داعش کے ہاتھوں ملکہ حسن کا اغوا

داعش کے ہاتھوں ملکہ حسن کا اغوا
داعش کے ہاتھوں ملکہ حسن کا اغوا

  

نیویارک (ویب ڈیسک) دہشت گرد تنظیم داعش نے امریکی جزیرے ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی سابق ملکہ حسن گیلون سو اور ان کے بیٹے کو اغوا کر لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق 43 سالہ گیلون سو کو 2014 میں ایک مقامی مقابلے میں ملکہ حسن کا خطاب دیا گیا تھا،اپنے 16 سالہ بیٹے کے ہمراہ شام میں گزشتہ ہفتے سے داعش کی قید میں ہیں۔

غیر ملکی رپورٹ کے مطابق گیلون سو داعش کے ایک سپاہی کی بیوی ہیں اور شامی شہر ال صفا سے بیٹے کے ہمراہ فرار ہو رہی تھیں کہ داعش کےاہلکاروں کے ہاتھ لگ گئیں جس کے بعد انہیں مہاجروں کے کیمپ منتقل کر دیا گیا۔ان کی23 سالہ صاحبزادی ایبونی سو نے حکومت سے ان کی بازیابی کے لئے درخواست کی ہے ،ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں تاہم ان کی والدہ نے 2014 میں اسلام قبول کیا جس کے بعد ان کی ملاقات داعش کے ایک سپاہی سے ہوئی جس کی باتوں میں آکر انہوں نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔اس شخص نے میری والدہ سے کہا کہ ہم امریکا جائیں گے اور اس کے بعد باقی کی زندگی گزارنے مکہ منتقل ہو جائیں گے۔اس شخص نے میرے بھائی کو بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔ایبونی نے بتایا کہ میں اپنے ایک رشتہ دار کے پاس اسپین میں رہنے لگی تھی جبکہ میری والدہ شام جانے پر مجبور ہو گئیں تھیں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے میری ان سے بات چیت رہتی تھی۔ان کی بات چیت سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ مشکل میں ہیں پھر گزشتہ سال اچانک میرا ان سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ایبونی کے مطابقگزشتہ سال نومبر میں مجھے ان کی اچانک کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے مجھ سے مدد مانگی، وہ گھر واپس آنا چاہتی تھیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ماں اور بھائی نے تین ہفتوں سے کچھ نہیں کھایا۔انہیں مالی مدد کی بھی اشد ضرورت ہے۔

ایبونی کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اس شخص کو کافی عرصے پہلے چھوڑ دیا، اس شخص نے ایک دن میرے بھائی کو گھٹنوں پر بٹھا اور اس سے داعش میں شامل ہونے کے لئے زبردستی کی۔ایبونی نے وزارت خارجہ سے خط لکھ کر مدد کی اپیل کی ہے تاہم اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔ان کی والدہ کے گردے پانی اور کھانے کی کمی کی وجہ سے فیل ہو گئےہیں۔واضح رہے عراق و شام میں’داعش‘ کہلوانے والی دہشت گرد تنظیم نے مختلف ممالک سے مقابلہ حسن میں شرکت کرنے والی خواتین کو دھمکی آمیز پیغامات کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔

مزید : بین الاقوامی