مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے:چینی سفیر

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے:چینی سفیر

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)چین نے ایک بار پھر کشمیر کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں اقدامات اور موجودہ ٹریٹمنٹ ناقابل قبول ہے،مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے،ہمیں افغانستان، مشرق وسطی میں بھی بہت سے چلینجز کا سامنا ہے،پاکستان اور چین مل کر امن و استحکام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں،پاک چین تعلقات کو روشن مستقبل دیکھ رہا ہوں،2020 پاک چین تعلقات و تعاون صرف سی پیک تک محدود نہیں رہے گا، امریکی کی جانب سے ایران پر پابندیوں پر تحفظات ہیں،ایران اور امریکہ کے باہمی مسائل کا حل سفارتی طریقہ سے تلاش کرنے کے حامی ہیں،چینی میرج ایجنسیوں کو بین الاقوامی شادیاں کرانے کی اجازت نہیں۔ بدھ کو چینی سفارت خانے میں میڈیا اور تھنک ٹینک کیلئے نئے سال پر عشائیے کا انتظام کیا گیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر یاؤ جنگ نے کہاکہ 2020 ایک نئے دور کا آغاز ہے،نئے برس کا آغاز ہم میڈیا اور تھنک ٹینک کے دوستوں کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ سال خطے،چین اور پاکستان کے لیے انتہائی اہم تھا۔ انہوں نے کہاکہ چین نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے سترہویں سالگرہ منائی،ہم نے چین مین ایک ترقی یافتہ فلاحی ریاست کی تشکیل مکمل کی۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ ستر برس میں بہت سے اتار چڑھاو آتے رہے،ان اتار چڑھاؤ میں پاک چین دوستی مزید نکھر کر سامنے آئی۔ انہوں نے کہاکہ چین اب اعلی سطح کے معیار کی ترقی کی جانب گامزن ہے،اس ہائی کوالٹی ڈیویلپمنٹ میں چین ماحولیاتی آلودگی سے پاک ترقی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بھی اس سفر میں چین کے ہمراہ ہے،چین کو بہت سے مخاصمانہ پروپیگنڈہ کا سامنا کرنا پڑا،اس پر مغربی میڈیا کی جانب سے بہت کردار ادا کیا گیا حتیٰ کہ سی پیک پر بھی مغربی میڈیا نے بہت پروپیگنڈہ کیا،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی اب کیا حیثیت رہ چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں افغانستان، مشرق وسطی میں بھی بہت سے چلینجز کا سامنا ہے،پاکستان اور چین مل کر امن و استحکام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں علاقائی امن و استحکام، بین الاقوامی انصاف جیسے مشترکہ اہداف کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، نئے مرحلے میں سی پیک جے تحت صنعتی ٹیکنالوجی اور تعاون کو فروغ دیا جائے گا،سی پیک کے تحت دونوں ممالک کے مابین زرعی تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری پہلی ترجیح غربت کا خاتمہ ہے جس کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے،ہم تعلیم کے شعبہ میں مزید وسائل مختص کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی مین تعاون سے ہم پروڈکشن چین اور ویلیوایڈڈ سروسز کے شعبوں میں آگے بڑھ سکتے ہیں،2020 میں بھی ہمیں دشمنوں سے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے،یہ ہماری دوستی کے دشمن ہیں جو کہ سی پیک اور تعاون کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

چینی سفیر

مزید : صفحہ اول


loading...