شانگلہ کو سابق حکمرانوں نے سیاسی فائدے کیلئے جان بوجھ کر پسماندہ رکھا:شوکت یوسفزئی

شانگلہ کو سابق حکمرانوں نے سیاسی فائدے کیلئے جان بوجھ کر پسماندہ رکھا:شوکت ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ شانگلہ کو دوسرے ترقی یافتہ ضلعوں کے برابر لانے کے لیے سڑکوں اور سکولوں کی تعمیر پر کام شروع ہے جس میں زیادہ تر سڑکوں کی تعمیر اور زلزلے سے متاثرہ 88 سکولوں میں 50 سکولوں کی تعمیر اس سال جون تک مکمل کرلی جائے گی۔ شانگلہ کی تمام محرومیوں اور مسائل کے حل کے لیے اپنی پوری کوشش کرتا رہونگا کیونکہ شانگلہ کو ماضی میں حکومتوں نے سیاسی فائدے کے لیے جان بوجھ کر پسماندہ رکھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں شانگلہ کے مختلف وفود سے ملاقات میں کیا۔ وفود نے صوبائی وزیر کو اپنے علاقے کے مسائل سے آگاہ کیا اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ زیادہ تر ترقیاتی منصوبے اس سال جون تک مکمل کر لئے جائیں گے۔ کیڑاء اور اجمیر روڈ کی تعمیر میں حائل تمام مسائل حل کر دیے گئے ہیں اور کام جلد مکمل کر لیا جائے گا، سسوبی تا کورمنگ روڈ پر چار کلومیٹر تک کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ رانیال تا چھچڑوں روڈ اور شہتوت روڈ جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔ کروڑہ اجمیر روڈ پر سات کلومیٹر تک کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ بشام کالا روڈ کے لیے ٹینڈر اس مہینے شائع کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ شانگلہ میں ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں،شانگلہ کے عوام کو جس منصوبے میں کوئی کوتاہی نظر آئے تو متعلقہ حکام کو بروقت اطلاع دیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف بروقت ایکشن لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شانگلہ کو ماضی میں یہاں پر باریاں لینے والوں نے پسماندہ رکھا۔ اب شانگلہ کی تمام محرومیوں کا خاتمہ کر کے اس کو دوسرے ترقی یافتہ ضلعوں کے برابر لانا ہے جس کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ بشام اور الپوری میں ریسکیو 1122کے قیام کے لیے ٹینڈر جاری کر دیئے گئے ہیں جبکہ زراعت و لائیو سٹاک شعبے میں سول ویٹرنری ڈسپنسری کے قیام کو جلدی ممکن بنایا جا رہا ہے۔ 2010 کے سیلاب سے متاثرہ گانشال اور داموڑء ہیلتھ سنٹر کو بھی جلدی کھولا جا رہا ہے۔ شانگلہ میں فوڈ گرین گودام کے قیام میں حائل رکاوٹیں ختم کر دی گئی، تعمیراتی کام جلد شروع ہوگا۔شانگلہ میں سب ڈویژنل کمپلیکسز کے قیام پر 80 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے

مزید : صفحہ اول


loading...