سب کو سب معلوم ہے

سب کو سب معلوم ہے

  



دو روز قبل وفاقی وزیر پانی و بجلی فیصل واوڈا ایک پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ اْٹھا لائے۔ فوجی بوٹ میز پر رکھتے ہوئے اْن کا کہنا تھا کہ جو جماعتیں اور ان کے رہنما سمجھوتے کرتے ہوں، انہیں بڑی باتیں نہیں کرنا چاہئیں۔ ان کے مطابق ن لیگ جب اقتدار میں ہوتی ہے تو اداروں کو آنکھیں دکھاتی ہے، پاناما جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تو تب بھی اداروں پر بلا جواز تنقید کی گئی، ججز کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، مریم نواز ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہوئے احتجاج کرنے لگیں، لیکن پھر الیکشن کے بعد یوٹرن لے کر نون لیگ کے قائدین لندن چلے گئے۔ وفاقی وزیر کا اپوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ یہی کرسکتے ہیں، یہ چور لٹیرے ہیں، اپنا مطلب ہو تو لیٹ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا نواز شریف کے باہر جانے سے پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ وہ بیمار نہیں ہیں بلکہ باہر بھاگنے کے راستے ڈھونڈرہے ہیں۔ مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے۔ اس پروگرام میں لیگی رہنما جاوید عباسی اور پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ بھی موجود تھے لیکن جب وفاقی وزیر نے جوتا نکال کر ٹیبل پر رکھا تو دونوں اپوزیشن رہنما احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔ دونوں رہنماؤں کے اُٹھ کر چلے جانے کی وجہ سے اپوزیشن کا اس اقدام پر مؤقف سامنے نہ آسکا تو ایک اور اینکر نے رانا ثناء اللہ سے فیصل واوڈا کی اس حرکت کے بارے میں سوال کیا۔ رانا ثناء اللہ کا حکومتی ارکان کی طرف اشارہ کر کے کہنا تھا کہ ان جوکروں کی حرکتیں پوری قوم دیکھ رہی ہے، ان میں کوئی شرم و حیاء نہیں۔ یہ بوٹ کو فوج سے تشبیہ دے رہے ہیں اور بوٹ کو سامنے رکھ کر کہہ رہے ہیں یہ سب کچھ بوٹ نے یعنی فوج نے کروایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف آرمی چیف کی توسیع کے معاملے میں فوج کا بطور ادارہ مذاق بنانا چاہتی تھی لیکن اس میں ناکامی کے بعد ان کا خوف انہیں ڈرا رہا ہے اور یہ اس قسم کی حرکتیں کررہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے پانچ برس کی کہانی بے حد دلچسپ اور کسی حد تک افسوسناک بھی ہے۔ 2014ء کے دھرنے سے شروع ہوکر ڈان لیکس سے ہوتے ہوئے پاناما پیپرز تک، ن لیگ ایک کے بعد دوسرے بحران سے دوچار ہوتی رہی۔ لیگی قیادت کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں اور کبھی کھلم کھلا اپنی ان مشکلات کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھہراتی رہی۔اس پس منظر میں دیکھا جائے تو فیض واوڈا کی اس حرکت پر رانا ثناء اللہ کا مؤقف بھی کسی لطیفے سے کم نہیں کیونکہ چار برس سے تو مسلسل وہ اور ان کی جماعت یہ الزام لگارہے ہیں کہ جو ہورہا ہے ”بوٹ“ کروارہے ہیں، لیکن آج اس بات کی نشاندہی ان کے نزدیک اچانک قابل گرفت ”جرم“ بن گئی۔نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے عدالتی حکم کے تحت ہٹایا گیا تو انہوں نے ”خلائی مخلوق“ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ بات اور آگے بڑھی تو نواز شریف نے پہلے ”مجھے کیوں نکالا“ اور پھر ”ووٹ کو عزت دو‘‘کا نعرہ اپنالیا اور گزشتہ عام انتخابات بھی اسی نعرے پر لڑے۔ اس کشمکش میں ن لیگ نے بھاری نقصان اْٹھایا۔ اقتدار تو گیا ہی، قریباً تمام اہم رہنماوں کو وقتاً فوقتاً جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ بالآخر ایک عرصے بعد شہباز شریف کا بیانیہ پارٹی پر غالب آگیا، نتیجتاً ن لیگ کے رہنماؤں کو ذرا سکون میسر آگیا۔ اندرون خانہ کیا معاملات طے کیے گئے اس حوالے سے مصدقہ معلومات تو میڈیامیں نہ آئیں لیکن ن لیگ کی سانسیں بحال ہوتی سب نے دیکھیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانتیں ہوئیں اور پھر ن لیگ کے قائد کو علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے کی اجازت بھی مل گئی۔ اس سے قبل جس رفتار سے معاملات آگے جارہے تھے، لگتا تھا کسی بھی دن شہباز شریف بھی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، لیکن وہ اپنے بھائی کے ساتھ لندن جاپہنچے۔ ان معاملات پر حکومتی ذمہ داران نے بھی کچھ عرصہ خلاف معمول پراسرار سی خاموشی اختیار کیے رکھی۔ این آر او نہ دینے کے بیانات دم توڑنے لگے۔ پھر ن لیگ نے آرمی سروسز ایکٹ میں حکومت کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تو اس کے حامی اور مخالف سب حیران رہ گئے۔ زیادہ تر حامیوں کو غصہ ہے کہ یہی نتیجہ نکالنا تھا تو قیادت نے پہلے ہی معاملہ فہمی سے کام کیوں نہ لیا؟ اگر اس طرح سے سینگ نہ پھنسائے جاتے تو پارٹی تونقصان سے بچتی ہی، ملک کو اس عرصے کے دوران جو نقصان ہوا، اس سے بھی بچا جاسکتا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ 3 برس کے دوران پاکستانی سیاست میں جو ماحول برپا رہا اس کا براہ راست اثر معیشت پر بھی پڑا۔ شرح نمو جو 5.8 فیصد تک جا پہنچی تھی، خطرہ ہے اس برس یہ گِر کر 2.4 فیصد پر آ جائے گی۔ ترقی کی شرح کم ہونے سے نئی نوکریاں تو دور، لاکھوں لوگوں کی پرانی نوکریاں بھی چلی گئیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ روپے کی قدر میں گراوٹ اور مہنگائی میں اضافہ بھی سب نے دیکھا اور محسوس کیا، گویا اس کشمکش نے چلتی پھرتی پاکستانی معیشت کو سیدھا آئی سی یو میں پہنچادیا۔

اس تمام لڑائی کے بعد آرمی سروسز ایکٹ میں ترمیم کے لیے تمام بڑی جماعتیں ابھی اکٹھی ہوکر بیٹھیں تو ہمارے سمیت، بہت سے پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیا۔ خیال تھا اس سے ملکی سیاست میں استحکام آئے گا اور مستقبل میں بھی قانون سازی کے لیے سیاسی جماعتیں اکٹھی بیٹھیں گی، جس افہام و تفہیم کا مظاہرہ اس معاملے میں کیا گیا، دیگر اہم ملکی معاملات میں بھی نظر آئے گا۔ تاہم اس قانون سازی کے 10 روز بعد ہی سیاسی ماحول تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے، گرما گرمی واپس لوٹ رہی ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ درجہ حرارت حکومتی ارکان کی جانب سے بڑھایا جارہا ہے۔ چند تجزیہ کاروں کا خیال یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ ان کی پریم کہانی میں دو رقیبوں کا اضافہ ہوگیا ہے، کسی بھی وقت ان کے ”محبوب“کی توجہ کہیں رقیبوں کی طرف نہ ہو جائے۔ لہٰذا یہ طعنے اور جملے اس لیے کسے جارہے ہیں کہ ٹینشن کی صورت حال برقرار رہے اور کوئی دوسرا آپشن زیر بحث آئے ہی نہ۔ اسی طرح ن لیگ کو جو ریلیف دئیے گئے تھے بظاہر نظر آ رہا ہے کہ وہ واپس لینے کی کوشش ہو رہی ہے۔یہ کوشش نواز شریف کی صحت کے معاملے میں واضح ہے۔ نواز شریف کو ملک سے روانہ کیا گیا تو حکومت نے ڈاکٹروں اور ٹیسٹوں کے ذریعے اچھی طرح اپنی تسلی کی، تاہم اب اْن کی ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تصویر سامنے آئی تو لگ رہا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نواز شریف کی صحت کا ہے۔ دو روز سے حکومتی وزراء دن رات نواز شریف کی صحت پر تبصرہ کرتے نظر آرہے ہیں، ساتھ ہی ان کی وطن واپسی کے لیے کارروائی شروع کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں اور مریم نواز کی روانگی کا راستہ روکنے کا اعلان بھی کیا جاچکا ہے۔

ان حالات میں اہل سیاست سے ہماری ایک ہی گزارش ہے کہ خدارا آپس کے اختلافات بھلا کر چند لمحے پاکستانی عوام کی بہتری کا بھی سوچیں۔ ذرا معیشت کی پتلی حالت پر بھی غور کریں، ترقی کا پہیہ چلانے اور عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوششوں میں بھی تھوڑا وقت صرف کریں۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران جو واقعات رونما ہوئے وہ سب کے سامنے ہیں۔ پاکستانی عوام میں اب بہت سیاسی شعور آچکا ہے، وہ سمجھتے ہیں ن لیگ کو اقتدار سے کس نے اور کیسے نکالا اور تحریک انصاف کو حکومت میں کون اور کیسے لے کر آیا۔ ن لیگ نے آرمی سروسز ایکٹ میں حکومت کا ”غیر مشروط“ ساتھ کیوں دیا، یکدم قریباً تمام اپوزیشن رہنما جیلوں سے باہر کیسے آگئے، نیب کے پَر یکدم کیسے کاٹ دئیے گئے، ان میں سے کوئی بھی بات اب راز نہیں رہ گئی۔ غرضیکہ کون کتنے پانی میں ہے، اس ملک کے عوام، سیاستدان اور صحافیوں، سب کو سب معلوم ہے۔ طعنے مار کر ایک دوسرے کو زچ کرنا بے فائدہ اور وقت کا ضیاع ہے۔ فوج کو سیاسی بحثوں میں گھسیٹ کر پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کرنے سے اس کی خدمت نہیں کی جا رہی، بلکہ متنازع بنایا جا رہا ہے، جو موضوع اپوزیشن جماعتیں دفن کرنے کے لیئے تیار نظر آتی ہیں، حکومتی وزرا زبردستی اس پر بحث جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان باتوں سے اجتناب بہتر ہے۔ اب ہمارے سیاستدان کارکردگی پر توجہ مرکوز کرلیں، ملکی مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔ سڑک پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے کپڑوں کے داغ لوگوں کو دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں کہ سب کے کپڑوں پر داغ تو ایک جیسے ہیں، دوسرے پر کیچڑ اچھالیں گے تو اپنے داغ بھی مزید نمایاں ہوں کے، اگر ایک دوسرے کا تھوڑا لحاظ کریں تو سب کا ہی بھلا ہوگا۔

مزید : رائے /اداریہ