بیکری کا ایک  مالک جس  نے  فرانسیسی حکومت کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کردیا

بیکری کا ایک  مالک جس  نے  فرانسیسی حکومت کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کردیا
بیکری کا ایک  مالک جس  نے  فرانسیسی حکومت کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کردیا

  

پیرس (عاکف غنی ) فرانس کے شہر بیسانون ( Besançon )سے تعلق رکھنے والے بیکری کے مالک سٹیفن  راوکلے نے حکومتی فیصلے کے خلاف دس دن کی بھوک ہڑتال کی اور اپنی لڑائی جیت لی اور حکومت کو نوعمر ملازم کو ملک چھوڑنے کا حکم واپس لینا پڑا۔

  تفصیلات کے مطابق مقامی بیکری کے مالک اسٹیفن کے پاس کورس ( کام ) کرنے والے گیانا سے تعلق رکھنے والے  نوعمر طالب علم  کو اٹھارہ سال کا ہونے اور فرانسیسی شناختی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے ایک ماہ میں ملک چھوڑنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا  جس پر بیکری کے مالک نے اس فیصلے کے خلاف بھوک ہڑتال کردی اور دس تازہ بھوک ہڑتال کے دوران طبعیت بگڑنے پر اسے ہسپتال بھی لے جایا گیا  لیکن  سٹیفن نے نوجوان کو فرانس کے پیپر ملنے تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔  دسیوں ہزار لوگوں نے بیکری مالک کے اس فیصلے کی حمایت کی۔

شہر کے  میئر نے بیکری مالک کے مطالبے کے حق میں حکومت کو خط لکھا ، آخر کار گزشتہ روز نوجوان کو فرانس کے پیپر دے دئیے گئے، نوجوان آئندہ منگل سے کام پر واپس آجائے گا۔ نوجوان اپنے حق میں فیصلے کا سن کر باقاعدہ رودیا۔ اس نے اپنے بیکری مالک ، اپنے  سکول کے اساتذہ ، تمام لوگوں اور ریاست فرانس کا شکریہ ادا کیا۔

مزید :

بین الاقوامی -