حکومت بچپن کی شادیوں کی روک تھام کیلئے مؤثر قانون سازی کرے

  حکومت بچپن کی شادیوں کی روک تھام کیلئے مؤثر قانون سازی کرے

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) اور ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک جامعہ پشاور کے زیر اہتمام یو این وومن پاکستان کے تعاون سے ترتیب شدہ مشاورتی مذاکرہ منعقد کیا گیا جس میں خیبر پختونخوا میں کم عمری اور زبردستی کی شادیوں کو روکنے کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے "چائلد میرج ریسٹرین بل" پر تفصیلی بحث کی کئی۔ مذاکرے کا مقصد مذکورہ بل پر ماہرین تعلیم کی رائے اور مؤقف حاصل کرنا تھا۔جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل ورک کے سربراہ ڈاکٹر شکیل احمد،شعبہ کریمنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر بشارت حسین اور یو این وومن خیبر پختونخوا چیپٹر کی ہیڈ زینب قیصر خان مشاورتی مذاکرے کے مہمان خصوصی تھے اس کے علاوہ پیوٹا کے نائب صدر (خواتین)پروفیسر ڈاکٹر کنیز فاطمہ،شعبہ فلفسہ،اسلامیات،سوشل ورک،سائیکالوجی،سوشیالوجی،انتھرپالوجی،کالج آف ہوم اکنامس،لاء کالج کے اساتذہ کرام اور کثیر تعداد میں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔شعبہ سوشل ورک کے اسٹنٹ پروفیسر اور پروگرام کے آرگنائزر ڈاکٹر محمد ابرار نے مذاکرے کا آغاز کیا اور شرکاء کو پروگرام کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔انہوں اپنی پریزنٹیشن کے دوران کہا کہ پاکستان ہیلتھ اینڈ ڈیموکرافک سروے 18-2017 کے مطابق پاکستان کی 50 فیصد خواتین مردوں کے 34 فیصد کے مقابلے میں تعلیم حاصل نہیں کرپاتی،سروے کے اعداد وشمار کے مطابق 22.3 فیصد خواتین بچپن کی شادیوں کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کرپاتی۔جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل کے سربراہ ڈاکٹر شکیل احمد نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آئین پاکستان جنس کی تفریق کو رد کرتا ہے اور تمام مردوں اور عورتوں کے حقوق کو بلا تفریق یقینی بنانے کی ضمانت دیتا ہے-پروفیسر ڈاکٹر کنیز فاطمہ نے خواتین کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت لڑکیوں کی افزائش اور ترقی کیلئے مطلوبہ وسائل فراہم کرے گی۔ تاکہ وہ تعلیم،تربیت،فنی ترقی اور خود اعتمادی سے متعلقہ مہارتیں باآسانی حاصل کرسکیں اور ایک بہتر زندگی گزارسکیں۔یو این وومن خیبر پختونخوا چیپٹر کی ہیڈ زینب قیصر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے ایسے مربوط اور دورس اقدامات اٹھائے جائیں جس سے بچے اور بچیاں بلا تفریق تشدد سے پاک معاشرے میں پروان چڑھ سکیں اور تمام مواقع سے یکساں مستفید ہوسکیں۔ مزاکرے میں بچپن کی شادیوں کی معاشرتی پہلووں،صنفی تشدد،چائلد میرج ریسٹرین بل کے ڈرافٹ کے اہم نکات اور درپیش مسئلے کے حل میں اکیڈیمیا کے کردار پر بات چیت کی گئی۔ماہرین تعلیم نے مذکورہ بل کے حوالے سے اپنی اپنی رائے اور نقطہ نظر پیش کیا

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...