فیصل واوڈا کے پروگرام میں بوٹ لے جانے پر وزیراعظم کا کیا رد عمل تھا ؟ سب کو معلوم ہو گیا

فیصل واوڈا کے پروگرام میں بوٹ لے جانے پر وزیراعظم کا کیا رد عمل تھا ؟ سب کو ...
فیصل واوڈا کے پروگرام میں بوٹ لے جانے پر وزیراعظم کا کیا رد عمل تھا ؟ سب کو معلوم ہو گیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے بوٹ ٹی وی پروگرام میں لانے کے عمل پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہاہے کہ ” نوازشریف اور مریم نواز معافی مانگ لیں تو میں بھی معافی مانگ لوں گا ، وزیراعظم کو میرا یہ عمل پسند نہیں آیا ہے میں نے عمران خان سے کہا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں درست ہے اور میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔“

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام” کیٹپل ٹاک “ میںگفتگوفیصل واوڈا نے کہا کہ میں اس پر بحث کے لیے تیار ہوں کہ بوٹ والا عمل درست تھا یا نہیں، شو میں بوٹ لے جانے کی ذمہ داری میری تھی اور میں بوٹ تھیلے میں لے کر گیا تھا، تمام اداروں اور ان کی قربانیوں کی عزت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو میری بوٹ والی بات پسند نہیں آئی، میں نے وزیراعظم کو کہا آپ جو کہہ رہے ہیں درست کہہ رہے ہیں اور آئندہ ایسا نہیں ہوگا، ذمہ داری کا مظاہرہ کروں گا۔

فیصل واوڈا کا کہناتھا کہ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی چارج شیٹ کارگل سے شروع ہوتی ہے، طیارہ ہائی جیک کیس میں نوازشریف کس کو انڈیا بھیج رہے تھے؟ نوازشریف نے کہا تھا کارگل کی تحقیقات کروں گا تو کس کے بارے میں کہا تھا؟فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف نے آخری بیانیے تبدیل کیے، خلائی مخلوق کس کا بیانیہ تھا؟ ہمیں سیلیکٹڈ کا سیلیکٹڈ آئٹم کہا گیا، ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دے کر قوم کو ورغلایا گیا، ججوں کو کہا گیا لوہے کے چنے ہیں چبا کر دکھاو¿، بھارتی وکیل نے نوازشریف کے بیانیے کا حوالہ دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روزاپوزیشن آئینہ دیکھ کر بھاگ گئی، پلیٹیلیٹس کا ڈرامہ رچایا گیا، طیارے میں انگور کھاتے ہوئے گئے، قوم اورن لیگ کا ووٹر دیکھ رہا ہے کہ ایک بارپھریہ لوگ بیرون ملک بھاگ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور مریم ماضی میں ایک ادارے کیخلاف اپنائے جانے والے بیانیے پر معافی مانگیں میں تو میں بھی معافی مانگ لوں گا۔

مزید : قومی