ملک میں صنعتی ترقی کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے:پیاف

ملک میں صنعتی ترقی کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے:پیاف

  



لاہور (لیڈی رپورٹر)ملک میں صنعتی ترقی کے لیے ماحول ساز گار نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں شرح سود (مارک اپ) 14فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس شرح سود کی وجہ سے نئی صنعتیں نہ لگ سکتیں اورنہ ہی پہلے سے موجود صنعتیں ترقی سکتی ہیں۔ ہمارے مقابلے میں بھارت اور چین میں مارک اپ کی شرح بہت ہی کم ہے۔ اسی طرح سے پاکستان میں بجلی ایشیا میں سے زیادہ مہنگی ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت اور چین میں بجلی بہت سستی ہے۔ ایسی صورتحال صنعتی ترقی کے ساز گار نہیں ہے۔انٹریشنل مارکیٹ میں ہم دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ملک کا جی ڈی پی 280 ارب ڈالر، برآمدات صرف 20 ارب ڈالر ہے۔ امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان صنعت کاروں کے مسائل حل کریں گے اور مارک اپ اور بجلی سستی کریں گے۔حکومت بزنس آسان بنانے کے لئے پالیسیاں بنائے، قانون سازی کرے۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے ففیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس(ایف پی سی سی آئی) کے نو منتخب صدر میاں انجم نثار کے اعزاز میں دئے گئے عشائیے کے موقع پر ایک پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں گورنر پنجاب چودھری محمدسرور، سیئنر وائس چیئرمین پیاف ناصر حمید وائس چیئرمین پیاف جاوید اقبال صدیقی، سرور میاں ناجم نثار و دیگر نے خطاب کیا اور انجم نثار کو 5سال کے بعد ایف پی سی سی آئی اور صدر منتخب ہونے پر خراج تحسین پیش کیا۔

اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں بزنس کمیونٹی کے مسائل ہونگے۔ تقریب کا اہتمام پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈز ایسوسی ایشن فرنٹ(پیاف) نے کیا تھا۔ اس موقع پر سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی،صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال، چیرمین پیاف میاں نعمان کبیر، لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر عرفان اقبال شیخ، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ڈاکٹر ارشد،ناصر حمید اوردیگر کاروباری، صنعت کار حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء کے اعزاز میں عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ چودھری محمد سرور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو پاکستان میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے کاشت کاروں کو معیاری بیج فراہم کرنا ہونگے جس سے کپاس کی فی ایکٹر پیداوار بڑھائی جاسکے۔ بزنس کمیونٹی کی سرگرمیوں سے ملک کا نظام چلتا ہیہم گلوبل ویلج میں رہتے ہیں۔ بزنس مین کے لئے حالات اچھے نہ کیے تو وہ عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ حکومت کاروباری طبقہ کے مسائل کو حل کرے گی۔ مارک اپ میں کمی لائیں گے تاکہ کاروباری طبقہ کے مسائل حل ہوسکیں۔ حکومت کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا لیکن ہم نے کرنٹ خسارے کو کم کیا ہے۔لیکن اب بزنس کمیونٹی کے لئے عملی اقدامات کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے ہمارا بزنس میں یورپی بزنس میں سے کم صلاحیت نہیں رکھتا۔ہمارے کاروباری طبقہ نے مشکلات اور معاشی بحران میں بہترین کام کیا۔یورپی یونین میں کسی سے بھی پاکستانی مصنوعات کے معیار پر سوال نہیں اٹھایا۔ہمارا صنعتکار عالمی معیار کی مصنوعات تیار کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی تشویشناک ہے۔کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے زوننگ کرنا ہوگی۔

مزید : کامرس