کیا مریم نواز کو ایک مرتبہ باہر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟لاہور ہائیکورٹ نے نیب،وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا

  کیا مریم نواز کو ایک مرتبہ باہر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟لاہور ہائیکورٹ ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق عباسی اورجسٹس چودھری مشتاق احمد پرمشتمل ڈویژن بنچ نے ای سی ایل میں نام شامل کرنے کیخلاف اورپاسپورٹ کی واپسی کیلئے دائرمریم نواز شریف کی درخواستوں پرنیب اوروفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے یہ استفسار بھی کیاہے کہ کیا مریم نواز کو ایک مرتبہ باہر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟فاضل بنچ نے وفاقی حکومت سے مریم نواز شریف کا ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ کرنے میں تاخیرکی وجوہات بھی طلب کرلیں۔گزشتہ روز مریم نواز کے وکیل اعظم نذیرتارڑ نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے نام ای سی ایل سے نکلوانے کیلئے مریم نواز کی درخواست 9دسمبر کووفاقی حکومت کو بھجواتے ہوئے 7 روز میں معاملے کافیصلہ کرنے کاحکم دیاتھا،3 سے 4 ہفتوں تک وفاقی حکومت نے عرضداشت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا،ہمیں گزشتہ روزعلم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد کر دی ہے،عدالتی حکم کے بعد حکومت شہریوں کے حقوق کیساتھ کھیل نہیں سکتی، اس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمدخان نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کر دیا ہے اور مریم نوازکا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا،سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ مریم نواز نے ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے کا فیصلہ نہ کرنے کے وفاقی حکومت کے اقدام کو چیلنج کیاہے،اب جبکہ کابینہ نے فیصلہ کردیاہے تو مریم نواز کی درخواست غیر موثر ہوگئی ہے،فاضل بنچ نے کہا کہ مریم نواز کانام کس بنیاد پرای سی ایل میں شامل کیا گیا،حکومت اس حوالے سے جواز تو پیش کرے، فاضل بنچ نے حکومت سے اس بابت بھی جواب طلب کرلیاکہ عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت کو نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر 7 روز میں فیصلے کا حکم دیا تھا، اس میں تاخیر کیوں ہوئی؟جسٹس محمدطارق عباسی نے مریم نواز کے وکلاء سے استفسار کیا کہ آپ نام ای سی ایل سے نکلوانا چاہتے ہیں یا شرائط کو ختم کروانا چاہتے ہیں؟ مریم نواز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مریم نواز کانام ای سی ایل سے نکلوانا چاہتے ہیں، جسٹس محمد طارق عباسی نے کہا کہ آپ کی ایک درخواست پاسپورٹ کی واپسی کی ہے، آپ نے متفرق درخواست کے ذریعے ایک بار ملک سے باہر جانے کی اجازت بھی طلب کررکھی ہے، اس درخواست پر تو عدالت نے حکومت سے جواب ہی نہیں منگوایا، کیا اس درخواست پر جواب نہیں منگوانا؟ آپ تو مانگتے ہی ایک بار کی اجازت ہیں، مریم نواز کے دوسرے وکیل امجد پرویز ملک نے کہا کہ پاسپورٹ واپسی کی درخواست بھی ساتھ ہی چلے گی، جس پر جسٹس محمد طارق عباسی نے کہا کہ یہی ہم نے پوچھا ہے کہ آپ پاسپورٹ والی شرط بھی ختم کروانا چاہتے ہیں؟ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ جب نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ ہو جائے تو پاسپورٹ والی کوبھی سن لیا جائے، فاضل بنچ نے نیب اور حکومت سے مریم نواز کی بنیادی اور متفرق درخواستوں کا جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت21جنوری پر ملتوی کردی۔مریم نواز کی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ ان کے والد شدید بیمار اور بیرون ملک زیر علاج ہیں،وہ ان کی تیمارداری کیلئے جانا چاہتی ہیں،مریم نواز کا موقف ہے کہ وہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے باوجود بیمار والدہ کو بیرون ملک چھوڑ کروالد کے ساتھ وطن واپس آئیں،اپنی والدہ کو کھو چکی ہوں والد بستر مرگ پر ہے، انہیں کھونا نہیں چاہتی، درخواست گزار کا موقف سنے بغیر نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا، جو عدالتی فیصلوں،قانون اورآئین کے منافی ہے،عدالت نے 7روز میں ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے کا فیصلہ کرنے کاحکم دیاتھا،نام ای سی ایل میں شامل کرنے کااقدام کالعدم کیا جائے،مریم نواز نے یہ استدعا بھی کررکھی ہے یہ ان کی بنیادی درخواست کے حتمی فیصلے تک انہیں ایک مرتبہ 6ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔مریم نواز کی چودھری شوگرملز کیس میں ضمانت منظور کرتے وقت لاہورہائی کورٹ نے انہیں اپنا پاسپورٹ عدالت عالیہ کے پاس جمع کروانے کاحکم دیاتھا،مریم نواز نے پاسپورٹ کی واپسی کی اپنی درخواست میں بھی اپنے والد کی بیماری کو جواز بنایاہے۔

مریم نواز کی درخواست

مزید : صفحہ اول