”تحریک انصاف کی حکومت کو اس ڈیل کے تحت 5 سال پورے کرنے دیے جائیں گے“ اب تک کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

”تحریک انصاف کی حکومت کو اس ڈیل کے تحت 5 سال پورے کرنے دیے جائیں گے“ اب تک کا ...
”تحریک انصاف کی حکومت کو اس ڈیل کے تحت 5 سال پورے کرنے دیے جائیں گے“ اب تک کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی بابر ڈوگر کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اپنے مفاد کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ حکومت کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں ن لیگ نے خاموشی اختیار کی ہے، اب زبانی لڑائی جاری رہے گی لیکن عملی سطح پر کچھ نہیں ہوگا اور تحریک انصاف کو 5 سال پورے کرنے دیں جائیں گے۔

نجی ٹی وی بول نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی بابر ڈوگر نے کہا کہ وزیر اعظم اور سپیکر کے الیکشن کے موقع پر بھی اپوزیشن اکٹھی بیٹھی تھی اور یہ فارمولا طے ہوا تھا کہ کس طرح ووٹ دیے جائیں گے۔ ن لیگ نے تو ووٹ دے دیا تھا لیکن پیپلز پارٹی بھاگ گئی تھی۔ نواز شریف اور شہباز شریف آصف زرداری پر بالکل بھی اعتماد نہیں کرتے، ان کا خیال ہے کہ زرداری صاحب پھنسے ہوئے ہیں اور ن لیگ کا کندھا استعمال کر رہے ہیں۔یہ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کر رہے بلکہ اپنے اپنے مفاد کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر ن لیگ کبھی بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر شہباز شریف مخالفت نہیں کرسکتے، انہیں سمجھ آگئی ہے کہ ن لیگ کااداروں کے خلاف والا بیانیہ بالکل غلط تھا اور تمام مشکلات اسی کی وجہ سے ہوئی ہیں، اب انہوں نے نیا بیانیہ اپنایا ہے جس کی بنا پر یہ مشکلات سے باہر نکلیں گے اور کوئی نہ کوئی بیل منڈھے چڑھے گی۔ فضل الرحمان اور محمود اچکزئی ان لوگوں کو ساتھ لائے ہیں لیکن جب فوجی عدالتوں کا بل آئے گا تو یا تو ن لیگ ساتھ نہیں ہوگی یا یہ دونوں ساتھ نہیں ہوں گے۔

بابر ڈوگر نے بتایا چیئرمین نیب نے کہا تھا کہ وہ کسی این آر او کا حصہ نہیں بنیں گے، عمران خان کہہ رہے ہیں کہ وہ این آر او نہیں دیں گے، شہباز شریف کہتے ہیں کہ انہوں نے نیب سے اور عمران خان سے کوئی این آر او نہیں مانگا ۔ اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ این آر او کس سے مانگا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں پر تنقید کرنے والی ن لیگ ایک دم خاموش ہوگئی ، یہ ڈیل کا ہی حصہ ہے۔یہ پیپلز پارٹی کے ساتھ رومانس بھی کریں گے اور تحریک انصاف کی حکومت کو پانچ سال بھی پورے کرنے دیں گے۔ زبانی لڑائی جاری رہے گی لیکن پریکٹیکل سطح پر کوئی کام نہیں ہوگا۔ جس طرح تحریک انصاف انہیں چھیڑ رہی ہے اسی طرح اپوزیشن انہیں نہیں چھیڑے گی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور