غیر ملکی کوہ پیماؤں نےموسم سرما میں پاکستانی چوٹی ’کے ٹو ‘سر کرکے عالمی ریکارڈ قائم کردیا

غیر ملکی کوہ پیماؤں نےموسم سرما میں پاکستانی چوٹی ’کے ٹو ‘سر کرکے عالمی ...
غیر ملکی کوہ پیماؤں نےموسم سرما میں پاکستانی چوٹی ’کے ٹو ‘سر کرکے عالمی ریکارڈ قائم کردیا

  

گلگت(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیپالی کو ہ پیماؤں نے دنیا کی دوسری بلند چوٹی ’کے ٹو‘   کو موسم سرما میں سَر کرکے نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا،دنیا کی 14بلند ترین چوٹیوں میں سے 13کو موسم سرما میں سر کیا جاچکا تھا  ’کے ٹو‘  وہ واحد چوٹی تھی جو موسم سرما میں اب تک سر نہیں کی جاسکی تھی۔

نجی ٹی وی چینل سما نیوزکےمطابق نیپال سےتعلق رکھنےوالے10کوہ پیماؤں نےتاریخ میں پہلی مرتبہ سخت ترین سردی کے موسم میں دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے ایک ’کے ٹو‘ کو سر کر لیا ہے،نیپال کا شرپا گروپ کوہ پیمائی کی تاریخ میں موسم سرما میں’ کےٹو ‘کو  سر کرنیوالا پہلا گروپ بن گیا ہے، ان دس کوہ پیماؤں میں سےتین کوہ پیما’لیلا پیک ٹریک اینڈ ٹورز‘جبکہ سات ’بلیو سکائی ٹریک اینڈ ٹورز‘ کےٹورآپریٹرزتھے،سطح سمندرسے8611 میٹر (28251فٹ ) کی بلندی پر واقع یہ چوٹی سردی کے موسم میں سر کرنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔ پہاڑوں کے درجہ حرارت کی ویب سائٹ ماؤنٹین فورکاسٹ کے مطابق جس وقت یہ کوہ پیما کے ٹو کو سر کر رہے تھے اس وقت وہاں پر درجہ حرارت منفی 42 ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔

موسم سرما کی ہولناک سردی میں منفی 50 ڈگری سے بھی کم درجہ حرارت میں ’کے ٹو‘  کو سر کرنا بہت بڑا چیلنج اور انتہائی مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ سردیوں میں وہاں طوفانی ہوا کی رفتار 200کلو میٹر سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ ’کے ٹو‘  کی بلندی 8611میٹر ہے جو بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے صرف 200میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں ’کے ٹو ‘ کے حالات جان لیوا ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تک اسے سر نہیں کیا جاسکا تھا۔ اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش میں 86سے زائد کوہ پیما لقمہ اجل بن چکے  ہیں۔

مزید :

قومی -کھیل -