ثبات اک تغیر کو…………

ثبات اک تغیر کو…………
 ثبات اک تغیر کو…………

  



”ثبات اک تغیر کو ہے، زمانے میں“ جی! یہ بہت بڑی حقیقت ہے، یہاں آنکھیں ترس گئیں، کان بہرے ہو گئے، اور بھوک نے پیٹ سکیڑ دیئے، استحکام استحکام اور استحکام،لیکن یہاں تو ثبات ہی تغیر کو ہے۔تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان مطمئن اور مسرور ہی نہیں، کچھ زیادہ ہی پُراعتماد تھے۔ان کو یقین تھا اور شاید اب بھی ہو کہ وہ تو آئے ہی حکمرانی کے لئے ہیں،لیکن یہ یاد نہیں تھا کہ جو آشیانہ نازک شاخ پر بنے وہ پائیدار نہیں ہوتا،اور اب اچانک جب سب کچھ اچھا تھا تو تغیر کا عمل شروع ہو گیا،اور سیاست میں یہ ایسی تبدیلی ہے، جو موجود تو تھی نظر اب آئی ہے۔جونہی حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتوں نے اپنی دوڑ کو سیر صبح میں تبدیل کیا، یہاں پتے ہوا دینے لگے اور پہلا قطرہ وہ لوگ اور وہ جماعت بنی جو اس فن کی ماہر ہے، جی!ہاں، یہ ایم کیو ایم ہے جو اٹل ہے تو صرف ایک بات پر کہ بظاہر بانی سے الگ ہو گئی،بانی کی مذمت یا پاک سرزمین پارٹی کے مصطفےٰ کمال کی طرح واضح طور پر علیحدگی اور بانی کی مذمت کا اعلان نہیں کیا،اب تک صرف یہی کہا گیا کہ لندن سے تعلق ختم کر دیا ہے،اور تو اور محترم وفاقی وزیر قانون نے بھی ابھی تک اپنے ”نیلسن منڈیلا“ والے فلسفے کی نفی نہیں کی۔

اچانک بننے والی یہ صورتِ حال قطعاً فوری نہیں ہے، یہ موجود تھی، ”حالات کا جبر“ ہلنے نہیں دیتا تھا، ورنہ وہ کون سا دور ہے جب یہ حضرات اقتدار سے منسلک ہو کر اور پھر علیحدہ نہیں ہوئے، ہمیں تو وہ سین بھی یاد ہیں،جو اب ماضی ہو چکے اور شاید لوگوں کے ذہنوں سے بھی محو ہو گئے، ہم نے دیکھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا قافلہ نائن زیرو کی طرف روانہ ہوا تو وہاں جشن کا سماں تھا، علاقے کو سجایا گیا اور محترمہ کا انتہائی پُرجوش استقبال بھی ہوا، پھر الطاف بھائی، محترمہ بے نظیر بھٹو کے بھائی بھی بن گئے، بڑے بڑے دعوے اور بڑی بڑی باتیں ہوئیں،چنانچہ ایم کیو ایم اقتدار میں شریک ہو گئی،یہ نظارہ شاید کبھی بھی آنکھوں سے محو نہ ہو سکے،تاہم ایک اور منظر بھی یاد آتا ہے، بانی کو لاہور بلایا گیا،زبردست استقبال ہوا،خود محمد نواز شریف نے بلائیں لیں اور مینارِ پاکستان پر جلسے سے خطاب کا موقع بھی فراہم کیا گیا،ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ بانی پرل کانٹی نینٹل میں ٹھہرے۔

ان کی سیکیورٹی اپنی تھی اور یہاں انہوں نے اسی سیکیورٹی کے حصار میں پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ یہ پریس کانفرنس تو کیا تھی۔ ایک طویل لیکچر تھا جو الطاف حسین نے دیا، ہم سب بیٹھے بیٹھے تھک گئے اور ان کا منہ تکتے رہ گئے،بالآخر ہم نے اُٹھ کر گذارش کی کہ آپ اپنا بیان ختم کریں اور حاضرین کو سوالات کی اجازت دیں،ان کو بُرا لگا، تاہم سوال کی اجازت دے دی۔ہمارے بعض نوجوانوں نے ان سے پنجابی میں بھی سوالات کئے اور یہ اجتماع (پریس کانفرنس تو نہ ہوئی) بدمزگی سے ختم ہوا تھا، اور پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایم کیو ایم پیپلزپارٹی سے الگ ہوئی تو اس کی مسلم لیگ(ن) سے بھی نہ بن سکی۔ اس سلسلے میں ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ ہم نے چودھری اعتزاز احسن سے پوچھا کہ اتنے پُرجوش طریقے سے بھائی، بہن کا رشتہ بنا اور ٹوٹ بھی گیا،کیا وجہ ہوئی، چودھری اعتزاز احسن نے کہا ”ان کی کسی کے ساتھ بھی نہیں نبھ سکتی کہ یہ حضرات بہت مختصر مطالبات کے ساتھ اتحاد بناتے ہیں، اور پھر بتدریج ان کی خواہشات بڑھتی ہوئی سامنے آتی رہتی ہیں، پھرایک روز بند گلی آ ہی جاتی ہے کہ ان کے مطالبات پورے نہیں ہو پاتے، وہیں ان کے تحفظات شروع ہو جاتے ہیں اور وقت کا انتظار کر کے یہ حضرات کشتی سے چھلانگ لگا دیتے ہیں، یوں ناتا ٹوٹ جاتا ہے“۔ چودھری اعتزاز احسن کی یہ بات بالکل درست اور ہر مرتبہ صحیح ثابت ہوئی، چنانچہ آج پھر وہ وقت آ گیا جب متحدہ والوں نے اپنا پانسہ پھینک دیا،دلچسپ امر تو یہ ہے کہ کچھ بھی نہ کہا سب کہہ بھی گئے۔

محترم خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا اور اب بھی اس پر قائم ہیں،تاہم کہا یہ کہ ہم نے اپنے تحفظات ظاہر کئے ہیں،علیحدگی نہیں ہوئی، نہ حمایت سے دستبردار ہوئے ہیں،ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے ہی پورے نہیں کئے گئے،یہاں ایک اور دلچسپ منظر بھی سامنے ہے کہ استعفیٰ کا اعلان خالد مقبول صدیقی نے کیا۔ڈاکٹر فروغ نسیم بدستور کابینہ میں موجود ہیں اور ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ ان کو وزارت بطور ٹیکنو کریٹ دی گئی، ان کی وزارت کا تعلق ایم کیو ایم کوٹے سے نہیں،اور یوں یہ معاملہ بھی صاف ہو گیا کہ ایم کیو ایم ایک اور وزارت کیوں مانگتی ہے۔یوں پہلا قطرہ گرا تو دوسرے حلیفوں کو بھی اپنے تحفظات یاد آنے لگے،حتیٰ کہ مسلم لیگ(ق) کو بھی یاد آ گیا کہ مونس الٰہی ہونہار اور اہل تر ہونے کے باوجود ابھی تک وفاقی وزارت حاصل نہیں کر سکے،جہاں تک جی ڈی اے اور محترم اختر مینگل کا تعلق ہے تو بظاہر ان کی خواہش کوئی بڑی نہیں، جی ڈی اے تو یہ اتفاق رائے ابھی سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ سندھ تقسیم نہیں ہو گا، یہ ایم کیو ایم سے تضاد اور پیپلزپارٹی کے موقف سے اتفاق بھی ہے اور اختر مینگل تو کافی دِنوں سے اپنے چھ نکاتی مطالبے کی پذیرائی نہ ہونے کا شکوہ کر رہے تھے۔

یوں یہ تغیر آیا تو سب کچھ سامنے آ گیا،اور جو اطمینان کپتان اور اس کی ٹیم کو تھا وہ سخت بے چینی میں تبدیل ہو گیا،اور اب ان سب کو راضی کرنے کے لئے پارٹی کے معتبر حضرات کو حرکت میں لانا پڑا، اسد عمر کامیاب نہیں ہوئے،اب جہانگیر ترین میدانِ عمل میں ہیں اور وہ اِس میدان کے شہسوار ہیں کہ ان کے جہاز کی سواری کرنے والے آزاد اراکین بھی تحریک انصاف کا حصہ بن جاتے ہیں۔یہ صورتِ حال ٹھیک بھی ہو جائے گی کہ خود کپتان کے اٹل ارادے بھی متزلزل ہوئے ہیں اور وہ خود کہہ رہے ہیں کہ تحفظات دور کر دیں گے اور یقینا ایسا ہو بھی جائے گا کہ جہانگیر ترین کی ”یقین دہانی“ قابل بھروسہ ہے، تاہم یہ جو تیلی لگا کر سلگائی گئی ہے تو یہ بجھ نہ پائے گی، یہ اتحادی مطمئن نہیں ہوں گے؟ جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کے درمیان پیپلزپارٹی دشمنی مشترکہ صحیح،لیکن سندھ میں مزید صوبوں کے مسئلے پر شدید تنازعہ ہے اور رہے گا،اسی طرح اختر مینگل کا ”گم شدہ افراد“ کی واپسی کا معاملہ بھی بہت مشکل مرحلہ اور پیچیدہ ہے،آسان ہوتا تو اب تک حل ہو چکا ہوتا،یہ معاملہ جلد نمٹ نہیں سکے گا اور تنازعہ موجود رہے گا۔ اس پورے سلسلے میں خود تحریک انصاف والوں کے دِل ٹٹولیں تو ان کے اندر اضطراب کی لہریں محسوس ہو جائیں گی،اِس لئے یہ سب اب تغیر ہی تغیر ہے،سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کہ ادھر ”قانون سازی“ میں افہام و تفہیم ہو گئی اور ادھر مطالبات شروع! فیصلہ آپ کی اپنی ذہانت پر کہ یہ ایک کھلا سوال اور جواب بھی سامنے ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...