ماحولیاتی آلودگی کیس،ہائیکورٹ کا ٹائر جلانے والی فیکٹریوں کیخلاف کارروائی کاحکم

ماحولیاتی آلودگی کیس،ہائیکورٹ کا ٹائر جلانے والی فیکٹریوں کیخلاف کارروائی ...
ماحولیاتی آلودگی کیس،ہائیکورٹ کا ٹائر جلانے والی فیکٹریوں کیخلاف کارروائی کاحکم

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہورہائیکورٹ نے سموگ کے تدارک اورماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے درخواستوں پرٹائرجلانے والی فیکٹریوں کیخلاف کاررروائی کا حکم دیدیا،عدالت نے گرین بیلٹس سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک اورماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے درخواستو ںپر سماعت ہوئی، چیف جسٹس ہائیکورٹ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ۔چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے استفسار کیاکہ سموگ کی ابترصورتحال پر کیاکارروائی ہوئی ہے ؟سرکاری وکیل نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں پر کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے ، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ گرین بیلٹس کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ؟،آلودگی کے خاتمے کیلئے درخت لگانے کیلئے کیااقدامات کئے گئے ؟عدالت نے رنگ روڈ پر درخت نہ لگانے پر تشویش کااظہارکیا،عدالت نے شہر کے ماسٹرپلان میں درخت لگانے کیلئے کیاپالیسی ہے ؟۔

چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے استفسار کیاکہ لاہور میں کھلی ڈرینزکوٹھیک کیوں نہیں کیا جارہا؟،عدالت نے کہاکہ واساکھلے مین ہولزمیں بچوں کے گرنے واقعات روکنے پر کام کرے ،واسانہر میں آلودہ پانی کی مقدار معلوم کرنے کیلئے نمونے لے کر ٹیسٹ کرے ،لاہورہائیکورٹ نے گرین بیلٹس سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے ٹائر جلانے والی فیکٹریوں کےخلاف کارروائی کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ لاہورکی گرین بیلٹ کہاں گئی،ماسٹر پلان میں کہیں گرین بیلٹ موجود بھی ہے،متعلقہ ادارے کچھ نہیں کریں گے توان کی مزاج پرسی کیلئے عدلیہ موجود ہے ،عدالت نے کہا کہ کاٹن ہماری بنیادی پیداوار ہے کسانوں کو کھاد یا ادویات میں کیا سبسڈی دی جا رہی ہے ؟،افسر محکمہ زراعت نے کہا کہ کاٹن کی پیداوار میں کمی کی وجہ اس کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے،لاہورہائیکورٹ نے کہا کہ ہمسائے ملک سے کاٹن خریدیں گے تو یہی کچھ ہوگا،عدالت نے استفسار کیا کہ فوگ لائٹس اوردیگرحفاظتی اشیاملکی پیداواری گاڑیوں کے ساتھ کیوں نہیں ہوتیں ؟،مقامی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کوکون پوچھے گا؟۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور