پلوامہ حملہ ، پاکستان کا موقف سچ ثابت، بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کی اہم شخصیت کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ لیک ہو گئی 

پلوامہ حملہ ، پاکستان کا موقف سچ ثابت، بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کی اہم ...
پلوامہ حملہ ، پاکستان کا موقف سچ ثابت، بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کی اہم شخصیت کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ لیک ہو گئی 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستا ن آن لائن ) بھارت کی مودی سرکار کے قریبی صحافی ارنب گوسوامی کی ٹی وی ریٹنگ ایجنسی کے سابق سی ای او” پارتھو داس گپتا“ کے ساتھ واٹس پر کی جانے والی خفیہ گفتگو لیک ہو گئی ہے جس میں ہونے والے انکشافات نے بھارت میں ہنگامہ برپا کر دیاہے، پاکستان کا پلوامہ حملے سے متعلق موقف ایک مرتبہ پھر سچ ثابت ہوا اور بھارت کو دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑ گیاہے ۔پلوامہ حملے میں بھارت نے اپنے فوجی مروائے اور الزام پاکستان پرلگایاتھا جس کی پاکستان نے عالمی سطح پر تردید کرتے ہوئے بھارت کو معاملے کی تحقیقات کی بھی پیشکش کی تھی ۔

تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کے قریبی صحافی ارنب گوسوامی کو پلوامہ حملے اور بالاکوٹ میں بھارتی دراندازی کا پہلے سے علم تھا اور بالاکوٹ میں دراندازی سے تین روز قبل بھارتی صحافی نے حملے کے بارے میں بتایا تھا ۔ارنب گوسوامی کی لیک ہونے والی چیٹ کے مطابق اس بار پاکستان سے متعلق کوئی بڑا اقدام اٹھایا جائے گا، اس بار سڑائیک پہلے سے بھی بڑی ہوگی۔ٹی وی ریٹنگ ایجنسی کے سابق سی ای او پاتھو داس گپتا نے ارنب گوسوامی کو آگے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ پھر وہ الیکشن میں کلین سویپ کر جائے گا “ ۔

ارنب گوسوامی اور پارتھو داس گپتا کے درمیان واٹس ایپ پر ہونے والی اس بات چیت کو ممبئی پولیس کی جانب سے چارج شیٹ کا حصہ بنایا گیاہے ۔واٹس ایپ چیٹ میں یہ انکشاف بھی ہواہے کہ ” پارتھو داس گپتا “ نے ارنب گوسوامی سے کہا کہ وہ پرائم منسٹر آفس میں میڈیا ایڈوائزر کی نوکری بھی حاصل کرے ۔ دی ہندو نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ متعدد مقامات پر ” رپبلک ٹی وی “ کے صحافی ارنب گوسوامی نے وزیراعظم آفس اور انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ منسٹری کے ساتھ قربتوں کا حوالہ دیا ۔

ارنب گوسوامی کو خاتون اور اس کے بیٹے کی خود کشی کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا ، ارنب گوسوامی نے انٹیریئر ڈیزائنر کو 83 لاکھ روپے ادا کرنے تھے تاہم بھارتی صحافی کی جانب سے ان الزاما ت کی تردید کی گئی ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ارنب گوسوامی نے گرفتاری کے دوران ایک خاتون افسر پر حملہ بھی کیا تھا جبکہ اس کے پکڑے جانے پر بھارتی حکومت شدید لیول پر حرکت میں آئی اور بھارتی سپریم کورٹ نے بھی ساتھ دیا ، جس کے باعث صدر بھارتی سپریم کورٹ بار گوسوامی سے ترجیحی سلوک پر مستعفی ہو گئے تھے ۔

مزید :

بین الاقوامی -