آزاد کشمیر پر حملے کی بھارتی دھمکی

آزاد کشمیر پر حملے کی بھارتی دھمکی
آزاد کشمیر پر حملے کی بھارتی دھمکی

  



بھارتی آرمی چیف جنرل منوج موکنڈ نراوانے نے گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا جموں اور کشمیر(بشمول آزاد کشمیر) بھارت کا حصہ ہے۔ اگر پارلیمینٹ چاہے اور ہمیں اس قسم کا کوئی حکم ملے تو آزاد کشمیر لینے کیلئے فوج کارروائی کرے گی۔ آزادکشمیر بھی ہمارا ہوسکتا ہے۔ہمیں مغربی سرحدوں سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

اس سے قبل بھارتی فوج کے پچھلے سربراہ جنرل بپن راوت بھی آزاد کشمیر پر قبضے کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ انہوں نے بھی دھمکی دی تھی کہ بھارتی فوج پاکستان کے آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت کو کرنا ہے۔

اگر حکومت ہمیں حکم دے تو ہماری تمام پیشہ ورانہ تیاری مکمل ہے۔ جیسا کہ بھارتی آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول کے اس پار کارروائی کی دھمکی دی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی ریاستی اداروں میں بھی انتہا پسند سوچ پیوست ہو چکی ہے۔ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں وحشی فاشسٹ ذہنیت عیاں ہو چکی۔ بھارت کا انتہا پسند، دہشت گرد اور فاشسٹ ہندوتوا ایجنڈا علاقائی امن کیلئے خطرہ ہے۔

آزاد کشمیر پر حملے کیلئے بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی تیاریاں مکمل ہیں۔ جنگی ٹینک، ہیلی کاپٹر، بھاری ہتھیار اور خصوصی فوجی دستہ ماونٹین اسٹرائک کارپس لائن آف کنٹرول پر بھیجے جا رہے ہیں۔ اس دستے میں 15 ہزار فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔ بھارتی فوج نے دھمکی دی ہے کہ خصوصی فوجی دستہ ماونٹین اسٹرائک کارپس کے اہلکار سرحد پار کر کے مخصوص علاقے کو اپنے قبضے میں لینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی کے ردعمل میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار فوجی کارروائی کے بیانات گیدڑ بھبکی ہیں۔ وہ اندرونی خلفشار سے توجہ ہٹانے اور اپنے عوام کو خوش کرنے کیلئے بیان بازی کر رہے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج بھارت کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ بھارت کو 27 فروری 2019ء یاد ہو گا، اب کی بار اس سے بھی زیادہ بھرپور جواب ہو گا۔ پاکستان کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا انتہائی مہلک جواب دینے کیلئے مکمل تیار ہے۔

موجودہ صورتحال میں جب ہر محاذ پر بھارت کو شکست ہو رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کھل کر دنیا کے سامنے آگیا ہے اور پوری دنیا میں کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم کا پول کھل گیا ہے لیکن بھارت کیلئے اب بھی کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنا بھارت کی عادت بن گئی ہے۔ صرف بھارتی آرمی چیف ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے یونین وزیر جتندا نے بھی ہرزہ سرائی کی کہ بھارت کا اگلا ایجنڈا آزاد کشمیر پر قبضہ ہونا چاہئے۔ جنگی جنون میں اندھا بھارت، لگتا ہے بالا کوٹ کی مار بھول گیا جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے نہ صرف دراندازی کرنے والے بھارتی طیارے کو مار گرایا تھا بلکہ پائلٹ بھی گرفتار کیا۔ نہ بھولنے والی درگت کے بعد ابھی نندن ایسا ڈرا کہ بزدل آٹھ ماہ بعد دوبارہ جنگی جہاز میں بیٹھا۔

صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے جنگ کا خطرہ تو موجود ہے۔

آزاد کشمیر پر حملے کی بھارتی دھمکی کا جواب یہ ہے کہ افواج پاکستان جنگ کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان کشمیر کے لئے ہر حد اور ہر سطح تک جائے گا۔ پاکستان اور بھارت کے مسائل مشترکہ ہیں۔ ہماری کوشش تھی سب کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات ہوں۔ عالمی برادری کشمیریوں اور اقلیتوں کیخلاف مظالم کا نوٹس لے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا جنرل منوج ہم لائن آف کنٹرول پر تمہارا انتظار کررہے ہیں پاک سرزمین کی جانب بڑھ کر دیکھو۔ ہندوستانی فوج کے پاس اتنے تابوت نہیں جتنے تم جنازے اٹھاؤ گے۔ آزادکشمیر کی جانب اگر ہندوستانی فوج بڑھی تو ہم سب اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں پتھروں سے ڈرنے والی فوج میں اتنی ہمت نہیں کہ آزادکشمیر کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو لڑائی لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب لڑی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہم مودی کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے اور وقت آگیا ہے کہ انہیں ایک سبق سکھائیں۔ ہمارے سامنے ایک خوفناک نظریہ کھڑا ہے، جو آر ایس ایس کا نظریہ ہے جس کا مودی بچپن سے ممبر ہے۔ آر ایس ایس نے اپنا نظریہ ہٹلر کی نازی پارٹی سے لیا۔ اس نظریے کے پیچھے مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے۔ یہ لوگ عیسائیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی ان پر حکومت کی۔ آر ایس ایس نے ماضی میں اپنے لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا ہے کہ مسلمان حکومت نہ کرتے تو ہم ایک عظیم قوم بننے جارہے تھے۔

مقبوضہ کشمیر کا ظلم و جبر کے ماحول کے ساتھ ساتھ بھارت کی جنونی مودی سرکار نے کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ بھی مسلسل کشیدگی برقرار رکھی ہوئی ہے جہاں جنگ بندی کی آئے روز کی خلاف ورزیوں اور بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں کے باعث پاکستان سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہی نہیں‘ سول باشندے بھی شہید ہو رہے ہیں۔کنٹرول لائن پر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے یہ ننگ انسانیت مظالم عالمی دباؤ کے باوجود جاری ہیں اور مودی سرکار کسی بھی عالمی لیڈر اور کسی بھی عالمی اور علاقائی نمائندہ فورم کو خاطر میں نہیں لارہی۔

بھارت جان لے کہ پاک سرزمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ہر بار جذبہ خیر سگالی نہیں دکھائی جائے گی۔ اس مرتبہ کسی”ابھی نندن“ نے مہم جوئی کی کوشش کی تو نہ صرف ماتا پتا یاد کرتے رہیں گے بلکہ بھارت سرکار بھی طویل عرصے تک بھلا نہ پائے گی کہ کیا کر بیٹھے۔

مزید : رائے /کالم


loading...