کشمیر فیڈز مالکان کی جائیدادوں کی فروخت پر پابندی کے حکم امتناع میں توسیع

کشمیر فیڈز مالکان کی جائیدادوں کی فروخت پر پابندی کے حکم امتناع میں توسیع

  



لاہور(نامہ نگار)بینکنگ عدالت نے بینک الفلاح ڈیفالٹر کشمیر فیڈز کے مالکان کی جائیدادیں فروخت کرنے پر پابندی کے حکم امتناعی میں توسیع کاحکم دیتے ہوئے مزیدسماعت 23جنوری تک ملتوی کردی،عدالت نے کشمیر فیڈزکمپنی کے وکلاء کی جانب سے بحث کیلئے تیاری کی مہلت دینے کی استدعاپر سماعت آئند ہ پیشی تک ملتوی کی ہے۔بینکنگ عدالت کے جج چودھری اعظم نے بینک الفلاح کی درخواست پر سماعت کی،بینک کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کشمیر فیڈز کے مالک زاہد شفیع، سلمان مجاہد بٹ، شہزاد جاوید نے کاروبار کیلئے قرض لیا اور گارنٹی دی، کشمیر فیڈز کی فرزانہ زاہد، عثمان جاوید اور عارف مبارک نے بھی قرض کیلئے گارنٹی دی، ڈیفالٹر زاہد شفیع نے مری میں واقع مکان نمبر 53-ڈی اور 54-اے رہن رکھوائے، زاہد شفیع نے قرض کے لئے اردو بازار لاہور میں واقع ایک پلاٹ بھی رہن رکھوایا، ڈیفالٹر زاہد شفیع نے ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک میں واقع مکان نمبر 179-182 بھی قرض کے لئے رہن رکھوایا، زاہد شفیع نے رائیونڈ روڈ پر واقع 39 کنال 2 مرلے کی 4 جائیداد رہن رکھوائیں، قرض کے لئے ڈیفالٹر زاہد شفیع نے ایف بلاک ماڈل ٹاؤن میں واقع مکان نمبر 16 اور سنٹرل پارک فیروز پور روڈ میں واقع ایک پلاٹ بھی رہن رکھوایا، قرض کی رقم بر وقت ادا نہ کرنے پر کشمیر فیڈز کے مالکان اور گارنٹرز کو ڈیفالٹر قرار دیا گیا، ڈیفالٹر عاطف مبارک نے کا ڈی ایچ اے بلاک ٹی میں واقع 843 نمبر پلاٹ بھی بنک میں رہن شدہ ہے، ڈیفالٹر عثمان جاوید نے رائیونڈ روڈ پر واقع جائیداد اور نشتر ٹاؤن میں واقع 1 کنال کا پلاٹ بھی رہن رکھوایا، کشمیر فیڈز کے سلمان مجاہد بٹ بھی نشتر ٹاؤن میں واقع 10 مرلے کا پلاٹ رہن رکھوایا، کشمیر فیڈز کے زاہد شفیع سمیت دیگر مالکان میاں نواز شریف کے چچا زاد بھائی ہیں اور اثر رسوخ کی بنیاد پر رہن شدہ جائیدادیں فروخت کئے جانے کا خدشہ ہے، عدالت سے استدعاہے کہ دعوی کے حتمی فیصلے تک کشمیر فیڈز کے مالکان کی رہن شدہ جائیدادیں فروخت کرنے پر پابندی عائد کی جائے اوررقم کی ریکوری کیلئے کشمیر فیڈز کے خلاف 9 کروڑ 75 لاکھ 73 ہزار 213 روپے کی ڈگری جاری کی جائے۔

حکم امتناع توسیع

مزید : علاقائی