شادی کی کم از کم عمر کو بڑھا کر 18سال کرنے کیلئے اسمبلی میں بل لانے کا مطالبہ

شادی کی کم از کم عمر کو بڑھا کر 18سال کرنے کیلئے اسمبلی میں بل لانے کا مطالبہ

پشاور(سٹی رپورٹر)خیبر پختونخواسول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں نے صوبائی حکومت سے صوبے میں بچپن کی شادیوں کی روک تھام سے متعلق بل اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کرنے سمیت شادی کی کم از کم عمر کو بڑھا کر18سال کرنے کامطالبہ کیاگزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلووینز کے کوآرڈینیٹر قمر نسیم جو خیبرپختونخواکے بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے اتحاد کے سربراہ بھی ہیں،گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کی چیئرپرسن اور بچوں کے حقوق کیلئے کوشاں ویلری خان ،پختونخواسول سوسائٹی نیٹ ورک کی کوآرڈینیٹر تیمور کمال،بچوں کے حقوق کے معروف رہنماء عمران ٹکراورخواجہ سرا بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی اورخواجہ سرا سماجی کارکن نایاب علی کاکہناتھاکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کم عمرکی شادیوں کا تناسب21 فیصدجبکہ ہیلتھ اینڈڈیموگرافک سروے کے حالیہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوامیں15فیصدلڑکیاں18سال سے کم عمری میں ہی اپنی پہلی اولاد کو جنم دیتی ہیں جو بچپن میں شادیوں کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ان کاکہناتھاکہ اس حوالے سے سعودی عرب کی شوریٰ کونسل نے بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے سعودی حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں اور شادیوں کی کم ازکم عمر کو 18سال کرنے کی تجویز دی ہے۔ سعودی شوریٰ کی تجویز نہایت اہم ہے اور اس سے مسلمان ملکوں میں بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کرنے میں مدد ملے گی۔جن ممالک نے اس حوالے سے قانون سازی نہیں کی گئی وہاں قانون سازی کوعمل میں لاناچاہیے انہوں نے کہا کہ بچپن کی شادیاں انفرادی اور انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزی ہیں۔اسلام میں شادی کیلئے عاقل اور بالغ ہونا لازمی ہے لیکن بدقسمتی سے عوامی سطح پرصرف بلوغت کو شادی کیلئے کافی سمجھ لیا جاتا ہے جس سے گھریلو اور معاشرتی سطح پر مسائل جنم لیتے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ شادی لڑکیوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما،معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے نہایت تباہ کن ہے۔حکومت خیبر پختونخوا اور تمام صوبائی اور مرکزی حکومت کو اس حوالے سے فوری قانون سازی کرنی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ بچپن کی شادیوں کو کسی بھی قیمت پر نہ ہونے دیا جائے اور اس کیلئے سخت سزائیں تجویز کی جائیں اور ان قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بچپن کی شادیاں نہ صرف معاشرے کیلئے تباہ کن ہے بلکہ اس کے معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیںیہ غربت میں اضافہ کا سبب ہے اور لڑکیوں کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ پائیدار ترقیاتی اہداف کہ حصول کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ بچپن کی شادیوں کو روک تھام کے حوالے سے مربوط پالیسی ترتیب دی جائے اورتمام ضرر رساں روایات اور رسومات جو انسانی حقوق سے متصادم ہیں کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو نہ صرف قانون سازی کو یقینی بنانا چاہیے بلکہ اسے اقدامات بھی اٹھانے ہونی چاہیے جوان قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے۔محض قوانین کا بنا لینا کافی نہیں ان کے نفاذ کیلئے اقدامات اٹھانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ان قوانین کاہونا۔

مزید : کراچی صفحہ اول