نصاب تعلیم یکساں نہ ہونے کے باعث طبقاتی سسٹم شروع ہوگیا

نصاب تعلیم یکساں نہ ہونے کے باعث طبقاتی سسٹم شروع ہوگیا

  



ریحا الطاف کا شمار ممتاز ماہر تعلیم میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بچوں کی تعلیم پر تحقیق و ریسرچ کر کے پاکستان کے چھوٹے بچوں کی تعلیم کے حصول کے لیے راہیں متعین کی ہیں۔ ریحا الطاف نے پنجاب یونیورسٹی سے ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے علاوہ شیالوجی میں بھی ایم ایس سی پنجاب یونیورسٹی سے کی ہے۔ جبکہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ ٹیکنالوجی لاہور سے ایم فل ایجوکیشنل لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ میں بھی کیا ہوا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کریسنٹ گروپ آف سکول کراچی سے حاصل کی۔ جبکہ انٹرمیڈیٹ جناح ویمن کالج کراچی سے کیا۔ Diploma English Teaching linguistics میں ایک سالہ ڈپلومہ اور مانیسٹوری ایجوکیشن میں بھی ٹریننگ پر ڈپلومہ کیا ہوا ہے۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم کی درستگی اور اصلاح کے حوالہ سے انہوں نے بے شمار منصوبوں پر کام کیا ہے۔ پاکستان میں بچوں کی ابتدائی تعلیم میں بہتری نہ ہونے کے سبب کردار سازی اور بچوں کو سچا پاکستانی بننے میں بے شمار مشکلات کا سامنا ہے ریحا الطاف سے چھوٹے بچوں کی تعلیم کے علاوہ پاکستان میں تعلیمی نقائص، نصاب سازی، تعلیمی پالیسی سازی کے حوالہ سے قارئین کے لیے انٹرویو کیا گیا۔

س: بچوں میں یعنی چھوٹے بچوں میں تعلیم کے حصول کے لیے والدین اور اساتذہ کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

ج: بچے کی پیدائش کے بعد بچہ اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ یعنی وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تعلیم کے حصول کا آغاز شروع کر دیتا ہے۔ ارلی ایجوکیشن میں بچہ کلچر زبان اور حساب کتاب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بچہ کی یہ عمر انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جس میں بچہ کو ملک و قوم کے لیے ایک سمت کی طرف لے کر جانا ہوتا ہے۔ لہٰذا والدین کو بڑی احتیاط اور معاشرہ کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بچوں کو ایسے سانچے میں ڈھالنا ہوتا ہے جس سے پوری زندگی اس کی شخصیت پر اثر انداز رہتی ہے۔ اس عمر میں بچوں میں خود مختاری، ذہنی سوچ کی سمت کا تعین اور بچوں کو داخلہ سے پہلے ایسی چیزیں دیکھائی جائیں کہ وہ ملک و قوم کا مفید شہری بننے میں ابتداء کرسکے گا۔

س: نصاب سازی میں کیا ترامیم کرنے کی ضرورت ہے اور یکساں نصاب تعلیم کے حوالہ سے پاکستان میں کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

ج: پاکستان کے نظام تعلیم میں یکساں نصاب تعلیم کا ہونا بہت ضروری ہے۔ نصاب تعلیم میں یکسانیت نہ ہونے کے سبب طبقائی نظام شروع ہو گیا ہے اور بچوں کی ذہنیت اور سوچ مختلف ہونے کی وجہ سے بچے کمپلیکس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ریسرچ کی کمی ہے اور گوروں کی ریسرچ پر انحصار کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نصاب قومی ضروریات اور کردار سازی میں ناکام نظر آتا ہے۔

اگر نصاب سازی کرنے کے ماہرین ہوں تو نصاب سازی قومی اْمنگوں کے مطابق ہو۔ یونیورسٹی میں بھی اعلیٰ تعلیم کے بعد تھیسس کے لیے ہم دوسرے ریسرچر کے مرہونِ منت ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں تعلیم اتنی مہنگی ہے کہ بچوں کے لیے ان کا حصول ممکن نہیں ہے۔ نصاب سازی کرنے والے خود پاکستان کی تعلیمی ضروریات اور کردار سازی پیدا کرنے والے نصاب کو ترتیب دینے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں۔ یکساں نظام تعلیم نہ ہونے کے سبب بچوں کی نشوونما پر اس کے اثرات اچھے نہیں پڑ رہے ہیں اور بچے نفسیاتی تناؤ کا شکار ذہنی طور پر رہتے ہیں۔ آکسفورڈ نصاب ملکی ہم آہنگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمیں تحقیق پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور غیروں کی تعلیمی تحقیق پر انحصار کم کرنا ہوگا نصاب سازی میں مناسب موزوں اصلاحات اور تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارا نظام تعلیم بہتر اور معیاری ہوگا تو ہم دوسری قوموں کا مقابلہ کر سکیں گے۔ قوم میں اعتماد، ترقی، خوش حالی اور مثبت قوم ابھر کر سامنے آئیں گے۔ ہماری معیشت، زراعت، تجارت، درآمدات برآمدات میں تعلیمی نصاب کی تبدیلیوں کے سبب تبدیلیاں ممکن نہیں۔

س: سوشل میڈیا پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے بچوں کی تعلیم پر کیا اثرات پڑے ہیں۔

(ج) سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا بچوں کے لیے خطرناک میڈیا ہے۔ جبکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا، کنٹرول میڈیا کی مد میں بچوں کو برے اثرات سے بچا سکتا ہے لیکن سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچوں کی تعلیم کے رجحانات اور وقت کے ضائع میں اضافہ ہوا ہے۔ والدین اور اساتذہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے بچوں کی چیزوں کا متعین کریں تاکہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے جس حد تک ہو سکے بچ سکیں۔ خصوصی طور پر چھوٹے بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے باز رکھنا چاہیے اور دائرہ کار بچوں کے لیے متعین کر دینا چاہیے کہ وہ کن اوقات میں یا کون سی چیزیں، سوشل میڈیا پر استعمال کریں۔ گیمیں، کارٹون یا کوئی اور مثبت سرگرمی جس کا تعلق سوشل میڈیا سے ہو وہ بچوں میں تحریک کا کام کرتی ہیں لیکن فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، میسنجر، انٹرنیٹ کے استعمال میں والدین کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے اور ان چیزوں کے برے اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے ان کی نگرانی کرنی ضروری ہے۔ تاکہ تعلیم کی راہ میں سوشل میڈیا رکاوٹ نہ بن سکے۔ بچوں میں عدم برداشت نہیں رہا۔ شخصیت میں عدم توازن کی وجہ بھی ہم سوشل میڈیا کا بے جا استعمال کہہ سکتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے اگرچہ شعور و آگاہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بچوں میں بے دریغ اور غلط استعمال سوسائٹی اور خاندانی نظام کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ بچوں کی شخصیت کی بہتری کے لیے والدین کو رول ماڈل ہونا چاہیے۔ خاندانی نظام میں درستگی اور اصلاح سے بچوں کی تعلیم اور تعلیمی نظام میں بھی بہت بہتری آئے گی۔

س: رائٹرز ادیب، شاعر اور میڈیا تعلیم کی بہتری کے لیے کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

ج: رائٹرز، ادیب اور شاعر معاشرہ کا اہم حصہ ہیں اور معاشرہ میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن رائٹرز اب بچوں کے ادب کو تخلیق نہیں کر رہے ہیں اور اگر کر بھی رہے ہیں تو بہت کم۔ بچوں کی کردار سازی میں رائٹرز کو قومی و نظریاتی سوچ دینے کے لیے اپنے مکالمات اور سکرپٹ میں تبدیلی لانا ہوگی۔ پہلے پرنٹ میڈیا میں بچوں کو اچھی اور نصیحت آموز کہانیاں پڑھنے کو ملتی تھیں۔ اقوال زریں ملتے تھے لیکن اب بچوں کے ادب کو فروغ نہیں دیا جا رہا ہے۔ کتاب خریدنے اور کتاب پڑھنے کا رجحان بچوں میں بہت کم رہ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں کی مناسب اور مثبت تربیت نہیں ہو رہی۔ رائٹرز اور ادیبوں میں بھی گروہ بندی کے عناصر پیدا ہو گئے ہیں۔ بچوں کے ادب کو فروغ دینا ہوگا۔ تاکہ تعمیری تعلیم میں رائٹرز بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔

س: والدین اور اساتذہ بچوں کی تعلیم کی بہتری کے لیے کیا کردار اور اقدامات کر سکتے ہیں۔

ج: والدین سوسائٹی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں۔ اساتذہ کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے تربیتی پروگرامز بہت ضروری ہیں۔ خواہ وہ حکومتی سطح پر ہیں یا معاشرہ کی سطح پر۔ تاکہ اساتذہ کی استعداد کار میں اضافہ ہو اور وہ بچوں کو بہتر اور کوالٹی ایجوکیشن دے سکیں۔ والدین اور اساتذہ کی مشترکہ کوششیں ہوتی ہیں کہ انہوں نے بچے کے ذہن پر کون سا رنگ پینٹ کرنا ہے۔ جیسا رنگ بچے کے ذہن پر بچپن میں پینٹ کر دیا ویسا رنگ ہی پھر ساری زندگی اس میں شامل رہتا ہے۔ یہ سب والدین اور اساتذہ کے باہمی تعاون اور مشترکہ منصوبہ بندی سے ممکن ہے۔

طلباء میں اسلامی نظریات کو پروان چڑھانے اور اس پر عمل درآمد کروانے میں بھی والدین اور اساتذہ کا باہمی تعاون اور باہمی کاوشیں بچے کی کردار سازی کے لیے بہت ضروری ہیں۔ بچوں میں مذہبی اقدار نہیں ہیں۔ ہماری مذہبی اقدار ہی دوسرے نظام تعلیم کے سبب امتیازی حیثیت رکھتی ہیں۔ کھانا، نماز، روزہ اور دیگر عناصر کے پروان چڑھانے میں اساتذہ اہم ہیں۔ ماں کی گود بہترین تربیت گاہ ہے۔

س: زراعت، تجارت، تعلیم میں اصطلاحات کیسے ممکن ہیں؟

ج: ہماری آبادی کا تقریباً 70 فیصد زراعت کے ساتھ منسلک ہیں اور معیشت کا انحصار زراعت کی ترقی اور اصلاحات پر ہے۔ تعلیم اور نصاب میں زراعت کے مضمون کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ بچے آغاز تعلیم سے ہی زراعت کے مضمون سے آگاہ ہوں اور وہ ملک کی زرعی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح تجارت کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تجارت کا تعلق درآمد و برآمدات سے ہے۔ زراعت و تجارت اور عام تعلیم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی چاہیں جس سے زراعت میں نقائص کو دور کر کے زراعت اعلیٰ تعلیم کے نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔ ہمارے بچے جو تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں۔ اکثریت کا تعلق کسان کے خاندان سے ہے اور کسانوں کی خوش حالی کا انحصار ان کے خاندان میں زراعت کی تعلیم سے آگاہی سے ممکن ہے۔

س: تعلیم میں اصلاحات کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں اور ہم ابھی تک ترقی پذیر ممالک کی صف میں کیوں کھڑے ہیں؟

ج: حکومت پاکستان نے بے شمار تعلیمی پالیسیاں اور تعلیمی اصلاحات کی ہیں لیکن ان اصلاحات اور پالیسیوں پر عمل درآمد بہت کم ہوا ہے۔ پالیسی ساز ماہرین نہیں ہیں۔ جو ملکی حالات اور ماحول کے مطابق پالیسیاں بنائیں۔ جبکہ نصاب سازی میں اتنی لاپرواہی سے کام لیا جاتا ہے اور نصاب جدید تقاضوں اور ملکی ضروریات کو پورا نہیں کرتا ہے۔ پالیسی ساز ادارے کامیاب پالیسیاں بنانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ ہمارا اعلیٰ درجہ کا تعلیم کا نصاب تحقیق اور ریسرچ سے خالی ہے۔ اسی وجہ سے عملی زندگی میں طلباء اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے حامل ہونے کے باوجود عملی زندگی میں ناکام نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ڈگریاں تو ان کے پاس ہیں لیکن ڈگریوں کے مطابق تعلیم نہیں ہے۔ تعلیم میں اصلاحات اور بہتری سے ترقی یافتہ ممالک میں پاکستان کو شامل ہونے کے لیے جدید تعلیم، نصاب سازی میں تبدیلی اور تعلیمی پالیسیاں موثر بنانی ہوں گی۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1


loading...