پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ،نواز شریف بھی کھل کر سامنے آگئے،کھری کھری سنادیں

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ،نواز شریف بھی کھل کر سامنے آگئے،کھری کھری سنادیں
پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ،نواز شریف بھی کھل کر سامنے آگئے،کھری کھری سنادیں

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان مسلم لیگ (ن) کےقائد میاں نواز شریف نے کہاہےکہ  فارن فنڈنگ کیس چھ سال سے لٹکا ہوا ہے،عمران خان خود انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں،اگر اس میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی تو اسے چھپایا کیوں گیا؟کیا یہ مشکوک اور غیر شفاف اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے زمرے میں نہیں آتے؟منی ٹریل کہاں ہے؟الیکشن کمیشن قوم کو یہ تفصیلات دینے سے کیوں اور کس کے کہنے سے کترا رہا ہے؟۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری ویڈیو پیغام میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کا تعلق پاکستان کے آئین  اور قانون سے ہے،تحریکِ انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ صرف اس لیے نہیں ہو پا رہا کہ کٹہرے میں کھڑےشخص کا نام نواز شریف نہیں ،عمران خان ہے اور مقدمے میں ملوث جماعت کا نام پاکستان مسلم لیگ(ن)نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف ہے۔

میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس 2014 میں دائر ہوا،یہ کیس تحریک انصاف کے بانی رکن نےدائر کیا،اس کی 70 سماعتیں ہوچکی ہیں،عمران خان خود انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے،8 بار وکیل بدلے گئے،الیکشن کمیشن کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا،عمران خان نے خود تسلیم کیا فارن فنڈنگ میں غلطیاں ہوئیں،فنڈنگ کے لئے بنی دونوں کمپنیاں عمران خان کے حکم پر بنیں،اگر اس میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی تو اسے چھپایا کیوں گیا؟کیا یہ مشکوک اور غیر شفاف اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے زمرے میں نہیں آتے؟منی ٹریل کہاں ہے؟الیکشن کمیشن قوم کو یہ تفصیلات دینے سے کیوں اور کس کے کہنے سے کترا رہا ہے؟عمران خان مجرم ہے،اپنا جرم ایجنٹوں کے سر پر ڈال رہا ہے،پی ڈی ایم جماعتوں نے19 جنوری کو الیکشن کمیشن آفس کے سامنے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے،عوام پی ڈی ایم  کی  آواز میں آواز ملائیں اور احتجاج میں شریک ہوں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے نکالنے کے لئے 2017 میں تیز رفتاری سے کارروائی کی گئی،وٹس ایپ کے ذریعےجوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ( جے آئی ٹی) بنائی گئی جس میں ملٹری انٹیلی  جنس اور انٹرسروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کے نمانئدے بھی شامل کیے گئے اور اسے 60 دن کے اندر رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا، بیٹے کی کمپنی کے اقامے کی بنیاد پر ایک وزیراعظم کو برطرف کردیا گیا،احتساب عدالت کو پابند کیا گیا کہ 6 ماہ میں فیصلہ دیا جائے ،احتساب عدالت پر سپریم کورٹ کا نگران جج بٹھا دیا گیا، ہفتہ وار چھٹی بھی ختم کی گئی، جج محمد بشیر کو ایکسٹیشن بھی دی گئی۔

مزید :

قومی -