سینئر سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی وقت کے ساتھ قومی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ وقت آنے والا ہے کہ وزیراعظم عمران خا ن بھی ، ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوں گے اب عمران خان ساتھ کھڑے ہوں گے یا ان کی صف میں کھڑے ہوں گے اس کی مخدوم جاوید ہاشمی نے وضاحت نہیں کی۔ البتہ انہوں نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی رہائی کے لئے تحریک چلانے کا وقت آنے کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس کے لئے مشاورت جاری ہے اور وقت آنے پر اس کا اعلان کردیا جائے گا، کیونکہ اس وقت ملک کو مکمل طور پر جام کردیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب یہ بات سب کو مان لینا چاہئے کہ ملک آزاد اور بااختیار جمہوریت سے ہی چل سکتا ہے۔انہوں نے اصغر خان کیس میں مدعی بن جانے کا عندیہ بھی دیا اور موجودہ معاشی حالات کو ملک کے لئے خطرناک قرار دیا اور کہا کہ ادویات سمیت ضروریات زندگی کی اشیاء میں ہوشربا اضافہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے یہ وقت جمہوریت کے اندر رہ کر ملک بچانے کا ہے۔ انہوں نے میاں نواز شریف کے ساتھ جیل میں رکھے گئے سلوک پر سخت تنقید کی اور حکمران جماعت کو وہ وعدے یاد کرائے جو الیکشن میں کئے گئے تھے کہ جیسے ان کی حکومت آنے سے ملک میں دودھ کی نہریں جاری ہوں گی صنعتی انقلاب آئے گا معاشی ٹیم ملک میں انقلاب برپا کرے گی، مگر اب جس بھی ڈبے کو کھولتے ہیں وہاں سے نجومی کا کبوتر نکلتا ہے انہوں نے پاکستانی میڈیا کو مضبوط قرار دیا اور جلد ہی حکومت کو پٹڑی پر لانے کے لئے موثر کردار کی توقع ظاہر کی اب مخدوم جاوید ہاشمی کی پیشگوئی کب پوری ہوں گی،اِس کے لئے آنے والے وقت کا انتظار کرنا ہو گا،دوسری طرف حکمران جماعت کے سینئر رہنما اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے محاذ آرائی سیاست سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحریک انصاف کی پالیسی نہیں ہے ہمیں کسی کو جیل بھیجنے کا اختیار نہیں ہے یہ عدالتوں کا کام ہے تاہم عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کی قیادت اور باقی رہنماؤں کے خلاف مقدمات ہمارے دور اقتدار سے پہلے کے ہیں مخدوم شاہ محمود قریشی نے حقیقت کے قریب ترین بات کی ہے،جو درست ہے، لیکن کیا وہ اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی اور صوبائی وزراء کو نہیں سمجھا سکتے کہ کسی ضرورت کے بغیر وہ اس قسم کا الزام نہ صرف یہ کہ مقدمات ہم نے بنائے ہیں،بلکہ سزا بھی خود ہی دیں گے اور یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں فلاں پکڑا گیا ہے اب فلاں کی باری اور اتفاق سے یہ درست بھی ہوجاتا ہے،جس سے مخدوم شاہ محمود قریشی کی مفاہمت کی سیاست کا خواب ایک دم چکنا چور ہو جاتا ہے ،جو ملک میں نہ صرف سیاسی، بلکہ معاشی انارکی کا موجب بن رہا ہے، جس سے عوام تو براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں، لیکن تحریک انصاف بطور جماعت اور حکومت عوام میں اپنا اثر کھو رہی ہے اگر یقین نہ ہوتو کسی ایک سے پوچھ کر دیکھ لیں اور اگر پھر بھی اندازہ نہ ہوتو پھر عام انتخابات کروا کر دیکھ لیں۔ لگ پتا جائے گا، لیکن تاریخ دان لکھے گا کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے ہی رہنماؤں ، وزراء اور بہی خواہوں کے ہاتھوں ہی رسوا ہوئی ۔

مزید : ایڈیشن 1