سندھ کابینہ، کلیم امام کو ہٹانے اورغلام قادر تھیبو کو آئی جی سندھ لگانے کی منظوری

سندھ کابینہ، کلیم امام کو ہٹانے اورغلام قادر تھیبو کو آئی جی سندھ لگانے کی ...

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو ہٹانے اور ان کی جگہ غلام قادر تھیبو کو لگانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔تفصیل کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں نئے آئی جی کے لیے غلام قادر تھیبو کے نام کی منظوری دی گئی ہے۔نئے آئی جی کی تقرری کے لیے وفاق کو خط لکھا جائے گا۔ اجلاس میں کابینہ اراکین نے غلام قادر تھیبو کے نام پر اتفاق کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ غلام قادر تھیبو اچھی شہرت کے افسر ہیں، جنہوں نے سندھ میں مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی نہیں بنانا چاہتے۔ پولیس کے کمانڈر کو سیاسی بیانات نہیں دینے چاہیں۔ وزرا کا کہنا تھا کہ جس ایس ایس پی یا پولیس افسر کو سیاست کا شوق ہے، وہ سیاست کرے۔صوبائی کابینہ اجلاس کے بعد میڈٰیا کو بریفنگ میں وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا تھا کہ آج صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر ہماری میٹنگ ہوئی آئی جی کلیم امام کی تبدیلی تھا۔ کابینہ نے ان کو ہٹانے کی منظوری دیدی ہے۔سعید غنی نے کہا کہ آئی جی سندھ کلیم امام نے غیر ذمہ دارانہ بیانات بھی دیئے۔ آخری خط میں انہیں بتا دیا گیا تھا کہ آپ قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اگر کوئی افسر لینا یا دینا ہو تو صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ سندھ میں لاء آرڈر کی صورتحال خراب ہو گئی ہے۔ کلیم امام کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کی جانی چاہیے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کا محکمہ براہ راست سفارتخانوں کو خطوط لکھتا رہا جو قوانین کی خلاف ورزی تھی۔ اس کے علاوہ پولیس افسران کی پوسٹنگ پر بھی آئی جی سندھ نے مداخلت کی.ان کا کہنا تھا کہ دعا منگی کی بازیابی کے بعد بھی ان کی فیملی نے بیان دینے سے انکار کیا کیونکہ انھیں پولیس پر اعتماد نہیں تھا۔ دعا منگی کیس کے بعد بسمہ کیس کا پوچھا گیا تو پتا چلا کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں پولیس افسران کو صوبہ بدر کرنے پر آئی جی کلیم امام نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھ دیا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ گریڈ بیس کے خادم حسین رند اور گریڈ انیس کے ایس پی ڈاکٹر رضوان صوبہ بدر کر دیے گئے ہیں۔ خادم حسین اہم معاملات دیکھ رہے تھے جبکہ رضوان احمد شکار پور میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ خط میں سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئی جی انفرادی طور پر تبادلے اور تقرری کے مجاز ہیں۔

سندھ کابینہ

مزید : صفحہ اول


loading...