وزیراعظم اور کابینہ کے استعفوں سے روسی صدرکو کیا فرق پڑے گا؟ خبر آگئی

وزیراعظم اور کابینہ کے استعفوں سے روسی صدرکو کیا فرق پڑے گا؟ خبر آگئی
وزیراعظم اور کابینہ کے استعفوں سے روسی صدرکو کیا فرق پڑے گا؟ خبر آگئی

  



ماسکو(ڈیلی پاکستان آن لائن)روس میں وزیراعظم اور کابینہ کے استعفوں سے روسی صدر کی طاقت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا۔ آئین میں ترامیم اور نئے وزیراعظم کے انتخاب سے وہ اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے ساتھ2024تک نہ صرف اپنی صدارت محفوظ کرلیں گے بلکہ 2024کے بعد بھی اقتدار میں رہنے کی ہموار کرلیں گے۔

رائٹرز کے مطابق پیوٹن نے نئی ترامیم میں صدر کے اختیارات کم کرنے اور وزیراعظم کے اختیارات میں اضافے کا عندیہ دیا ہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ67سالہ پیوٹن 2024کیلئے اپنی راہ ہموار کررہے ہیں۔یہ ڈرامائی تبدیلی انہیں 2024میں انہیں صدارت کے بعد ایک بار پھر  اقتدار کی جانب لے جاسکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق پیوٹن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ روسی صدر اپنی مدت صدارت مکمل ہونے کے بعد بھی اقتدار میں رہنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ان کی ریفرنڈم کی تجویز اور نئے وزیر اعظم کے ساتھ نئے ہیڈ اآف سٹیٹ کونسل کے انتخاب کااختیار 2024 کے بعد  خود ا ن کے بااختیار رہنے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ  گزشتہ روز روس کے وزیر اعظم دمتری میدیدوف اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوگئے ہیں، انہوں نے صدر پیوٹن کو اپنا استعفیٰ پیش کیا جو قبول کرلیا گیا۔ صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ دمتری میدیدوف اور ان کی کابینہ عوام سے کیے گئے وعدوں کو نبھانے میں ناکام رہی ہے۔

روس کے مستعفی ہونے والے وزیر اعظم دمتری میدیدوف کا کہنا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے بیلنس آف پاور کے حوالے سے تجویز کی گئی آئینی ترامیم کے بعد بڑی تبدیلی آئے گی ، اسی لیے موجودہ حکومت نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

روسی اپوزیشن رہنما الیگزی نیوالنی کہتے ہیں کہ پیوٹن ان اقدامات سے پوری زندگی اقتدار پر براجمان رہنے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...