بلند شرح سود صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے:شہباز اسلم

بلند شرح سود صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے:شہباز اسلم

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)تاجر رہنما و ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس وانڈسٹری سابق وائس چیئرمین فرایا شہباز اسلم نے کہا ہے کہ حکومت غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی پالیسی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لائی جائے کیونکہ شرح سود کم نہ ہونے سے سرمایہ کاری میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے آئی ایم ایف کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں اراکین نے بھی اس مسئلہ کو اٹھایا ہے۔فاؤنڈر چیئرمین عدنان بٹ نے کہا کہ 16فیصد مارک اپ انڈسٹریز کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلند شرح سود صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے،ارشد بیگ،تنویر احمد،حقیق احمد،شاہد بیگ اور دیگر صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ شہباز اسلم نے کہا کہ پاکستان میں بلند شرح سود نئی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے نئی انویسٹمنٹ متاثر ہوگی اور سرمایہ تجارتی سرگرمیوں کی بجائے محفوظ منافع کیلئے بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دی جارہی ہیکہ امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق پاکستان ایشیاء میں سب سے زیادہ شرح سود کے حامل ممالک میں شامل ہے۔

شرح سود میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔شرح سود میں اضافہ سے بنکوں کے ڈیپازٹ میں تو اضافہ ہورہا ہے لیکن اس کے باعث صنعتی ترقی میں کمی واقع ہو گی کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے صنعتی مقاصد کے لیے قرضوں میں خودبخود اضافہ ہوگیا ہے جس سے صنعتکار پریشانی کا شکار ہیں اور ان کے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

مزید : کامرس