اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 78

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 78
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 78

  

ابراہیم شیبانیؒ فرماتے ہیں۔ بادشاہ روم کا بیٹا مسلمان ہوگیا۔ تو بادشاہ نے اسے مارنے کی غرض سے گرفتا رکرنے کا حکم دیا۔ وہ جوان مسلمانوں کے کسی شہر میں بھاگ گیا۔ بعدازاں جنگل میں پہنچ کر خدا کی عبادت میں ساٹھ برس تک محو رہا۔ اتفاقاً بیمار پڑگیا تو میں ا سکی عیادت کو اس کے پاس پہنچا۔ دیکھا تو خاک پر پڑا اور ایک پتھر سرتلے رکھا ہے۔ مجھ کو اس کے حال پر بڑا افسوس ہوا۔ اس سے پوچھا کہ کسی چیز کو جی چاہتا ہے۔

اس نے کہا ’’ہاں، انار شیریں کو۔‘‘

میں یہ سن کر پاس پڑوس سے لکڑی کاٹنے کو کچھ لے کر جنگل کو گیا اور گٹھا لکڑی کا لایا۔ اس کو بیچ کر انار شیریں لیا اور جلدی سے اسے لاکردیا۔

وہ بولا ’’یہ انار کہاں سے اور کیسے لائے ہو؟‘‘

میں نے حقیقت اس کے سامنے بیان کی۔ وہ بولا

’’جس کے ہتھیار سے لکڑی کاٹ کر لائے ہو۔ اس کے بارے میں دریافت کرکے بتاؤ کہ وہ نیک چلن ہے یابدچلن۔‘‘

میں نے اس آدمی کا جس سے مَیں نے ہتھیار لیا تھا، پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بدچلن ہے۔ میں نے اسے بتایا تو اس نے اسی وقت وہ انار پھینک کر کہا ’’ مَیں اسے ہرگز نہیں کھاؤں گا۔‘‘

مَیں نے اسے ہر طرح سے سمجھایا کہ میں اس کے لئے یہ انار بڑی محنت اور مشقت سے لایا ہوں مگر اس نے میری ایک نہ مانی اور انار شیریں کی حسرت دل میں ہی لیے اللہ کو پیارا ہوگیا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 77 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ایک مرتبہ حضرت ابو حنیفہؒ بازار میں چل رہے تھے کہ گردوغبار کے کچھ ذرات آپ کے کپڑوں پر پڑگئے۔ اس پر آپ نے دریائے دجلہ پر جاکر کپڑے کو خوب اچھی طرح دھو کر پاک کیا اور جب لوگوں نے پوچھا کہ آُ پ کے نزدیک تو اتنی نجاست جائز ہے۔ پھر آپ نے کپڑا کیوں پاک کیا۔اس پر آپ نے فرمایا ’’وہ فتویٰ ہے اور یہ تقویٰ ۔‘‘

***

حضرت احمد بن انطاکیؒ کا اپنے مریدین پر طریقہ تعلیم کا یہ اثر تھا کہ ایک رات اچانک آپ کے انتیس مریدین آگئے۔ آپ نے دسترخوان بچھواکر روٹی کی قلت کی وجہ سے ٹکڑے کرکے سب کے سامنے رکھ کر چراغ اٹھالیا اور کچھ دیر کے بعد آپ چراغ لائے۔ تو تمام ٹکڑے اسی طرح ہر شخص کے سامنے موجود تھے اور کسی نے بھی بغرض ایثار ایک ٹکڑا بھی نہیں کھایا۔

***

ایک مرتبہ مکتب سے واپسی پر حضرت جنید بغدادیؒ نے دیکھا کہ آپ کے والد سر راہ رورہے ہیں۔ آپ نے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا’’بیٹا! میرے رونے کا سبب یہ ہے کہ آج مَیں نے تمہارے ماموں کو مال زکوٰۃ میں سے کچھ درہم بھیجے تھے لیکن انہوں نے لینے سے انکار کردیا اور آج مجھے یہ احساس ہورہا ہے کہ مَیں نے اپنی زندگی ایسے مال کے حصول میں صرف کردی جس کو خدا کے دوست بھی پسند نہیں کرتے۔‘‘

اس پر حضرت جنیدؒ نے اپنے والد سے وہ درہم لے کر اپنے ماموں کے پہنچ کر انہیں آواز دی۔آپ کے ماموں سری سقطیؒ تھے۔ جب اندر سے پوچھا گیا کہ کون ہے: تو آپ نے عرض کیا’’ جنید، آپ کے لیے زکوٰۃ کی رقم لے کر آیا ہے۔‘‘

لیکن انہوں نے دوبارہ لینے سے انکار کردیا جس پر حضرت جنیدؒ نے کہا ’’ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کے اوپر فضل اور میرے والد کے ساتھ عدل کیا۔ اپ کو اختیار ہے کہ یہ رقم لیں یا نہ لیں۔ کیونکہ میرے والد کے لیے جو حکم تھا کہ حقدار کو زکوٰۃ پیش کرو اور انہوں نے پورا کردیا۔‘‘

یہ سن کر حضرت سری سقطیؒ نے دروازہ کھول کر فرمایا ’’رقم سے پہلے میں تجھے قبول کرتا ہوں۔‘‘چنانچہ آپ اسی دن سے ان کی خدمت میں رہنے لگے۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 79 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے