”دونوں میں سے ایک بات ضرور ہے“

”دونوں میں سے ایک بات ضرور ہے“
 ”دونوں میں سے ایک بات ضرور ہے“

  



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مواخذے سے بچنے اور آئندہ الیکشن میں کامیابی کے لئے دُنیا بھر کا امن و سکون داؤ پر لگا دیا ہے۔موجودہ بین الاقوامی بحران،جو ایرانی کمانڈر فورس القدوس کے سربراہ، جنرل قاسم سلیمانی کی بغداد ایئر پورٹ سے نکلتے ہوئے امریکی ڈرون حملے میں شہادت کے نتیجے میں پیدا ہوا،امریکی صدر کی دھمکیوں کے باوجود ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی تدفین سے قبل ہی امریکی دہشت گردی کا بدلہ لینے کے لئے عراق میں دو امریکی فوجی ہوائی اڈوں پر ایک درجن سے زائد میزائل داغ دیئے اور امریکہ کو خبردار کیا کہ امریکہ نے کسی قسم کی پیشرفت کی تو ایران مزید کارروائیاں کرنے کے لئے تیار ہے۔امریکہ اِس وقت دُنیا کی واحد سپر پاور ہے اور امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ طاقت کے نشے میں انتقام کی آگ بجھانے کے لئے غصے میں پاگل ہو کرکیا کر بیٹھے؟جس پر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علاوہ دُنیا کے دیگر مہذب ملک پریشان ہیں۔

جنرل قاسم سلیمانی ایرانی قیادت میں بہت اہم شخصیت،بہت زیادہ اختیارات کے مالک اور انتہائی طاقتور فوجی کمانڈر تھے۔انہوں نے عراق سے داعش کا قلع قمع کیا،جو بہت بڑا کارنامہ ہے، جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،لیکن ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کو امریکیوں کی جانیں بچانے کے لئے ہلاک کیا گیا ہے،مگر امریکی صدر کا یہ کہنا درست دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ایران اور عراق کی مقبول ترین شخصیت تھے،ان کی شہادت کے بعد ان کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، اور ان کی تدفین کے موقع پر سڑکوں پر نکل آئے۔آج دُنیا بھر میں ان کی حمایت میں امریکی جارحیت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔عراقی پارلیمینٹ نے عراق میں مقیم امریکی افواج کو نکالنے کی قرارداد منظور کی ہے۔امریکی ہٹ دھرمی،بین الاقوامی بدمعاشی کے زمرے میں آتی ہے۔وہ عراق سے اپنی افواج نکالنے کی بجائے عراق سمیت ایران کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ عراقیوں کی سرزمین ہے،ان کی مرضی، خواہش اور رضامندی کے بغیر تو امریکہ کا سفارت خانہ بھی کام نہیں کر سکتا،چھ ہزار کے قریب امریکی فوج کس طرح عراق میں رہ سکتی ہے؟

ایک رپورٹ کے مطابق خلیجی ریاستوں میں 65 ہزار کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں۔ امریکی اخبار کی خبر کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں اِس وقت تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد45 ہزار سے65 ہزار کے درمیان ہے۔شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد 600 کے قریب ہے۔گزشتہ سال مئی میں مبینہ ایرانی حملوں کے بعد پینٹاگون نے خلیج فارس میں 14 ہزار اضافی فوجی تعینات کر دیئے تھے، ان میں سعودی عرب میں بھیجے گئے ساڑھے تین ہزار فوجی بھی شامل ہیں۔ امریکہ، ایران کشیدگی کی وجہ سے دُنیا بھر میں سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں مندی کے زبردست رجحان کے باعث سونے، پٹرولیم کی قیمتوں پر ماہرین معیشت سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟امریکہ نے اپنی فضائی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو عراق کے ہوائی اڈے سے نکلتے ہوئے فوجی ساتھیوں سمیت ہلاک کر کے اپنے آپ کو دُنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا ثبوت دیا ہے،لیکن ایران امریکہ کی جارحیت سے گھبرایا نہیں،اس نے اطلاع دے کر عراق میں اس کے دو ہوائی فوجی اڈوں پر میزائل داغ کر اپنے باہمت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اگر ان دو ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے، تو اس آگ کے شعلے مشرق وسطیٰ کے ممالک تک جائیں گے۔

بحرانی کیفیت امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہوئی ہے اور معیشت پاکستان کی ہچکولے کھا رہی ہے۔یہ سب کِیا دھرا پاکستان کی کمزور حکومتی معاشی ٹیم کا ہے۔سولہ سترہ ماہ سے پاکستان کے معاشی حالات بُرے تھے، حکومت زبانی جمع خرچ کر کے عوام کو طفل تسلیاں دیتی آ رہی تھی کہ امریکہ ایران بحران اور جنگی حالات کی وجہ سے ملک کی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ مہنگائی میں اضافے اور سٹاک مارکیٹ کو جھٹکے لگنے سے کاروباری حلقوں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔سرمایہ دار اور تاجر سٹاک مارکیٹ میں آئے روز کے گھاٹے اور حکومت کی ناقص پالیسیوں سے گھبرا کر سٹاک مارکیٹ اور کاروبار میں لگے سرمائے کو نکال کر سونے کی خریداری اور فکسڈ انکم منافع کی سکیموں میں لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں، جو انتہائی تشویش کی بات ہے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے،جس کا تمام تر انحصار درآمدی تیل پر ہے۔ تیل کی قیمت میں ایک ڈالر کا بھی اضافہ ہو گیا تو اس کے اثرات پاکستان کے ریزرو ذخائر اور مہنگائی دونوں پر مرتب ہوں گے۔موجودہ حکومت کے کمزور پالیسی سازوں کی ٹیم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ڈوبتی ہوئی معیشت پر قابو پانے میں بُری طرح ناکام ہے۔2019ء کا سال بھی مہنگائی کے طوفان میں گزرا۔ حکومت کا اپنا ایک وفاقی شماریاتی ادارہ ہے، اس کی رپورٹ کے مطابق دسمبر2019ء کے تیسرے ہفتے کے دوران مہنگائی میں ہفتہ وار اضافہ ہوا اور اس اضافے کی اوسط شرح18.5فیصد تک جا پہنچی۔ دسمبر 2018ء کے چوتھے ہفتے میں یہ شرح 5.5فیصد تھی۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019ء میں کھانے پینے اور روزمرہ کے استعمال کی51بنیادی اشیاء میں سے47 اشیاء گزشتہ سال2018ء کے مقابلے میں 174فیصد تک مہنگی ہو چکی ہیں،یعنی معاشی ترقی کی صورت میں گزشتہ سال2018ء کے دسمبر میں مہنگائی کی شرح5.5فیصد تھی، وہ مزید کم ہوئی، مگر 2019ء کے ماہِ دسمبر میں حکومتی ادارے کے مطابق مہنگائی کی شرح بڑھ کر18.5فیصد ہو گئی۔

دراصل بڑھتی ہوئی مہنگائی حکومت کی اپنی پیدا کردہ ہے، آئے روز مہنگائی میں ہونے والے اضافے سے حاصل ہونے والی رقم سے آئی ایم ایف کو قرضوں کی اقساط اور سعودی رقم طے شدہ معاہدے کے مطابق مل رہی ہے۔وہ موجودہ حکومت سے خوش ہے،لیکن ہمدرد اور مہربان نہیں ہے،اسے پاکستانی معیشت کے بارے میں اس حکومت میں بیٹھے تنخواہ دار مہربان سب کچھ بتا رہے ہیں۔ حکومت کے معاشی ترقی کے تمام دعوؤں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔حکومتی ترجمانوں کو طوطے کی طرح جو پڑھایا جاتا ہے،وہی بیان کیا جا رہا ہے۔ موجودہ دور اس حکومت میں سب سے زیادہ اضافہ جان بچانے والی ادویات میں ہوا۔ادویات کی قیمتوں کا کاروبار کرنے والے لوگوں اور اداروں کے بارے میں نیب اور ایف آئی اے ہی سراغ لگا سکتی ہے کہ یہ مافیا حکومتی کیمپ میں بیٹھا ہے یا ان کی حمایت میں کاروبار چلا رہا ہے……دونوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...