وفاقی حکومت نے اب تک ہمارے چھ نکات پر عمل نہیں کیا،ا ختر مینگل

وفاقی حکومت نے اب تک ہمارے چھ نکات پر عمل نہیں کیا،ا ختر مینگل

اسلام آباد(آن لائن) بی این پی مینگل اور حکومت کے درمیان دوریاں پیدا ہونے لگیں بی این پی کے رہنماؤں نے اپوزیشن کے اجلاس میں شرکت کر کے علیحدگی کا اشارہ دیدیا۔ آغا حسن بلوچ کا کا کہنا ہے کہ ہم آزاد بنچوں پر بیٹھے ہیں ابھی اپوزیشن میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بی این پی مینگل کے رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کر کے حکومت سے علحیدگی کا اشارہ دے دیا ہے اور دوریاں بڑھ گئی ہیں اپوزیشن اجلاس میں شرکت کر نے والے اغا حسن بلوچ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ جو بھی ملکی مفاد میں کام کرے گا اس کا ساتھ دیں گے ہمیں اپوزیشن کی باتیں جمہوریت اور ملک کے مفاد میں لگی ہیں انہوں نے کہا کہ ہم آزاد بنچوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ہم نے ابھی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ نہیں کیا ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سینٹ کی نشست پر انتخابات کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ ہمارے مطالبات پر حکومت میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی اور ہمارے 6 مطالبات سے کسی ایک پر بھی ابھی کوئی حکومت نے ایک فی صد بھی عمل نہیں کیا۔

بی این پی

کوئٹہ(آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اب تک ہمارے چھ نکات پر عمل نہیں کیا، پی ٹی آئی کی حکومت ان پر عمل درآمد نہیں کر نا چاہتی یا وہ بے اختیار ہے، وفاقی حکومت کسی بھی معاملے پر بی این پی مینگل کو اعتماد نہیں لیتی، حال ہی میں گوادر میں سعودی عرب کے وزیر پیٹرولیم بی این پی مینگل یا گوادر سے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا ہے پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا جس میں حکومت کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کافیصلہ کیا جائے گا۔ ان خیالا ت اکا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی و ی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ مرکز میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ہے پی ٹی آئی کی حکومت کو وزارتوں یا مراعات کیلئے سپورٹ کیا بلکہ چھ نکات کیلئے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کیا سینٹ کے ضمنی انتخابات میں کوشش کی کہ تحریک انصاف ہم کو سپورٹ کرے گی لیکن تحریک انصاف نے ہمیں سپورٹ نہیں کیا شاید انکی مجبوریاںیا ان کی ضرورتیں ہم سے زیادہ تھیں اس لئے شاید انہوں نے ہم سے زیادہ بلوچستان عوامی پارٹی کو ترجیح دی لیکن میں اس کی وضاحت ضروری کرنا چاہتاہوں کہ ان کے ووٹ دینے یا نہ دینے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارا موقف اصولی ہے وہ چھ نکات کی اہمیت سیٹوں سے زیادہ ہے جب حکومت سازی ہو رہی تھی ہمیں وزارتیں بھی آفر کیں لیکن ہم نے وزارتوں کو ٹھکرادیا اور ان چھ نکات کو ترجیح دی آج بھی ہم چھ نکات کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہوں چھ نکات پر اب تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ۔

ا ختر مینگل

مزید : کراچی صفحہ اول