انہونیاں جو معمول بن چکی ہیں

انہونیاں جو معمول بن چکی ہیں
 انہونیاں جو معمول بن چکی ہیں

  



پاکستان کچھ برسوں سے انہونیوں کی گرفت میں ہے۔ سب سے بڑی اور ناقابلِ یقین انہونی پاکستان کی دونوں مین سٹریم پارٹیوں کی 2018ء کے عام انتخابات میں شکست تھی۔ ایک تیسری پارٹی جو برسراقتدار آئی اور جس نے مرکز اور تین صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائیں وہ نو عمر ہونے کے ساتھ ساتھ نو آموز بھی تھی۔ نئے لوگ تھے اس لئے ان کو رموزِ مملکت چلانے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ ان کو خود یقین نہیں تھا کہ ایسا ہو جائے گا لیکن جب یہ سب کچھ ہو گیا تو شکست خوردہ سیاستدانوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ان کا استدلال تھا کہ یہ سب کچھ پاکستان آرمی کا کیا دھرا ہے۔ لیکن پاکستان آرمی پر یہ الزام نیا نہیں تھا۔ جب بھی الیکشن ہوئے اور دونوں مین سٹریم سیاسی پارٹیوں میں سے ایک پارٹی کو شکست ہوئی تو اس نے دھاندلی کا جو الزام لگایا اس میں پاک فوج کو ملوث کیا گیا۔ لیکن 2018ء کے الیکشن اس لحاظ سے ملک کی سیاسیات میں ایک واٹرشیڈ تھے کہ دونوں پارٹیوں کی ہار میں آرمی کو ملوث کیا گیا اور آرمی نے بھی کھل کر نئی اور فاتح پارٹی کی حمائت کی۔

حکومت تو بن گئی لیکن جو لوگ حکومت سازی میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں، وہ فوج کے جرنیل نہیں بلکہ وہ سرمایہ دار اور تاجر ہوتے ہیں جن کے مفادات پر ان الیکشنوں نے کاری ضرب لگائی۔ اس لئے انہوں نے اول اول ڈٹ کر نئی حکومت کی راہ میں مزاحمتی دیواریں کھڑی کیں۔ مہنگائی کا عفریت اتنا زیادہ بھیانک نہ ہوتا اگر یہ تاجر طبقہ نئی حکومت کا ساتھ دیتا۔ نئی حکومت نے ٹیکس کلچر کی عالمگیر روائت کو اپنانے کی طرف پیش رفت کی تو اس کو سخت ناکامی ہوئی۔ اس کھینچا تانی میں ملک کا وہ طبقہ بُری طرح متاثر ہوا جو پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہا تھا۔ اس طبقے کے ساتھ تنخواہ دار طبقہ بھی شدت سے متاثر ہوا۔ اگر کوئی گروپ مہنگائی سے لاتعلق رہا تو وہ صرف ایسے تاجر اور سرمایہ دار تھے جن کو مہنگائی وغیرہ سے کوئی لینا دینا نہ تھا۔

اس ”تبدیلی“ کی انہونی کے بعد تو گویا انہونیوں کی لائن لگ گئی…… پاکستان میں گزشتہ 17ماہ میں ایسے ایسے ناقابل یقین واقعات پیش آئے کہ ایک اوسط فہم و فراست کا شہری سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ الیکٹرانک میڈیا نے اس ”تبدیلی کلچر“ میں بہت کچھ کھویا اور بہت کچھ پایا۔ درجنوں ٹی وی چینل اپنے پرائم ٹائم (شام سات بجے سے لے کر رات بارہ بجے تک) میں باجماعت صرف اسی ایشوز پر نقد و نظر کرتے دکھائی اور سنائی دیئے جو حکومتی اقدام کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے یا عدلیہ نے ایسے فیصلے کئے جو ناقابل یقین حد تک حیران کن تھے۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس نے جاتے جاتے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کو ہضم کرنا پاکستان جیسی ڈوبتی ڈگمگاتی ریاست کے لئے بڑا ہی مشکل تھا۔تاہم فاضل چیف جسٹس نے ایک دریچہ کھلا بھی رکھا اور حکومت کو 6ماہ کی مہلت دی کہ اگر آنے والے چھ ماہ میں سروس چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کو ریگولرائز نہ کیا گیا تو موجودہ آرمی چیف گھر چلے جائیں گے۔اس فیصلے سے پاکستان کی بڑی جگ ہنسائی ہوئی۔ لیکن اس کے بعد جب پارلیمان میں سروس چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے اختیارات کا سوال اٹھا تو ایک اور انہونی نے جنم لیا۔ ساری اپوزیشن حکومت کے ساتھ مل گئی اور وہ چند معمولی حیثیت کی سیاسی پارٹیاں جن کا ہونا نہ ہونا برابر تھا،ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا کر عوام میں ”سرخرو“ ہو گئیں۔ سب سے زیادہ حیران کن اَن ہونی نوازشریف کا وہ فیصلہ تھا جس میں نون لیگ کے اراکین اسمبلی نے اپنے باس کی ہاں میں ہاں ملائی اور توسیع کا یہ بل دیکھتے ہی دیکھتے ایک دو روز کے اندر اندر قانون بن گیا۔ اس کے بعد جو میڈیائی سیاپا شروع ہوا تو ہوتا ہی چلا گیا لیکن سانپ نکل گیا تھا، چند ”دانوں“ نے لکیر پیٹی تو اپنا ہی نقصان کیا۔ ایک فیصلہ کرنے والا لندن میں بیٹھا تھا تو دوسرا عمرے پر چلا گیا…… پتہ نہیں وہ واپس آکر اپنی پارٹی کے جیالوں کو کیا منہ دکھائے گا۔

اس کے بعد ایک اور انہونی سابق آرمی چیف اور سابق صدر مملکت کی وہ سزا تھی جو ایک خصوصی عدالت کی طرف سے سنائی گئی۔دنیا کی کسی بھی عدالت نے اپنے فیصلے میں آج تک یہ نہیں لکھا تھا کہ مجرم اگر مر بھی جائے تو اس کی لاش کو گھسیٹ کر دارالحکومت کے کسی معروف چوک میں پھانسی پر لٹکا کر اسے نشانِ عبرت بنا دیا جائے۔ یہ یاد رہے کہ یہ خصوصی عدالت سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی تھی۔6برس تک مقدمہ چلتا رہا…… لیکن پھر خصوصی عدالت نے جو فیصلہ دیا اسے لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس خصوصی عدالت کا قیام ہی غیر قانونی قرار پایا……یوٹرن کی بھی ایک حد ہوتی ہے لیکن جسٹس صاحبان کی برادری نے تو کمال ہی کر دیا۔ اگر ملک میں سپریم کورٹ کے بعد کوئی اور سپر سپریم کورٹ بھی ہوتی تو نہ جانے اور کیا کیا کمال ہوتے۔

اگلے روز ایک اور عدالتی انہونی وقوع پذیر ہوئی…… کرنل(ر) انعام الرحیم ایک مدت سے سروسز کے رینک اینڈ فائل کو زچ کر رہے تھے۔ افواجِ پاکستان کے خلاف اگر کوئی مدعی اٹھ کھڑا ہوتا اور عدالت کا رخ کرنا چاہتا تو کرنل رحیم سب سے پہلے اس کی ہاں میں ہاں ملاتا۔ لوگ (اور خاص کر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی) حیران ہوتے کہ یہ گھر کا بھیدی کہاں سے پیدا ہو گیا ہے کہ لنکا پر لنکا ڈھائے چلا جا رہا ہے۔ اب پتہ چلا کہ موصوف پاکستان مخالف جاسوسی نیٹ ورک کے کرتا دھرتاؤں میں شامل تھے۔ اس کرنل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئی ایس آئی اور ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں انتہائی اہم اور خفیہ معلومات دشمن کو لیک (Leak) کی ہیں۔ چنانچہ جب یہ سارے ثبوت مل گئے تو گزشتہ برس 17دسمبر کو کرنل رحیم کو پکڑ لیا گیا۔ وہ اب فوج کی تحویل میں ہے۔ لیکن اندازہ فرمایئے کہ اتنے سنگین جرم کے مرتکب شخص کو لاہور ہائیکورٹ نے رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

ناچار حکومت کو سپریم کورٹ جانا پڑا۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت عظمیٰ کے سامنے وہ ثبوت پیش کئے جن کی رو سے کرنل رحیم کو تحویل میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں دشمن کو حساس معلومات فراہم کرنے کی پاداش میں حال ہی میں ایک شخص کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔ ایک اور مجرم کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔یہ کرنل رحیم بھی ایسے ہی جاسوسی نیٹ ورک کے لئے کام کر رہا تھا۔ جب یہ شواہد سپریم کورٹ کے ایک فل بنچ کے سامنے پیش کئے گئے تو عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کے احکاماتِ رہائی کو (عارضی طور پر)معطل کرتے ہوئے کرنل رحیم کو فوج کی تحویل سے رہا نہ کرنے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ کے اس فل بنچ میں جسٹس منیر عالم، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل تھے۔

ان انہونیوں کے علاوہ کئی اور دلچسپ لیکن کم اہم انہونیاں بھی غور طلب ہیں۔ مثلاً مریم نواز کو چپ کیوں لگ گئی ہے، کیا نون لیگ اور حکومت کے درمیان کوئی NRO ہو گیا ہے، نوازشریف کی بیماری کی رپورٹ کیوں مسترد کی گئی ہے، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفیٰ کیوں دے دیا ہے، رانا ثناء اللہ پارلیمان کے اجلاس میں قران بدست ہو کر کیوں گرج رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں شہریار آفریدی کھل کر کیوں برس رہے ہیں؟…… وغیرہ وغیرہ……

ان ملکی انہونیوں کی طرح عالمی سطح کی کئی انہونیاں بھی قابلِ توجہ ہیں …… اس برس موسم سرما کی شدت سے تقریباً ایک سو سے زیادہ پاکستانی موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں، سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں اور اربوں روپوں کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ یہ موسمی تبدیلی کا ایک رخ ہے اور دوسرا رخ آسٹریلیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وہاں شدتِ گرما کے سبب کئی ماہ سے سارا آسٹریلیا آگ کی لپیٹ میں ہے۔ تمام بڑے بڑے ساحلی شہروں کے جنگلات جھلس رہے ہیں، لاکھوں مویشی، جانور اور پرندے ہلاک ہو چکے، جنگلات خاکستر بن چکے اور بن رہے ہیں۔ آگ بجھانے کی تمام انسانی تدابیر بیکار ہو گئی ہیں۔ وہ جو ماضی قریب میں ایک کافر آسٹریلوی نے مسجد میں سربسجود مسلمانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا، اس کی سزا ساری آسٹریلوی قوم کو اتنی جلد بھگتنی پڑے گی اس کا علم کسی کو بھی نہ تھا…… بعض خدائی فیصلے کتنے عاجل اور کتنے ہولناک ہوتے ہیں!

لیکن آسٹریلوی انہونی کا ایک اور دوسرا رخ بھی ہم نے نئے سال کے سورج کے طلوع پر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے شہروں میں دیکھا۔ آتش بازی اور دھماچوکڑی کا یہ مظاہرہ جب ولنگٹن، سڈنی، ملبورن، پرتھ وغیرہ میں ہو رہا تھا تو اس وقت بھی آسٹریلیا کے چاروں طرف آگ لگی ہوئی تھی۔اس براعظم کی باسی یہ قوم جب یہ کھوکھلی خوشیاں منا رہی تھی تو مجھے روم کا نیرو یاد آ رہا تھا کہ جب روم جل رہا تھا تو وہ بانسری بجا رہا تھا۔ آج کا روم گویا سارا آسٹریلیا ہے اور آج کا نیرو ساری آسٹریلوی قوم ہے…… کوئی سوچ سکتا ہے کہ کسی گھر میں آگ لگی ہو اور اس کے مکین باہر نکل کر گلی کوچوں میں چراغاں کر رہے ہوں؟…… لیکن یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ڈنکے کی چوٹ ہو رہا ہے۔ کسی فارسی شاعر نے اس صورت حال کی عکاسی دیکھئے کس خوبصورت انداز میں کی ہے:

بسے نادیدنی ہا دیدہ ام من

مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے!

]میں نے کیا کیا انہونیاں نہیں دیکھیں …… کاش میری ماں نے مجھے جنم ہی نہ دیا ہوتا![

مزید : رائے /کالم