پاکپتن دربار کی اراضی نواز شریف نے غیر قانونی طور پر منتقل کی : جے آئی ٹی

پاکپتن دربار کی اراضی نواز شریف نے غیر قانونی طور پر منتقل کی : جے آئی ٹی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے پاکپتن دربار اراضی منتقلی کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جے آئی ٹی کے سربراہ حسین اصغر نے انکوائری رپورٹ پیش کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ نواز شریف نے دربار کی زمین غیر قانونی طور پر منتقل کی تھی،۔واضح رہے کہ مذکورہ کیس کی 13 دسمبر 2018 کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے پاکپتن دربار اراضی کیس میں نواز شریف کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے 3 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، جس کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل نیکٹا خالق داد لک کو بنایا گیا تھا، تاہم ان کی جانب سے معذرت کے بعد ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب حسین اصغر کو جے آئی ٹی سربراہ مقرر کردیا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق 2015ء میں دی گئی پہلی تفتیشی رپورٹ میں وزیراعلیٰ کو ذمہ دار قرار دیا گیا، تاہم 2016 میں دوسری رپورٹ بنا کر وزیر اعلیٰ کانام نکال دیا گیا تھا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’’اب وہ دور نہیں رہا، تیسری رپورٹ نہیں بنے گی‘‘۔سربراہ جے آئی ٹی حسین اصغر نے مزید بتایا کہ 'حجرہ شاہ مقیم اور دربار حافظ جمال کی زمین بھی دی گئی اور یہ ساری زمینیں ایک ہی دور میں نواز شریف نے دیں'۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'ان درباروں کی زمین 1986 میں الاٹ کی گئی'۔ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا کہ 'سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کس قانون کے تحت وقف زمین کا نوٹیفکیشن واپس لیا؟اور وقف پراپرٹی کو کیسے بیچ دیا گیا؟'جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 'ڈسٹرکٹ جج اور ہائیکورٹ نے کہہ دیا تھا کہ وقف زمین کا نوٹیفکیشن واپس نہیں ہوسکتا، کس قانون کے تحت وقف زمین کا نوٹیفکیشن واپس لیا گیا؟'تاہم نواز شریف کے وکیل منور اقبال دوگل نے بتایا کہ 'ان کے موکل نے زمین واپسی کے نوٹیفکیشن کی تردید کی ہے'۔جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ’’اب انکوائری رپورٹ آ چکی ہے‘‘۔ساتھ ہی انہوں نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ ایسا نہ ہو کہ ہم اینٹی کرپشن کو پرچہ درج کرنے کیلئے کہہ دیں، اگر تفتیش اور انکوائری ہوئی تو کوئی بچ نہیں پائے گا۔جے آئی ٹی سربراہ حسین اصغر نے بتایا کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ کے سیکریٹری نے تسلیم کیا کہ نوٹیفکیشن وزیراعلیٰ کے کہنے پر واپس ہوا'۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ 'نواز شریف کے سابق سیکریٹری سے بھی تفتیش کی گئی ہے، جو 75 سالہ ضعیف شخص ہیں'۔سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت اور نواز شریف سے رپورٹ پر 2 ہفتوں میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

پاکپتن اراضی کیس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا میں اضافے اور فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کے فیصلے کیخلاف دائر نیب کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کردیں۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بنچ نیب کی اپیلوں پر 21جنوری کو سماعت کرے گا۔

نیب کی اپیلیں

مزید : صفحہ اول