تحریک انصاف حکومت کی بدترین کارکردگی! گردشی قرضوں میں اتنا اضافہ کہ آپ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں

تحریک انصاف حکومت کی بدترین کارکردگی! گردشی قرضوں میں اتنا اضافہ کہ آپ بھی سر ...
تحریک انصاف حکومت کی بدترین کارکردگی! گردشی قرضوں میں اتنا اضافہ کہ آپ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے ہ گئے، تحریک انصاف کے لگ بھگ دو سالہ دور حکومت میں گردشی قرضوں میں 565ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق ان میں سے 100ارب روپے کا اضافہ صرف گزشتہ 6مہینوں میں ہوا۔ گردشی قرضوں میں اس ہوشربا اضافے کے سبب پی ٹی آئی حکومت آئی ایم ایف کے طے کردہ قرضوں میں کمی کے ٹارگٹ کو پورا کرنے میں مسلسل دوسری بار ناکام ہو گئی۔

سابق حکومتوں کی طرف سے بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کو ’ایڈجسٹ‘کرنے کے بعد مالی سال 2019-20ءمیں جولائی سے دسمبر کے دوران گردشی قرضوں میں ماہانہ اضافے کی شرح 17ارب روپے رہی، جو کہ حکومتی دعوﺅں سے کہیں زیادہ تھی۔ حکومت کی طرف سے 10ارب روپے ماہانہ اضافے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔سبسڈیز کے بغیر گردشی قرضوں میں خالص ماہانہ اضافہ 29ارب روپے کی حد تک پہنچ گیا۔حالانکہ حکومت نے بجلی کی مد میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران صرف 73ارب روپے کی سبسڈی دی اور گزشتہ ایک سال میں صرف بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی مد میں صارفین پر 405ارب روپے کا اضافی بوجھ لاد دیا گیا۔

وزارت توانائی کے حکام کے مطابق ان اضافی 405ارب روپے میں سے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومت نے 195ارب روپے وصول کیے۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں حکومت بجلی کی قیمت میں 30پیسے فی یونٹ کا مزید اضافہ کرنے جا رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران یہ پانچویں بار اضافہ کیا جائے گا۔ایکسپریس ٹربیون کے رابطہ کرنے پر پاور ڈویژن کے ترجمان نے گردشی قرضوں میں 565ارب روپے کے اضافے کی تردید نہیں کی تاہم انہوں نے حکومتی کارکردگی کا دفاع کیا اورکہا کہ ”پہلے سال میں گردشی قرضے اس لیے بڑھے کہ اس سال میں ان قرضوں میں کمی کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے، جن کے نتائج آگے چل کر سامنے آئیں گے۔“

مزید : علاقائی /اسلام آباد