حکومت کو ٹف ٹائم دینے کافیصلہ ، اپوزیشن کا گرینڈ الائنس، پیپلز پارٹی ، ن لیگ ، اے این پی ، جے یو آئی (ف) اور بی این پی مینگل کے رہنما ؤں کا اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں اجلاس ، مشترکہ فیصلوں کیلئے کمیٹی قائم

حکومت کو ٹف ٹائم دینے کافیصلہ ، اپوزیشن کا گرینڈ الائنس، پیپلز پارٹی ، ن لیگ ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)مینگل بھی اپوزیشن کیساتھ مل گئی ہے ۔ اپوزیشن نے مشترکہ لائحہ عمل کیلئے تجاویز تیار کر نے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن)،اے این پی ،ایم ایم اے کے علاوہ بی این پی مینگل کا ایک رکن بھی شامل ہے ۔ متحدہ اپوزیشن نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیاں قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہیں۔حکومت کی نااہلی، ناتجربہ کاری اور بے حسی کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہوچکے ہیں،حکومت نے بدانتظامی اور نالائقی کی وجہ سے عوام کو بجلی اورگیس کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دوچار کردیا،ناقص پالیسیوں کی بدولت میڈیا صنعت کوشدید بحران کا سامنا ہے ،بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز اور صحافی بے روزگار ہورہے ہیں،پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تیسرے منی بجٹ کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔منگل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اورقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف کی دعوت پرپارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اور قائدین کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ہوا۔اجلاس میں سابق صدر اورپاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،پیپلز پارٹی رہنما سید خورشید شاہ، سید نوید قمر،سینیٹر شیری رحمن،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، ن لیگی رہنماخواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی ، مریم اورنگزیب اورمتحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے مولانا اسدمحمود اور مولانا عبدالواسع نے شرکت کی۔ اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں خصوصی دعوت پر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے آغا حسن بلوچ اور حاجی ہاشم پوتزئی نے بھی اجلاس میں شر کت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی داخلی، سیاسی، معاشی، اقتصادی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں شریک جماعتوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں حکومت کی نااہلی، ناکامی، ناتجربہ کاری اور بے حسی کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو سنگین ترین خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ افراط زر اور قرض بے قابو ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی بدترین مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی ہے جس کی تازہ ترین مثال ادویات کی قیمتوں میں حکومت کی جانب سے کیاجانے والا حالیہ اضافہ کرنا ہے۔ ملک میں بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اجلاس میں کہاگیا کہ ایک طرف عوام پر بجلی اور گیس کی قیمت میں ظالمانہ اضافہ کرکے بوجھ میں اضافہ کردیاگیا ہے تو دوسری جانب حکومت کی اپنی بدانتظامی اور نالائقی کی وجہ سے عوام کو بجلی اورگیس کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دوچار کردیاہے۔ معیشت کی شرح نمو میں واضح کمی ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں اور مزید ہونے جارہے ہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں اب قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکی ہیں۔ راتوں رات روپے کی قدر میں 35 فیصدکمی سے ایک طرف ملک پر ملکی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اربوں روپے کا اضافہ ہوگیا ہے تو دوسری جانب مقامی سطح پر عوام اور مختلف شعبہ جات کو شدید معاشی نقصان پہنچایاگیا۔ حکومتی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری کی فضاء بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سٹاک ایکسچینج میں اب تک 40ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے اور کاروباری اور معاشی سرگرمیاں منجمد ہوچکی ہیں۔اجلاس نے حکومت کی جانب سے منی بجٹ پیش کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے پانچ ماہ میں پیش کئے جانے والے تیسرے بجٹ کی بھرپور مخالفت کی جائے گی کیونکہ اس کے نتیجے میں پہلے سے مشکلات کا شکار عوام پر بوجھ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ اجلاس میں ملک میں آزادی اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی قدغنوں، ٹی وی چینلوں اور میڈیا اداروں کی بندش پر شدید تشویش کااظہار کیاگیا جس کے نتیجے میں میڈیا صنعت کوشدید بحران درپیش ہے اور بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز اور صحافی بے روزگار ہورہے ہیں۔ اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس نے حکومت کی طرف سے صوبائی خودمختاری اور وفاقی اکائیوں کے آئینی، جمہوری اور داخلی امور میں مداخلت، منتخب حکومتیں گرانے کے رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وفاق پاکستان کے لئے خطرہ قرار دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ عوام کے آئینی، جمہوری، معاشی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا اور ان کے دفاع کے لئے اپوزیشن متفق اور متحد ہو کر پوری قوت سے مزاحمت کرے گی۔ اس مقصد کے لئے مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیاگیا جس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔ اس کمیٹی کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ متحدہ اپوزیشن کے پارلیمان کے اندر اور باہر مستقبل کے لائحہ عمل، اشتراک عمل سے آگے بڑھنے اورایجنڈہ کے لئے تجاویز مرتب کرے گی۔اپوزیشن کی قائم کی گئی کمیٹی میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی خورشیدشاہ،شیری رحمان،مسلم لیگ (ن)کی نمائندگی احسن اقبال،راناثنااللہ،مریم اورنگزیب ،اے این پی کے امیرحیدرہوتی،ایم ایم اے کے مولاناعبدالواسع اور بی این پی مینگل کے اخترمینگل شامل ہیں۔متحدہ اپوزیشن کی کمیٹی تمام معاملات دیکھے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریگی۔مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہر طرح سے حکومت انسانی اور جمہوری حقوق پر حملہ کر رہی ہے،جمہوری معاشی، انسانی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، انسانی حقوق پامالی پر خاموشی اختیار نہیں کریں گے، اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے، کمیٹی اپوزیشن کے مشترکہ لائحہ عمل کیلئے تجاویز تیار کریگی۔ایک صحافی نے سابق صدر آصف علی زرداری سے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہو سکتا ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ اتحاد ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این آر او لینا چاہتے ہیں نہ حکومت دینے کی پوزیشن میں ہے، وزیراعظم کے پارلیمنٹ آنے پر بات کریں گے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے کہا کہ سرمایہ کار بیرون ملک سے آنے کیلئے تیار نہیں، ملک میں معاشی حالات ابتر ہیں،مہنگائی روز بہ روز بڑھ دہی ہے ،ادویات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا ہے،اپوزیشن کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے،چور ڈاکو کے نعرے لگائے جا رہے ہیں،اپوزیشن نے تمام مسائل کے حل کیلئے مل کرجدوجہد کرنے پر اتفاق کیا ہے، ہم نے کمیٹی بنا دی ہے، کمیٹی میں تمام اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی ہوگی ، مہمند ڈیم کے ٹھیکے میں بے ضابطگیاں سامنے آگئیں ہیں،ہمیں کسی فرد سے سرو کار نہیں، مہمند ڈیم کی ری بڈنگ ہونی چاہیے،جو بھی ملک کے مفاد میں ہوگا اپوزیشن وہ راستہ اختیار کرے گی، ملکی مفاد کیلئے ملکر کام کریں گے،جو بھی ملک کے مفاد میں ہوگا اپوزیشن وہ راستہ اختیار کرے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ فوجی عدالتوں اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے حوالے سے اپوزیشن کی کمیٹی قائم کر دی ہے، تمام اپوزیشن پارٹیز کی کمیٹی ملٹری کورٹس سمیت تمام معاملات دیکھے گی۔ ایم ایم اے کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسد محمود نے کہا کہ اپوزیشن نے آج وہی فیصلے کیے جو عوام ہم سے توقع کر رہی ہے۔آن لائن کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کی خواہش پر آصف علی زرداری میاں نواز شریف سے ملاقات کیلئے تیار ہو گئے۔ جبکہ مولانا تضل الرحمٰن نے اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا

اپوزیشن اتحاد

مزید : صفحہ اول