قومی اسمبلی،حکومت کا بارشوں اور برف باری سے متاثرہ افراد کی بھرپور مالی امداد کا اعلان

قومی اسمبلی،حکومت کا بارشوں اور برف باری سے متاثرہ افراد کی بھرپور مالی ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایم ایم اے کی عالیہ کامران نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی کارکردگی صفر ہے،بلوچستان بدترین حالات سے گزر رہا ہے،شدید برف باری کی وجہ سے راستے بند ہیں،48گھنٹے بعد زمینی راستہ بحال ہوا،این ڈی ایم اے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے اور لوگوں کی مدد کیلئے کیا این ڈی ایم اے ہیلی کاپٹر کا استعمال نہیں کر سکتا تھا،وزیراعظم نے کشمیر کا دورہ کیا،کیا بلوچستان اس ملک کا حصہ نہیں ہے۔مولانا صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ حکومت فوری متاثرین کی مدد کرے،متاثرین کی مدد کیساتھ ان کی مالی امداد بھی کی جائے۔اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے حکومت کو ہادیت کی کہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے اور فوری طور پر متاثرین کو ریلیف دیا جائے۔وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ جنوری میں غیر معمولی بارشوں،برف باری اور طوفان کی وجہ سے شمالی علاقہ جات، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں، وزیراعظم نے کشمیر میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، صرف ایک ویلی میں 67افراد جاں بحق ہوئے، نقصانات پر مالی امداد دیں گے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں، ہم این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو مزید متحرک کر رہے ہیں، صوبائی حکومتیں سروے کررہی ہیں، نقصانات کا تخمینہ لگا کر ضرور مالی امداد کا اعلان کریں گے،جانی و مالی نقصان کو حکومت سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے،راستے کھولنے کے اقدامات جاری ہیں۔وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہے،این ڈی ایم اے کو مزید فعال بنانے پر کام جاری ہے،ڈیزاسٹر بڑے پیمانے پر ہوا ہے،کشمیر میں زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔بلوچستان نے ابھی نقصانات کی تفصیلات نہیں دیں۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن سردار ریاض کی جانب سے پاکستان ریلوے میں نوکریوں میں بھریتوں کے دوران فراڈ اور ڈیڑھ لاکھ روپے رقم کے عوض نوکریوں کو فروخت کرنے کے الزام پر تحقیقات کیلئے انکوائری کی ہدایت کردی،سپیکر نے وزارت ریلوے، مذہبی امور، میری ٹائم افیئرز، وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے آفیسرز کی اجلاس میں غیر حاضری پر سختی سے نوٹس لیا اور کہاکہ میں وارننگ دیتا ہوں کہ کو آفیسرز غیر حاضر ہوں گے ان کے خلاف رولنگ دوں گا اور ان کی اے سی آر کا حصہ بناں گا، سپیکر نے وزارت صحت کو ہدایت کی کہ کنگ حماد نرسنگ یونیورسٹی کی تعمیر کے منصوبہ پر جلد عمل کیا جائے اور ایوان کو رپورٹ پیش کی جائے،قومی اسمبلی کو آگاہ کیاگیا ہے کہ سی پیک کے تحت 160کلومیٹر کی رفتار سے مسافر گاڑیاں چلائی جائیں گی، سی پیک کے تحت بلٹ ٹرین کی کوئی تجویز نہیں ہے، گزشتہ دو سال کے دوران پیداوار کے لحاظ سے آٹوموبائلزکے 2-3 ویلرز کے 13 یونٹس بند ہوئے ہیں،مکانات کی تعمیر کیلئے ٹینڈرز کا عمل شروع ہے، اس کے بعد قیمتوں کا تعین کیا جائے گا، کلاس فور کے وفاقی ملازمین کو گھر کی تعمیر کیلئے 50فیصد سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز ہے،50لاکھ گھر بننے جا رہے ہیں، گھروں کی تعمیر کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں، گزشتہ 5سال کے دوران وفاقی اور صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی جانب سے مختلف ادویات کے 229453نمونے ٹیسٹ کئے گئے اور کل 446 ادویات جعلی قرار پائیں، گزشتہ سال ملک میں 297814کاریں فروخت کی گئیں،15ماہ میں آٹو سیکٹر میں 6 نئے یونٹس مینوفیکچرنگ سٹارٹ کر رہے ہیں،13856نوکریاں آٹو مینوفیکچرنگ میں دیں گے،سندھ حکومت نے کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی ادائیگی نہیں کی لیکن ان کو ویکسین فراہم کر دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر ہاسنگ طارق بشیر چیمہ، پارلیمانی سیکرٹری تجارت عالیہ حمزہ ملک، پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد، پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب و دیگر حکام نے ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر علی زیدی کا اپنے ہی کراچی سے منتخب ارکان کو ٹکٹ کا طعنہ دینا مہنگا پڑ گیا،جس پر کراچی سے تحریک انصاف کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم نے ٹکٹ آپ سے نہیں کارکردگی کی بنیاد پر لیا، ہمیں آپ طعنہ دینے کی بجائے اپنی کارکردگی بتائیں جو زیرو ہے، کراچی سے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کی کوشش کی تو تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی اور رکن صداقت عباسی نے ارکان کو منا کر واپس بٹھایا۔قومی اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روزسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں پی ٹی آئی کراچی سے ارکان فہیم خان،عطااللہ اور محمد اکرم چیمہ کی جانب سے کراچی بندر گاہ کو پورٹ قاسم سے منسلک کرنے کیلئے45کلومیٹر طویل پل کی تعمیر میں تاخیر سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا کہ میں نے مذکورہ پل سے متعلق کبھی معاہدے پر دستخط کی بات نہیں کی، میں نے کہا تھا کہ معاہدہ چینی کمپنی سے موصول ہو گیا ہے، ہماری تفصیلی بات چیت جاری ہے، کراچی بندرگاہ اورپورٹ قاسم کے درمیان پل کی تعمیر پر وزارت دفاع کی رائے کا انتظار کررہے ہیں۔اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آپ ان سے مل کر معاملہ حل کریں اور توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنے والے ارکان سے رابطے میں رہا کریں،جس پر علی زیدی نے کہا کہ یہ توجہ دلاؤ نوٹس کی بجائے مجھ سے رابطہ کرلیتے توان کو تفصیلات فراہم کردیتا،مجھ سے گھر، دفتر یا کہیں بھی مل لیتے تو میں انہیں بتا دیتا۔انہوں نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے معاملہ ایوان میں لایا ہے تو پھر یہاں ہی اس کا جواب سن لیں۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے فون پر رابطہ ہی کرلیتے، میرا نمبر وہی ہے جو الیکشن سے پہلے تھا، یہ الیکشن سے پہلے میرے پاس آتے تھے، میرا نمبر وہی ہے جس پر فون کر کے انہوں نے ٹکٹ لیا۔اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے ارکان فہیم خان،عطاء اللہ،محمد اکرم چیمہ،جمیل احمد خان اور آفتاب جہانگیر نے بھرپور احتجاج کیا۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول


loading...