نقل کا بڑھتا رجحان اور ہماری ذمہ داریاں

نقل کا بڑھتا رجحان اور ہماری ذمہ داریاں

  



پاکستان کے تعلیمی ادارے اور تعلیمی نظام سے تو ہر کوئی واقف ہے۔ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کا تعلیمی نظام کس قدر ناقص حالات کا سامنا رہا ہے، حکومت کا تعلیم کے نظام کو مزید بہتر نہ بنانا کہ غلطی سے بھی کوئی عقلمند اور باشعور انسان اس معاشرے کو فائدہ نہ دے جائے اور ہمارے ملک کا نام روشن کرے،یہ ملک کے ساتھ زیادتی ہے،اس کی کمزوری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ یہاں تک کہ فیکٹریز اور کمپنیاں بھی اُن لوگوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں،جو باہر سے پڑھ لکھ کر آتے ہیں۔آخر پاکستان کیوں تعلیمی میدان میں اتنا پیچھے ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا معیارِ تعلیم ہے۔ ایک عقلمند شخص کی قدرایک عقلمند معاشرہ ہی کر سکتا ہے،جو پڑھائی کو شوق اور سمجھ کر نہیں پڑھیں گے اور نقل کر کے کامیاب ہوں گے،اُنہیں زندگی میں کامیابی کیسے مل سکتی ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس تعلیمی نظام کی خراب صورتِ حال سے ہم سب واقف تو ہیں،مگر اس کو ٹھیک کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ہمارے معاشرے میں دو طبقات کے لوگ ہیں،ایک وہ جو شوق سے تعلیم حاصل کرتے ہیں تاکہ اس ملک کو اور خود کو کامیاب کر سکیں اور دوسری طرف وہ جن کا مقصد نقل کر کے نمبر لینا ہے،تعلیم سے اُن کا کوئی سروکار نہیں۔بس ڈگری کی ضرورت کے تحت سکول، کالج اور یونیورسٹی جاتے ہیں۔اس ملک میں ہزاروں کی تعداد میں تعلیمی ادارے موجود ہیں، مگر پھر بھی ہم لوگ باہر سے پڑھنے لکھنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں،کیونکہ یہاں کا معیارِ تعلیم بہت کمزورہے اور دوسری وجہ ہماری تعلیم کی طرف عدم دلچسپی بھی ہے۔ہماری حکومتوں نے تعلیم کی طرف اتنی توجہ نہیں دی جتنی ضروری تھی۔ یہ وجہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور ہمارے نوجوان، جن میں ہر طرح کی صلاحیت موجود ہے، صرف نقل کی زنجیروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ تعلیمی نظام کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی معاشرے کو بہتری کی بنیاد فراہم کی جائے۔ ہمارے ملک میں آگے ہی تعلیم کی شرح بہت کم ہے اور اُس کے بعد ہمارے نوجوانوں کا نقل کی طرف رجحان ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔رَٹا لگا کر پڑھنے میں اور سمجھ کر پڑھنے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔اُسی طرح جس معاشرے میں لوگوں کو نقل کا چسکا لگ جائے وہ محنت کیوں کرے گا؟ان کو احساس نہیں کہ یہ ملک سے دشمنی کر رہے ہیں۔بغیر محنت اور سمجھ کے پڑھنے والا آدمی ایک جاہل کی مانند ہی ہوتا ہے۔ ڈگری کا ایک کاغذ آپ کی صلاحیت کی ضمات نہیں دے سکتا۔آپ کا ہنر اور محنت ہی آپ کو زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے، مگر ہمارے نوجوانوں کو اِس بات کا بالکل احساس نہیں کہ وہ نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ ملک کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔

تعلیم یافتہ فرد کسی کے آگے سر نہیں جھکاتا۔اسی لئے زمیندار اور چودھری اپنے علاقے کے لوگوں کو پڑھنے نہیں دیتے اور گاؤں میں تعلیم کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔ نقل کروا کر کامیاب کرنے سے صرف ذہنی غلام پیدا کئے جاتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ امتحانی مراکز بھی خریدے اور بیچے جاتے ہیں،جہاں طلبہ بے دھڑک ہو کر نقل کرتے ہیں اور امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔یہ کامیابی بھی ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے شہروں میں یہ زہریلی وباء پھیل گئی ہے کہ والدین خود تعلیمی مراکز میں جا کر اپنے بچے کی نقل کر کے کامیاب ہونے کی التجا کرتے ہیں۔یہ سب ہمارے معاشرے میں پھیلی اُس سوچ کے باعث ہے جو ہمارے والدین کے ذہنوں میں پیوست ہو چکا ہے کہ اچھے گریڈ ہی کامیابی کی ضمانت ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ وہ خود اپنے بچے کی سوچ کو نقل کی زنجیروں میں باندھ کر اُس کو پوری زندگی کے لئے قید کر رہے ہیں اور یہ ایک ایسی قید ہے جو بظاہر تو دکھائی نہیں دیتی، مگر انسان ساری زندگی ایک غلام بن کر رہ جاتا ہے۔یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ اس ملک میں کوئی اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتا۔اساتذہ جن کی ناک کے نیچے نقل جیسی غلط چیزیں پروان چڑھ رہی ہیں انہیں چاہئے کہ طلبہ کو غلط راہ پر جانے سے روکیں،بلکہ بدقسمتی سے وہ خود اس میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ

”لالچ بری بلا ہے“

اور استاد نے علم کو ایک تجارت سمجھ لیا ہے اور الگ اکیڈمی اور کوچنگ سنٹر کھول لئے ہیں۔اُدھر بھی وہی نقل کا سلسلہ پروان چڑھ رہاہے۔ اساتذہ اس عمل کو روکنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہیں چاہئے کہ طلبہ کو نقل سے دور رکھنے کے لئے سخت اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں جائیں۔ والدین کوبھی چاہئے کہ اپنی اولاد کو راہِ راست پر لائیں اور اُن کا محاسبہ کریں۔ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔محکمہ تعلیم بھی اپنے امتحانات کے نظام میں بروقت اور ایسی تبدیلیاں لائیں کہ طلبہ نقل کی بجائے اپنی عقل اور شعور کے مطابق پرچہ حل کریں، مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں عقل مند اور ذہین لوگوں کی کوئی کمی نہیں، بس اُن کو صحیح سمت کی ضرورت ہے۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1