شہر قائد میں پٹرول پمپس مالکان انسانی جانوں سے کھیلنے لگے

  شہر قائد میں پٹرول پمپس مالکان انسانی جانوں سے کھیلنے لگے

  



کراچی (رپورٹ /ندیم آرائیں)شہر قائد میں پٹرول پمپس مالکان انسانی جانوں سے کھیلنے لگے۔ پولیس کی جانب سے نوٹس آویزاں کیے جانے کے باوجودشہر قائد میں پٹرول بوتلوں میں فروخت ہونے لگا۔متعدد حادثات کے باوجود پٹرول پمپس مالکان پر جوں تک نہیں رینگی۔تفصیلات کے مطابق بوتلوں میں پٹرول کی ترسیل سے شہرقائد میں مختلف واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں شہر قائد کے علاقے نیو کراچی میں چلتی گاڑی میں آگ لگنے سے تین بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق اور 5 شدید زخمی ہو گئے تھے۔واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ گاڑی میں کسی نے سگریٹ کے لیے آگ جلائی اور قریب ہی موجود پٹرول کی بوتل نے آگ پکڑ لی جس کی وجہ سے یہ سانحہ رونما ہوا۔اس حادثے کے بعد پولیس کی جانب سے کراچی کے مختلف پٹرول پمپس پر نوٹس آویزاں کئے گئے ہیں، جس میں بوتلز میں پٹرول کی فروخت کو ممنوع اور جان لیوا قرار دیا گیا ہے تاہم پٹرول اسٹیشن مالکان منافع خوری میں اندھے ہوکر انسانی جانوں سے کھیلنے لگے ہیں۔شہر بھر کے اسٹیشنز میں بوتلوں میں پیٹرول کا فروخت ہونا معمول بن گیا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ میں بوتلز میں پیٹرول کا موجود ہونا عام بات ہے۔ذرائع کے مطابق شہرقائد میں تقریبا 99فیصد رکشوں میں پیٹرول کی فلنگ کے لئے بوتلوں کا استعمال کیا جاتا ہے،رکشوں میں زیادہ تر سفر کرنے والوں میں خواتین اور اسکول جانے والے بچے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس مالکان پولیس کی ایماء پر کھلے عام بوتلوں میں پیٹرول فروخت کررہے ہیں،پولیس کی جانب سے بظاہر تو نوٹس آویزاں کیے گئے ہیں لیکن بوتلوں میں پیٹرول فروخت کرنے والے پمپس مالکان سے بھاری رشوت بھی وصول کی جارہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس میں موجود میٹرزکا متعلقہ اداروں کی جانب سے مستقل چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے عوام مجبورا ْ بوتلوں میں پیٹرول خرید رہی ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے پیٹرول پمپس میں پیٹرول کی فروخت کے دوران چوری کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے جائے تو عوام کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...