عالمی افواج مشرقی وسطیٰ سے نکل جائیں،حملے کسی بھی وقت ممکن:ایران

عالمی افواج مشرقی وسطیٰ سے نکل جائیں،حملے کسی بھی وقت ممکن:ایران

  



تہران (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے دارالحکومت تہران میں یوکرائن کے طیارے کو مار گرانے کی تفصیلات فوج فراہم کرے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر کا مزیدکہنا تھا یوکرائن طیارے کی مزید تفصیلات آنی چاہئیں اور فوج جلد یہ تفصیلات فراہم کرے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے عالمی طاقتوں کو انتباہی انداز میں کہا مشرق وسطی سے اپنی فوجیں فوری طور پر نکال لیں کیونکہ یہاں ان کی موجودگی شاید خطرے میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آج امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا جائے اور کل کو یہ حملے یورپی یونین کے سپاہیوں پر ہوں لہٰذا جتنی جلدی ہو سکے،عالمی طاقتوں کو مشرق وسطیٰ سے اپنی فوج نکال لینی چاہیے۔وا ضح رہے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کی جانب سے ایٹمی ڈیل کی خلاف ورزی کیخلاف قواعد کے مطابق کارروائی کا اعلان کیا ہے۔تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں تنازع کے حل کے میکنزم کے کھولنے کا اعلان کیا اور کہا یورپی ممالک اب بھی جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے خوا ہشمند ہیں۔دوسری طرف ایران، امریکہ کشیدگی میں کمی لانے کیلئے قطر متحرک، ثالثی کیلئے کوششوں میں مصروف ہو گیا۔کیونکہ کشیدگی کے باعث مشرق وسطی میں غیر یقینی صورتحال چھائی ہے، جس کو ختم کرنے کیلئے سفارتی محاذ پر کوششیں جاری ہیں، ان کوششوں میں پاکستان، روس، قطر سمیت دیگر ممالک بھی متحرک نظر آ رہے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر کے وزیر خارجہ نے ثالثی کی کوششوں کی تصدیق دورہ بغداد کے دوران کی۔ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا ہے قطر اس تناؤ میں کمی کی خاطر اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے جس نے امریکہ اور ایران کیساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے پورے خطے کو نئی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔یادرہے قطری وزیر خارجہ عبدالرحمن الثانی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب قطری وزیر خارجہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد فوری بعد ایران پہنچ گئے تھے جہاں پر ان کی ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور صدر حسن روحانی سے ملاقات ہوئی تھی۔بغداد میں عراقی وزیر خارجہ محمد الحکیم کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالرحمن الثانی کا کہنا تھا کچھ دوست ممالک کیساتھ مل کر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ہم نے عالمی دوستوں کے ساتھ رابطے کیے ہیں۔ قطری ہم منصب کیساتھ ملاقات کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اہم امور پر بات چیت کی۔ ملاقات کے دوران مشترکہ طور پر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا قطری ہم منصب کیساتھ ملاقات کے دوران ہماری بات چیت کا مقصد عراق پر لڑائی کا منظر بننے پر مرکوز رہی۔

ایران

مزید : صفحہ اول


loading...