پنجاب صنعتی و اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی صوبے میں گیم چینجر ثابت ہو گا!

پنجاب صنعتی و اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی صوبے ...

  



پراپیگنڈے سے زیادہ عمل پر یقین رکھنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملکی معیشت اور عوام کو روزگار کی فراہمی کے لئے اپنے منشورپرعملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اب تک جو اقدامات کئے ہیں ان میں فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے تعاون سے سی پیک منصوبے کے تحت صنعت و تجارت کا ایک بڑا منصوبہ جو مختصر عرصے میں مجوزہ سات نئے اکنامک زون میں سے ایک ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس عظیم الشان منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار جو پنجاب کی صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے رات دن کوشاں ہیں بھی اس موقع پر موجود تھے۔ چین اور پاکستان کی دوستی کے پس منظر میں اس منصوبے کونہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے عوام اور صنعتکاروں کے لئے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے صوبے میں صنعتی انقلاب برپا ہو گا اور نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ چین کی ترقی کا آغاز بھی ایسے ہی منصوبوں سے ہوا تھا اور اب وہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی قوت بن کر ابھرا ہے۔ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی ایسا پراجیکٹ ہے جس کے ذریعے تین لاکھ ڈائریکٹ اور دس لاکھ ان ڈائریکٹ ملازمتوں کے مواقع ملیں گے۔ انڈسٹریل سٹی پاکستان کا پہلا اکنامک زون ہے اور یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے عوام کے لئے نئے سال کا تحفہ ہے۔ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کی آبادکاری کے عملی آغاز سے وطن عزیز میں صنعت و تجارت کی فضاء میں ایک بڑی تبدیلی کی خوشبو محسوس ہونے لگی ہے۔ وزیراعلیٰ سردار عثمان احمد خان بزدار اور وزیرصنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک کو ایشیا کا صنعتی ہب بنانے کے لئے عملی بنیادوں پر کام کر رہی ہے اور انشاء اللہ حکومت 2020ء کے دوران صنعتی ترقی کے پہیے کو تیزکر کے عوام کو ریلیف دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔فیصل آباد محنت کشوں کا شہر ہے،یہاں صنعت کا کلچر سالوں بلکہ صدیوں پرانا ہے-یہاں انڈسٹری کا پہیہ چلتاہے تو پورے ملک میں غریب مزدور کا چولہا جلتا ہے-یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے تحت پاکستان کے پہلے او رسب سے بڑے انڈسٹریل اسٹیٹ کے لئے فیصل آباد کومنتخب کیا گیاہے-پنجاب کی معاشی تاریخ بدل رہی ہے او رپنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر کی ترقی اور عوام کی بھرپور خوشحالی کے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔

علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی 3217ایکڑ پر قائم کیا جارہاہے،جس میں ایک ارب ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری کی کمٹمنٹ آچکی ہے،6 چینی کمپنیوں کے علاوہ دیگر غیر ملکی کمپنیاں بھی اس پراجیکٹ میں دلچسپی لے رہی ہیں -ابتدائی طورپر چینی کمپنیوں کو صنعتیں لگانے کے لئے 7سو ایکڑ اراضی فراہم کی جا رہی ہے-چین سے مزید سرمایہ کاری آنے پر مزید اراضی فراہم کی جائے گی- علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کی 22کلو میٹر طویل باؤنڈری وال، مین بلیوارڈ، مین گیٹ اور ساڑھے چھ کلومیٹر رابطہ سڑک وغیرہ پر کام شروع ہو چکا ہے۔ علامہ اقبال انڈسٹریل اسٹیٹ کا پہلا فیز انشاء اللہ جون 2021 اور دوسرا فیز 2022 کے اواخر میں جبکہ تیسرا فیز جولائی 2024 تک مکمل ہو جائے گا۔ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں ایئرپورٹ، ہسپتال، لیبر کالونی/کمپلیکس، پارکس، سپورٹس گراؤنڈز، ایکسپو سینٹر، فور سٹار ہوٹل سمیت تمام ضروری سہولتیں فراہم ہوں گی۔ جہاں 12 سے زائد انڈسٹریل سیکٹرز کو نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سطح پر کاروباری مسابقت میں معاونت فراہم کی جائے گے۔ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں چین کی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ون ونڈ سروس سینٹر بھی متعارف کرا ئی جا رہی ہے۔ چینی سرمایہ کاروں کو نہ صرف تحفظ بلکہ ہرممکن معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ ون ونڈ سروس پر چینی مترجم تعینات کئے جائیں گے۔ اس میں ون ونڈو سروس سینٹر میں کمپنی رجسٹریشن، یوٹیلٹی، رہائش گاہوں کی فراہمی، سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی طور پر فاسٹ ٹریک بھی متعارف کرایا جائے گا۔ یہاں ویڈیو کانفرنس اور انسانی وسائل کی ہائرنگ کی سہولت بھی میسر ہوگی۔

فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ 7517ایکڑ پر بن رہے ہیں -4500ایکڑپر محیط ایم تھری انڈسٹریل اسٹیٹ میں اب تک ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آ چکی ہے- یہاں 25 چائینز کمپنیاں صنعتیں لگا رہی ہیں -ہنڈائی کار پلانٹ،ٹائم اور دیگر سرامکس انڈسٹری کے پلانٹ لگ رہے ہیں اور یہاں ہائی برڈ گاڑیوں کے لئے پاکستان کا پہلا لیتھیم بیٹری کا پلانٹ بھی یہاں لگایا جائے گا-

روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف صنعتی انقلاب کے بغیر ممکن نہیں اور صنعتی انقلاب کیلئے ٹیکنیکل ٹریننگ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ صنعتوں کے فروغ کے لئے ہنر مند انسانی وسائل کا ہونا بہت ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ نہ صر ف ٹیوٹا کے اداروں کو اپ گریڈ کیا جارہاہے بلکہ اس کے نصاب میں بھی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تبدیلیاں لاجارہی ہیں اور صوبہ میں 3نئی اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنیکل یونیورسٹیاں ڈیرہ غازی خان میں میر چاکر خان رند یونیورسٹی،رسول میں پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور راولپنڈی ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے-یہ یونیورسٹیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ڈگریاں بھی خود جاری کرنے کی مجاز ہوں گی-

پاکستان کی آبادی جس کا زیادہ تر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس ینگ جنریشن کو بوجھ کے بجائے ملکی ترقی کا کار آمد حصہ بنانے کیلئے وزیر اعلی ہنر مند نوجوان پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے- اس پروگرام سے بالخصوص 16 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان مستفید ہو سکیں گے- پچھلے ایک سال میں تقریبا 1 لاکھ نوجوانوں کو ٹیوٹا کے ذریعے سکلز ڈویلپمنٹ کی ٹریننگ دی گئی جبکہ اس پروگرام کے آغاز سے ہر سال مزید 1 لاکھ نوجوان ٹیوٹا کے انسٹی ٹیوٹس سے سکلز ڈویلپمنٹ اور ٹیکنیکل و ووکیشنل ٹریننگ حاصل کر سکیں گے- وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ہنر مند نوجوان پروگرام کے لئے 1.5 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے- ٹیوٹا انسٹیٹیوٹس کی کیپسٹی دگنی کی جارہی ہے جہاں نوجوانوں کو مفت ٹریننگ دی جائے گی جس سے وہ معاشرے کا اہم اور خودمختار رکن بن سکیں گے- اس پروگرام کے تحت 56 ڈیمانڈ ڈریون کورسز کرائے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو ایسے ہنر سکھائے جاسکیں جس کی صنعتی شعبہ میں مانگ ہے- یہ پروگرام ایمپلاء اور ایمپلائر کے درمیان ٹیکنالوجی اور سکلز گیپ کو ختم کرکے ملازمتوں کے نئے مواقع فراہم کرے گا- اس پروگرام کے تحت ہر سال 15 فیصد سے زائد سکلڈ ہیومن ریسورس بیرون ملک ایکسپورٹ کیا جا سکے گا- حکومت دیگر سرکاری و نجی اداروں کے تعاون سے اس پروگرام کو مزید آگے بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں، ٹیوٹا کے طالب علم آج LUMS سے ٹریننگ حاصل کر کے اپنے کاروبار شروع کر چکے ہیں، اسی طرح GiZ، UBer، یونیسف، ورلڈ بینک، ADB، APTMA، PEC اور دیگر اہم نیشنل اور ملٹی نیشنل اداروں کے اشتراک سے وزیراعلی ہنر مند پروگرام وزیر اعظم کے ایک کروڑ نوکریوں کے ویژن کو حقیقت بنانے میں کوشاں ہے-

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ”وزیراعلیٰ ہنر مند نوجوان پروگرام“کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس پروگرام سے ابتدائی طور پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد نوجوان مستفید ہوں گے۔ 4 سال میں بتدریج بڑھاتے ہوئے پونے 9 لاکھ مزید نوجوانوں کو ”وزیراعلیٰ ہنر مند نوجوان پروگرام“کے دائرہ کار میں شامل کریں گے۔ روزگار کی فراہمی کے قومی ہدف کا تقریباً60 فیصد پنجاب گروتھ سڑٹیجی 2023 کے تحت پورا کیا جائے گا- وزیراعلیٰ نے کہاکہ ”وزیراعلیٰ ہنر مند نو جوان پروگرام“ وزیر اعظم عمران خان کے نوجوانوں کے لیے ویژن کا عکاس ہے۔ ”وزیراعلیٰ ہنر مند نو جوان پروگرام“ عوام سے روزگار کے وعدے کی تکمیل کی طرف اہم قدم ہے- وزیر اعظم عمران خان کے اخلاص سے پی ٹی آئی حکومت روزگار کے وعدے پورے کریگی۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر بہتر معاشی اشاریوں کی ریٹنگ طے کرنے والے اداروں نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے- پرائیویٹ سیکٹرکا شامل ہونا حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی دلیل ہے - پبلک سیکٹر میں شفافیت اور میرٹ نہ ہونے سے ماضی میں نجی شعبے سے اشتراک نہ ہو سکا- وزیراعلیٰ نے بتایاکہ دوست ملک چین کے اشتراک سے پاکستان چائنہ اقتصادی راہداری کے منصوبے تیزی سے تکمیل کی طرف بڑ ھ رہے ہیں۔ 9سیکٹرز میں پنجاب کے 11 سے زائد منصوبے سی پیک میں شامل ہیں۔ سی پیک کے تناظر میں " ہنر مند نوجوان پروگرام" بے حد اہمیت کا حامل ہے - سی پیک کے لئے پنجاب میں ہنر مند وں کی ضرورت کو”ہنر مند نو جوان پروگرام“ کے ذریعے ہی پورا کیا جا سکے گا۔ ہنر مند نوجوان کسی بھی ریاست کا اثاثہ ہوتے ہیں - ریاست کی تعمیر و تشکیل میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیوٹا کی افادیت گزرتے وقت کیساتھ مزید بڑھتی جائے گی - ہمیں تیز رفتاری سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے چیلنجز کا سامناکرناہوگا- ماضی میں ٹیوٹا کی استعداد کار کو بڑھانے کیلئے توجہ نہیں دی گئی۔ ٹیوٹا جدید ٹیکنالوجی اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نئے ہنر نوجوانوں کو منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت پنجاب ترقی کے اس مشن کے لیے درکار وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ یہ رسمی پراجیکٹ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں عوام کی معاشی قسمت بدلنے والا گیم چینجر منصوبہ ہے-انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت خواتین کی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے۔ خواتین کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے کمربستہ ہے۔ ٹیوٹا میں خاص طورپرخواتین کے لیے متعدد کورسز آفرکیے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پنجاب معاشی ہدف کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح یکسو اور پر عزم ہے۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر نہ صرف کسی خاندان کی معاشی حالت میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ ہنر مند افرادی قوت ہوگی تو ملکی اور غیر ملکی اداروں میں روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے- ملکی پیدا وار اور ایکسپورٹ بڑھے گی اور ملک میں قیمتی زر مبادلہ آئے گا۔ ٹیوٹا کے زیراہتمام اداروں میں نوجوانوں کو بی ایس پروگرام آفر کئے جارہے ہیں۔ ٹیوٹا کے زیرانتظام ٹیکنیکل اداروں کے نصاب کو دورجدید کی ضروریات کے مطابق ازسرنو تشکیل دیا گیا ہے۔ ٹیوٹا کے ٹیکنیکل اداروں میں سٹاف کے لئے بھی ٹیکنیکل ٹریننگ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ 150سے زائدٹریڈز کے لئے ایک لاکھ سے زائد مرد وخواتین کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ٹیوٹا کو جدید خطوط پر استو ار کرنے کے لئے ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے اور اسے جدید دور کے تقاضو ں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم پلاننگ کی گئی ہے اورپنجاب کا نوجوان آگے بڑھے گا۔

پاکستان چائینہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ تعلیم، ووکیشنل ٹریننگ، ہیلتھ کیئر، غربت کے خاتمے، زراعت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے سیکٹرز میں مربوط تعاون کے بعد معاشی و سماجی اشتراک کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔حکومت پنجاب علاقائی عدم مساوات، غربت اور سماجی ناانصافی کے خاتمے کیلئے ”سی پیک سماجی و معاشی اشتراک کار“ کے تحت جنوبی پنجاب کے علاقوں میں نئے پراجیکٹس پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس سے صوبہ کی مجموعی گروتھ سٹریٹجی پر عملدرآمد کے امکانات روشن ہوں گے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت نئے سال کے آغاز سے ہی ملک کی اقتصادی و معاشی صورتحال بہتر بنانے کیلئے عملی طور پر جامع اور ٹھوس اقدامات کررہی ہے - سرکاری اخراجات کم اور سادہ انداز حکومت سے حکومت پہلے ہی بچت کی راہ پر گامزن ہے - البتہ نوجوانوں کی تکنیکی تربیت، روزگار کیلئے قرضوں کی سہولت اور فنی تعلیم کیلئے خطیر فنڈز فراہم کررہی ہے - پنجاب حکومت نے نوجوانوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے ٹیوٹا کو جدید خطوط کپر استوار کرنے کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے ہیں تاکہ نوجون جدید علوم سے بہرہ مند ہوکر ملکی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرسکیں -یہ سب کچھ اس لئے کیاجارہے کہ عوام کی معاشی حالت بہتر ہو اور نچلے طبقے کو اوپر اٹھایاجائے -

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2


loading...