ای ٹکٹنگ سسٹم ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا: ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی

ای ٹکٹنگ سسٹم ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا: ڈاکٹر ...

  



پشاور(کرائمز رپورٹر) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثنائاللہ عباسی نے کہا ہے کہ الیکٹرانک ٹکٹنگ سسٹم ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ان خیا لا ت کا اظہا ر انہوں نے گزشتہ روز پولیس لائنز پشاور میں ای ٹکٹنگ سسٹم کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطا ب کرتے ہو ئے کیا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان مہمان خصوصی تھے جس میں صوبائی وزراء، ممبران صوبائی اسمبلی، سول و اعلیٰ پولیس حکام نے کثیر تعداد میں شرکت کی انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کا ٹریفک نظام اس کے اجتماعی ڈسپلن کا آئینہ دا ر ہوتا ہے۔ اگر کسی شہر میں ٹریفک کا نظام اچھا اور معیاری ہو، تو اسکا اثر براہ راست امن و آمان پر بھی پڑتا ہے۔ ٹریفک کے نظام میں بہتری سے مجموعی پولیسنگ کے معیار کو بڑھایا جاسکتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آئے روز ہر شعبہ زندگی میں جدید تقاضوں کے مطابق نت نئے قوانین اور نظام متعارف کرائے جاتے ہیں۔ جنکا اولین مقصد نئے چیلنجوں اور درپیش مشکلات کی روک تھام کرکے عوام کو بہتر زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ ای ٹکٹنگ کا ٹریفک نظام،عوام کی سہولت، بدعنوانی اور کرپشن کے خاتمے اور نئے دور کی نئی سہولت کے تصور کے پیش نظر متعارف کرایا جارہا ہے۔ یہ نظام طویل غور و خوض اور مختلف ممالک کے ٹریفک انتظامات کا جائیزہ لیکر مقامی حالات اور ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔آئی جی پی نے ای ٹکٹنگ ٹریفک کو صوبے کے عوام کے لیے موجودہ حکومت کی سرپرستی میں خیبر پختونخوا پولیس کا ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے عوام کو ٹریفک کے حوالے سے مثبت اور نمایاں تبدیلی محسوس ہوگی۔ آئی جی پی نے کہا کہ اس نظام کے پہلے مرحلے میں تمام اضلاع کے اہلکاروں کو ضروری تربیت دی گئی ہے۔ جسمیں تعلیم یافتہ، عوام دوست، دیانتدار اچھے اخلاق اور کردار کے حامل ٹریفک پولیس اہلکاروں کو شامل کیا گیا ہے، نئے تربیت یافتہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کسی کو معاف نہ کریں۔ ڈاکٹر ثنائاللہ عباسی نے کہا کہ موجود حکومت نے مختصر وقت میں پولیس فورس کے مسائل کے حل اور فلاح و بہبود کے لیے تاریخی اقدامات اُٹھائے ہیں جو پولیس کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر