حکومت ڈیم بنانے میں سنجیدہ نہیں ، ہم ڈکٹیٹ نہیں کرنا چاہتے : چیف جسٹس وزیر خزانہ پر برہم

حکومت ڈیم بنانے میں سنجیدہ نہیں ، ہم ڈکٹیٹ نہیں کرنا چاہتے : چیف جسٹس وزیر ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے نئی گاج ڈیم ،پولی کلینک میں عملے اورسہولتوں کی کمی ، بڑھتی آبادی اور غیر معیاری سٹنٹ ڈالنے سے متعلق مقدمات کی سماعت کی۔نئی گاج ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت کے سلسلے میں وزیر خزانہ اسد عمر عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے وزیر خزانہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ لوگ کام نہیں کرسکتے، اس ملک کیلئے آپکی محبت کم ہوگئی ہے، بیورو کریسی کے پاس کام کرنے کا جذبہ اور نیت ہی نہیں، ہم بہت خلوص سے چاہتے تھے معاملہ حل ہو، مجھے نہیں لگتا کہ حکومت ڈیم بنانے میں سنجیدہ ہے۔اسد عمر نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ جب ایکنک میں آتا ہے تو میرے علم میں آتا ہے، کل نئی گاج ڈیم کے حوالے سے ایکنک میں درخواست آئی، ہم نے یہ معاملہ کابینہ کو بھجوا دیا۔اس پر چیف جسٹس نے وزیر خزانہ سے مکالمہ کیا کہ پھر آپکی حکومت میں کوآرڈنیشن نہیں، اسد عمر نے جواب دیاکہ ہو سکتا ہے ۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ہم اس حکومت کو ڈکٹیٹ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی ہم حکومت چلانا چاہتے ہیں، ہم نے بنیادی حقوق سے متعلق کام کیا ہے۔اسد عمر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ میں آپ کے کردار کا معترف ہوں، تاریخ میں ڈیم کے حوالے سے آپ کو یاد رکھا جائے گا۔وزیر خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ 25 جنوری کو ایکنک کا اجلاس ہے، اس میں معاملہ زیرغور لائیں گے۔اس پر عدالت نے انہیں ایکنک اجلاس کے فوری بعد اس کے فیصلوں سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔بعد ازاں عدالت نے نئی گاج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔چیف جسٹس نے پولی کلینک میں عملے اورسہولتوں کی کمی سے متعلق سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ پولی کلینک کے حوالے سے ہم بہت فکرمند ہیں، پارک کی زمین پرہسپتال کی توسیع کا معاملہ ہے، ہسپتال اتنا گنجان ہے کہ گزرنے کی جگہ نہیں،حکم امتناع پولی کلینک ہسپتال کی توسیع کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے پولی کلینک میں عملے اورسہولتوں کی کمی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔عدالت عظمی میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ میں نے کہا تھا آپکے راستے میں کوئی حکم امتناع نہیں آئیگا، مجھے بتائیں کس کیس میں حکم امتناع جاری کیا گیا ہے۔سیکریٹری صحت نے عدالت عظمی کوبتایا کہ 2014ء سے ایک حکم امتناع چل رہا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخت کاٹنے پرحکم امتناع جاری کیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم اختیارات کے تحت حکم امتناع ختم کررہے ہیں، سیکریٹری صحت نے کہا کہ پارک کا رقبہ 2.5ایکڑ ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسلام آباد میں ہسپتالوں میں سہولتیں نہیں ہوں گی تو کہاں ہوں گی؟ جس پر سیکریٹری صحت نے جواب دیا کہ ڈاکٹروں اورسٹاف کی مستقلی کا معاملہ بھی ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ وہ معاملہ جس بنچ میں لگے گا وہ دیکھ لے گا، بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتی آبادی سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا تے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی سکالر، سول سوسائٹی، حکومت آبادی کم کرنے کیلئے اقدامات کریں، بڑھتی آبادی ملکی وسائل پردباؤ ہے، یہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کیلئے پوری قوم کوساتھ چلنا ہے، پوری قوم کو اسکے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت کو اس حوالے سے ہر تین ماہ بعد پیشرفت رپورٹ دینے کی ہدایت کی تھی۔سیکریٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ آبادی پر قابو پانے کیلئے ایکشن پلان مرتب کرکے جمع کرادیا ہے۔2025ء تک آبادی میں اضافے کی شرح 1.5فیصد تک لانا ہے۔غیر معیاری سٹنٹ ڈالنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے غریب آدمی کیلئے ادویات کا نسخہ لکھوایا تھا، ہماری توجہ ہٹی تو حکومت اور فارماسوٹیکل کمپنیوں نے میل ملاپ کرلیا، نیشنل ہیلتھ ہسپتال میں 4،4لاکھ روپے کا سٹنٹ ڈالا جارہا ہے، حکومت بتائے کہ سٹنٹ ڈالنے سے متعلق کیا اقدامات کیے۔ حکومت ملکی سٹنٹ کی تیاری سے متعلق بھی آگاہ کرے۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ ہمیں ینگ ڈاکٹرز نے نہیں بڑے ڈاکٹروں نے پریشان کیا ہوا ہے، ڈاکٹرز کا اتنا غیر پیشہ وارانہ رویہ دیکھ رہا ہوں اور ان کو کچھ کہا جائے تو ہڑتال کردیتے ہیں۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول