امریکہ کے نوجوانوں نے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے انتہائی شرمناک کام شروع کردیا، تفصیلات جان کر ٹرمپ کا سر شرم سے جھک جائے

امریکہ کے نوجوانوں نے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے انتہائی شرمناک کام ...
امریکہ کے نوجوانوں نے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے انتہائی شرمناک کام شروع کردیا، تفصیلات جان کر ٹرمپ کا سر شرم سے جھک جائے

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)فیملی سسٹم کا کباڑہ کرنا مغربی ممالک کو اس قدر مہنگا پڑ رہا ہے کہ وہاں طالب علم اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے ’شوگر بے بی‘ بننے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اس شرمناک کام کی طرف راغب ہونے والوں کی شرح حیران کن تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ kxan.com کے مطابق ’شوگر بے بی‘ کی اصطلاح ایسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو تعلیمی اخراجات کے لیے عمررسیدہ امیر مردوخواتین کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہیں۔ ایسے عمر رسیدہ مردوخواتین کے لیے بالترتیب ’شوگر ڈیڈی‘ اور ’شوگر ممی‘ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ شوگر بے بیز کی تعداد کے حوالے سے امریکی ریاست ٹیکساس پہلے نمبر پر ہے جہاں کی یونیورسٹیوں کے طالب علم ہزاروں کی تعداد میں شوگر بے بیز بن رہے ہیں۔ شوگر بے بیز بننے کے خواہش مند لڑکے لڑکیوں کو امیر مردوخواتین سے رابطے کی سروس فراہم کرنے والی ایک ویب سائٹ نے اپنے اعدادوشمار میں بتایا ہے کہ ان کی ویب سائٹ کے ذریعے یونیورسٹی آف ٹیکسس ایٹ آسٹن سرفہرست ہے جس کے 1ہزار 118لڑکے لڑکیاں اس ویب سائٹ کے ذریعے شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی تلاش کر چکے ہیں۔

دوسرے نمبر پر ٹیکسس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے 997طلبہ، تیسرے نمبر پر ٹیکسس سٹیٹ یونیورسٹی کے 945طلبہ، یونیورسٹی آف ٹیکسس ایٹ سین انٹونیو کے 887، یونیورسٹی آف ہوسٹن کے 863، یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکسس کے 742، ٹیکسس ٹیک یونیورسٹی کے 635 لڑکے لڑکیاں اس ویب سائٹ کے ذریعے بوڑھے امیر مردوخواتین کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر چکے ہیں۔اسی طرح ریاست کی دیگر یونیورسٹیوں کے بھی درجنوں طالب اس ویب سائٹ کے ذریعے یہ کام کر چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار صرف ایک ویب سائٹ کے ہیں اور طلبہ کی ایک واضح اکثریت ایسی ویب سائٹس کی بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے بھی شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی تلاش کر رہی ہے چنانچہ ایسے طلبہ کی اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس