وادی نیلم،3دیہات برفانی تودے تلے دب گئے،پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری

  وادی نیلم،3دیہات برفانی تودے تلے دب گئے،پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری

  



اسلام آباد، مظفر آباد،نوکنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کے لینڈ سلائیڈنگ اور برفباری سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ عمران خان نے سی ایم ایچ مظفراباد میں زخمیوں کی عیادت بھی کی، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر نے برف باری سے ہونے والے نقصانات سے متعلق بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا جبکہ متاثرہ خاندانوں سے ان کو درپیش مسائل دریافت کئے۔ملک بھر میں شدید بارشوں اور برف باری سے ہلاکتوں کی تعداد 125سے زائد ہوگئی،متاثرہ علاقوں میں ریسکیواینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق وادی نیلم میں برفانی تودہ گرنے سے ڈکی چکناڑ میں 3 دیہات دب گئے، امدادی ٹیموں نے 14 لاشوں کو نکال لیا ہے۔ذرائع کے مطابق برفانی تودے میں درجنوں افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم سہولیات کے فقدان کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی کے باعث نیلم ویلی کے مکینوں کی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ خرابی موسم کے باعث بالائی علاقوں میں فلائٹ ریسکیو آپریشن بھی روک دیا گیا ہے۔ وادی گریس میں ڈھکی اور چکناٹھ کے متاثرین تک تاحال ریسکیو ٹیمیں بھی نہیں پہنچ سکی ہیں۔ مری میں شدید برفباری کے باعث پک اپ وین نالے میں گرگئی جس سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔پاک ایران سرحدی علاقے ماشکیل میں حالیہ بارشوں کے سبب سیلابی ریلے سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری150سے زائدماشکیل بگ ایریامیں پھنسے ہوئے افرادکوریسکیوکردیاگیا سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ چار روز سے پاک ایران سرحدی علاقے ماشکیل کے زمینی رابطے منقطع تھے جس کے باعث پھنسے افرادکو ریسکیو کرنے کے لئے سخت مشکلات کا سامناتھابگ کاچر میں پھنسے ہوئے 150 سے زائدافراد کو ریسکیوکرلیاگیا۔دوسری طرف وزیراعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر خان نے وادی نیلم میں متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا ہے۔ برفانی تودے گرنے کے واقعات پر وفاقی وزیر غلام سرور خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیلم وادی میں اب تک 67 افراد جاں بحق ہوئے۔ حکومت جانی اور مالی نقصان کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کو مزید فعال کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد مکانات، مسجد، دکانیں اور گاڑیاں بھی برفانی تودوں کی زد میں آکر تباہ ہو گئے ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ 76 ہلاکتیں آزاد کشمیر میں ہوئیں، بلوچستان میں 20 جبکہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وادی نیلم میں 73 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سندھنوٹی، کوٹلی اور راولاکوٹ میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔ ریسکیو آپریشن دیر سے شروع ہونے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں شدید بارش اور برفباری کی وجہ سے پیش آنے والے مختلف حادثات میں اب تک 20 افراد ہلاک جبکہ 23 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں 12 خواتین اور سات بچے بھی شامل ہیں۔آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں، برف باری اور برفانی تودوں سے متاثرہ علاقوں میں 1957 خیمے، 1250 کمبل، 250 ترپالیں، 12 ٹن راشن، 2250 پلاسٹک چٹائیاں، 150 شیٹس، 550 سولر لائٹس، 100 کچن سیٹس، 150 گدے اور گرم کپڑوں سمیت ضروری امدادی سامان فراہم کردیا گیا ہے۔

برف باری

راولپنڈی(نیوزایجنسیاں)وادی نیلم، گلگت اور بلوچستان کے برف باری سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کاریسکیو اور ریلیف آپریشن بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ متاثرین کو خیمے، کمبل، راشن، دوائیں اور تیار کھانا فراہم کیا گیا جبکہ سکردو شاہراہ بھی مختلف مقامات پر کھول دی گئی ہے۔ آئی ایس پی آرکے مطابق وادی نیلم، گلگت اور بلوچستان کے برفباری سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیواورریلیف آپریشن بھرپور طریقے سے کیا جا رہا ہے۔فوجی جوان، ایف ڈبلیو او اور سول انتظامیہ مشترکہ اقدامات کررہے ہیں جبکہ متاثرین کو خیمے، کمبل، راشن، دوائیں اور تیار کھانا بھی دیا گیاہے۔ قراقرم، جگلوٹ، سکردوشاہراہ مختلف مقامات پر کھول دی گئی ہے اور پٹن، مٹہ بانڈے، اشتیال، تتہ پانی، ہنزہ، سوست اور خنجراب سے آمدورفت بحال کردی گئی ہے۔ جبکہ آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بھی امدادی سامان متاثرین کو مہیا کیا جا رہا ہے۔

پاک فوج

مزید : صفحہ اول


loading...