اداروں کی محاذ آرائی اور جنرل مشرف

اداروں کی محاذ آرائی اور جنرل مشرف
اداروں کی محاذ آرائی اور جنرل مشرف

  



2007ء میں عدلیہ اور انتظامیہ میں ایک محاذ آرائی کی کیفیت تھی، اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری، جنرل مشرف کومعزول کرنے پر تلے ہوئے تھے جن کی پشت پر فوج کے ساتھ عوامی طاقت بھی تھی۔ ق لیگ کی منتخب حکومت ان کی حامی تھی اور وہ خود بھی ایک منتخب صدر کی حیثیت سے آئینی خدمات انجام دے رہے تھے۔ نواز شریف رضاکارانہ جلاوطنی کا خاتمہ کر کے بینظیر بھٹو کی مہربانی سے وطن آچکے تھے، حکومت میں تھے نہ اپوزیشن میں۔ جاوید ہاشمی اور چودھری نثار اپوزیشن کے مدارالمہام تھے، یہ بات بھی نواز شریف کی طبع نازک پر بوجھ تھی کہ پارٹی ان کی اور سیاست جاوید ہاشمی کی، وہ پارٹی پر تسلط کے ساتھ کسی طرح سیاسی میدان میں گتھم گتھا ہونے کے فل موڈ میں تھے اس کیلئے انہوں نے نابالغ مشیروں کے مشوروں پر پہلے جاوید ہاشمی کو کھڈے لائن لگایا اور ایسے لگایا کہ پارٹی کی فیصلہ سازی میں ان کو شریک کیا جاتا نہ فیصلوں بارے اعتماد میں لیا جاتا بلکہ اہم فیصلے ان سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جاتی۔ دوسری طرف وہ سیاست میں اپنا قدو قامت بڑھانے کی کوششوں میں بھی مصروف تھے، ان کے سامنے تب پیپلز پارٹی اپوزیشن نہ تھی کہ میثاق جمہوریت کے اخلاقی معاہدے کی کچھ تو شرم رکھنا تھی جو اقتدار میں آتے ہی قصہ ماضی ہوئی،البتہ صدر پرویز مشرف ان کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے تھے،براہ راست ان سے محاذ آرائی کرنے کی ان میں ہمت تھی نہ ان کا ایسا ماضی رہا کہ وہ کسی صاحب اختیار کے سامنے تن کر کھڑے ہوئے ہوں اس حوالے سے ان کے حوصلے بلند ہوتے ہیں جب وہ خود اقتدار میں ہوتے اور مطلق العنان ہوتے ہیں،جس کا ثبوت انہوں نے اپنے ہر دور میں دیا اور طاقتور اداروں سے بھڑ کر نہ صرف اقتدار سے ہاتھ دھوئے بلکہ شکنجے میں بھی آئے اور پھر معافی تلافی کی راہ اپنا کرگھر کی راہ لی یا بیرون ملک پناہ تلاش کی۔

نواز شریف اس وقت چونکہ خود تو مشرف کے سامنے پورے قد سے کھڑے نہیں ہو سکتے تھے لہذٰا انہوں نے عدلیہ کا سہارا لیا اور اس وقت کے چیف جسٹس کو آگے کر کے اپنے پتے کھیلنے لگے، افتخار چودھری بھی عد لیہ سے سے زیادہ سیاسی معاملات میں دلچسپی رکھتے تھے آج وکلاء اگر ایک پریشر گروپ ہیں تو اس کی وجہ افتخار چودھری ہیں جو وکلاء کو اپنی عددی قوت اور حلقہ سیاست جانتے تھے، جس کے نتیجے میں وکلاء گردی بڑھتی گئی۔ افتخار چودھری مشرف کو اقتدار سے بیدخل نہ کر سکے تو انہوں نے عدالتی اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا،اسی دوران مشرف نے اپنے آئینی اختیارات کے تحت ملک میں ایمرجینسی نافذ کر دی، افتخار چودھری کی سپریم کورٹ نے اس کی توثیق کی اور پالیمینٹ نے ایمر جنسی کی حمایت میں ایک قرارداد منظور کی، اس طرح ایمرجنسی نافذ کرنے کے سنگین غداری کیس میں معاون بنے،اس کے فوری بعد افتخار چودھری نے جنرل پرویز مشرف کو غاصب قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلانے پر زور دینا شروع کر دیا، جنرل مشرف کے استعفٰی کے بعد افتخار چودھری نے مشرف کے مخالف 13ججوں پر مشتمل ایک بینچ تشکیل دیا، سپریم کورٹ کے14اور ہائی کورٹ کے 60ججوں کو برخواست کر دیا۔

نواز شریف نے مشرف کیخلاف افتخار چودھری والی سپریم کورٹ سے رجوع کیا،چیف جسٹس نے تمام صوبوں کی عدالتوں سے خصوصی عدالت کی تشکیل کیلئے تجاویز طلب کیں،جبکہ قانون کے مطابق یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غداری کا مقدمہ سپیشل کورٹ کو بھجوائے، 1976ء کے قانون کے تحت اس حوالے سے حکومت کی تعریف کی گئی ہے کہ کوئی ایسا شخص یا شخصیات جن کو حکومت پاکستان کے امور سر انجام دینے کیلئے قانون کے تحت اختیارات سونپے گئے ہوں، آرٹیکل 90کہتا ہے دستور کے مطابق وفاق کاعاملانہ اختیارصد رکے نام پر استعمال کیا جائے گا جو وزیر اعظم اور وفاقی وزراء پر مشتمل ہو گی اور جو وزیر اعظم کی وساطت سے کام کریں گے، آرٹیکل میں واضح ہے کہ صدر کو کارہائے منصبی کی انجام دہی میں مشورہ اور مدد کیلئے وزراء کی ایک کابینہ ہو گی،جس کا سربراہ وزیراعظم ہو گا، غداری کا مقدمہ قائم کرنے کیلئے آئین میں کوئی طریقہ کار موجود نہیں، تاہم انچارج وزیر ایسے کسی معاملہ میں وزیر اعظم کو اطلاع دیتا ہے وزیر اعظم اس حوالے سے کارروائی کا فیصلہ کرتا ہے اور اس معاملہ کو کابینہ کے سامنے پیش کر کے رائے لینے کا پابند ہے۔

ان تمام آئینی شقوں کے باوجود نواز شریف نے بطور وزیر اعظم خود ہی خصوصی عدالت قائم کی اس سلسلہ میں سپریم کورٹ سے مشورہ لینا بھی مناسب نہ سمجھا،خود ہی سنگین غداری کا مقدمہ قائم کیا اور صدر مملکت کو خاطر تک میں نہ لائے۔ دلچسپ بات یہ کہ مشرف کے اقدام کو بعد از واقعہ ہونے والی قانون سازی کے تحت چیلنج کیا گیا، جو اپنی جگہ ایک غیر آئینی اقدام تھا، ایمرجنسی 2007ء میں لگی جبکہ سنگین غداری کا مقدمہ زرداری دور میں منظور کردہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت قائم کیا گیا، حالانکہ مشرف کے کسی اقدام کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے تو 1999ء میں نواز شریف حکومت کی برطرفی تھا،آئین اس وقت معطل ہواء جب ایک منتخب حکومت کو گھر کی راہ دکھائی گئی مگر مقدمہ میں 1999ء کے مارشل لاء کا کوئی تذکرہ تک نہیں، نواز شریف کے اپنے دور میں اس مقدمہ کی کارروائی دانستہ انتہائی سست رفتاری سے چلائی گئی۔

آخر کار چھ سال بعد خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے مشرف کو سزائے موت کا حقدار قرار دیا، ایک جج نے کہا اگر پھانسی سے پہلے مشرف مر جائیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لا کر لٹکا دیا جائے، مشرف کی طرف سے اس سزا کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا جس کے نتیجے میں مشرف کی سزا کو ختم کر کے خصوصی عدالت کے قیام کو ہی غیر قانونی قرار دیدیا، اس مقدمہ کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ کہ ایمرجینسی کا فیصلہ اکیلے پرویز مشرف نہیں کر سکتے تھے عدلیہ نے توثیق کی پالیمینٹ نے حمایت کی، مگر مجرم صرف مشرف کو قرار دیا گیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خصوصی عدالت قائم کرنے والے، اندراج مقدمہ کرانے والے اور فیصلہ دینے والے سب متعصب اور مشرف کے مخالف تھے، اور یہ مخالفت صرف مشرف کی نہیں بلکہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ حساس اور اہم ترین ادارہ کی بھی ہے۔

مزید : رائے /کالم