سندھ اسمبلی اجلاس، نامکمل ترقیاتی کاموں پر اراکین کی تنقید

سندھ اسمبلی اجلاس، نامکمل ترقیاتی کاموں پر اراکین کی تنقید

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل منگل کو جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے ایوان میں نعرے لگوادیئے، اپوزیشن کے ارکان نے ایوان کی کارروائی مقررہ وقت پر شروع نہ کرنے پر حکومتی ارکان کے رویہ پر تنقید کی اور نصرت سحر عباسی نے ایوان کا چکر لگاکر خالی پڑی ہوئی سرکاری نشستوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان کو ایوان کی کارروائی سے دلچسپی نہیں ہے۔سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کو پرائیوٹ ممبر ڈے کے موقع پر صبح دس بجے کے مقررہ وقت کے بجائے پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے دوپہر 11بجکر 45 منٹ پراسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔اپوزیشن کے کئی ارکان پرائیوٹ ممبر ڈے کے باعث جلدی ایوان میں پہنچ گئے تھے جبکہ سرکاری بینچیں خالی پڑی تھیں،اجلاس کے آغاز میں تاخیر پراپوزیشن ارکان میں اضطراب پیدا ہوا اور کئی ارکان نے اس تاخیر ناراضگی کا اظہار شروع کردیا اس موقع پر جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے "اجلاس شروع کرو " اور" عوام کے پیسے کا خیال کرو" کے نعرے لگوانا شروع کردیئے، نصرت عباسی اپنی نشست سے اٹھی اور انہوں نے پورے ایوان کا چکر لگاکر خالی پڑی ہوئی سرکاری نشستوں کی نشاندہی کی ۔اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پر ان کا اہم بزنس ایجنڈے میں شامل ہے اور حکومتی ارکان ایوان میں موجود نہیں۔اپوزیشن کے اس احتجاج سے ایوان کا ماحول اجلاس سے قبل ہی کشیدہ ہوگیا۔بعدازاں اجلاس ایک گھنٹہ 45منٹ کی تاخیرسے آغاسراج درانی کی زیرصدارت شروع ہوا تو اسپیکر نے بھی اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ وہ دو گھنٹے سے اپنے چیمبر میں بیٹھے اس بات کا انتظار کررہے تھے کہ ارکان آجائیں تو اجلاس شروع کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ایوان میں عوام کے مسائل پربات کرنے کے لئے آتے ہیں،افسوس کہ ارکان اسمبلی میں وقت پر آنے کو ترجیح نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ تمام لوگ اپنے ساتھی ارکان کو بتائیں اسمبلی اجلاس میں وقت مقررہ پرآناہے ،جو رکن اسمبلی اجلاس میں نہیں آتااسکو نمائندگی کاحق نہیں،سب ارکان اسمبلی سے گزارش ہے کہ ارکان ایوان کی کاروائی میں دلچسپی لیں۔آغا سراج درانی نے نشاندہی کی کہ کچھ ارکان ایوان میں۔آتے ہیں اور تقریر کرکے چلے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں سندھ کی یہ واحد اسمبلی ہے جہاں۔کی کاروائی براہ راست دکھائی جاتی ہے۔آغا سراج درانی کی اس تنبیہ پر جی ڈی اے کے رکن عارف مصطفی جتوئی نے کہا کہ آپ پورے ایوان کوشرم نہ دلائیں بلکہ جو ایوان میں نہیں آتا اسکی نشاندہی کریں ۔

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ترقیاتی کاموں پر بحث کی گئی جب کہ اپوزیشن نے رکے ہوئے کاموں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسمبلی آغا سراج درانی کی زیر صدارت ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا کہ ہمیں عوام نے منتخب کر کے ایوان میں بھیجا ہے جب کہ آدھا ایوان چھٹی کی درخواست دے چکا ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مہینے میں ایک بار اجلاس بلائیں لیکن اس میں بھی بہت سے اراکین تاخیرسے آتے ہیں اور پھر اجلاس کے دوران ہی اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔اسمبلی اجلاس میں پیپلزپارٹی رکن نے کہا کہ سندھ میں رکے ہوئے ترقیاتی کام فنڈز کی کمی کے باعث نامکمل ہیں اور جب یہ فنڈز وفاقی حکومت جاری کر دے گی تو کام بھی مکمل کر لیے جائیں گے۔نصرت سحرعباسی نے کہا کہ اس طرح کی باتیں تو ہم گزشتہ گیارہ سال سے سنتے آ رہے ہیں جب کہ سندھ حکومت ہر نا اہلی کو وفاقی حکومت پر ڈال دیتی ہے۔ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی محمد حسین نے کہا کہ آپ کے ترقیاتی کاموں کی سست رفتاری کے باعث ترقیاتی کام کے لیے رکھا گیا بجٹ کم پڑ گیا ہے اور اب تو ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے تو حکومت اس سارے معاملے کو کیسے کنٹرول کرے گی۔صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کہا کہ ہم پانی کے ذخائر میں اضافہ نہیں کر سکتے ہیں یہ اللہ کی نعمت ہے جب کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور بچے دونوں کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں لیڈی ہیلتھ ورکرز پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاہم محکمہ کی بہتری کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ایم کیو ایم کی رعنا انصار نے آبادی کنٹرول کرنے اور آگاہی سے متعلق اسمبلی میں قرارداد پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول