حافظ نعیم الرحمن نے شاہراہ فیصل کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے گھر کے باہر دھرنے کی دھمکی دے دی 

حافظ نعیم الرحمن نے شاہراہ فیصل کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے گھر کے باہر ...
حافظ نعیم الرحمن نے شاہراہ فیصل کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے گھر کے باہر دھرنے کی دھمکی دے دی 

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے جاری دھرنے کے سترہویں دن اتوار کو شاہراہ فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی مارچ اور دھرنا دیا گیا ،مارچ کا آغاز حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں عوامی مرکز سے ہوا ،شرکاءنے نرسری سٹاپ تک پیدل مارچ کیا اوردھرنا دیا ،نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد شرکاءنے پھر مارچ کیا اور میٹروپول ہوٹل پر دھرنا دیا،مارچ میں بچے،بوڑھے خواتین بھی بڑی تعداد موجود تھی، مارچ میں ہندو،سکھ ،مسیحی سمیت دیگر اقلیتوں سے وابستہ افراد نے بھی شرکت کی ،مارچ کے قائدین نے ہاتھوں میں ایک بڑا بینر اٹھایا ہوا تھا جس پر ہمارا مطالبہ بااختیار شہری حکومت تحریر تھا،شاہراہ فیصل کے ایک ٹریک پر مارچ جبکہ دوسرے ٹریک پر گاڑیاں چل رہی تھیں۔مارچ سے پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ ، امیر ضلع جنوبی ورکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید نے بھی خطاب کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے نرسری سٹاپ اور میٹروپول ہوٹل پر شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میٹروپول سے وزیر اعلیٰ ہاو¿س قریب ہے، ان شاءاللہ وہاں بھی دھرنا دیں گے ،سندھ اسمبلی کی جگہ خالی نہیں کریں گے، یہ ہمارا احتجاجی مرکز رہے گا ،اہل کراچی کو حق نہ دیا گیا تو شہر کی تمام شاہراو¿ں اور سڑکوں پر دھرنے اور مارچ ہوں گے،کراچی کے اہم اور سٹریٹجکٹ پوائنٹ پر دھرنا دیں گے اور مائیں ،بہنیں ،بیٹیاں بھی دھرنا دیں گی اوراپنا حق مانگیں گی، ایک ہفتے میں پورے شہر میں دوہزار کارنر میٹنگز کریں گے، حق دو کراچی کی صدا ہر گلی کوچے ،محلے اور ہر گھر سے نکلے گی ، جدوجہد آگے بڑھے گی ،کراچی والے اپنا حق لے کر رہیں گے ، کراچی کو وڈیروں اور جاگیرداروں اور قبضہ مافیاو¿ں سے آزاد کروائیں گے ، شہری ادارے واپس لے کر رہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے سے صرف سندھ حکومت نہیں سندھ کی فرینڈلی اپوزیشن بھی پریشان ہے ،آدھی آبادی غائب کرنے والی مردم شماری کی بنیاد پر بھی کراچی کی یونین کونسلیں 600ہونی چاہیئے لیکن اس کے باوجود کراچی کی یونین کونسلیں آدھی بھی نہیں بنائی گئیں ،صوبے سندھ کا تعلیمی بجٹ 277ارب روپے ہے جو کہ صرف حکمرانوں کی عیاشی پر خرچ ہورہا ہے ،کراچی وڈیرے اور جاگیردار دیہی و شہری سندھ کے بچوں کو تعلیم سے محروم کررہے ہیں ، سالانہ تعلیمی بجٹ277ارب روپے وڈیروں اور جاگیرداروں سے چھین کر نکالنا یہی عبادت، جدوجہد اور سیاست ہے ،سندھ کے 44فیصد بچے سکول جانے سے قاصر ہیں ،صحت اور تعلیم کو تباہ کردیا گیا ہے ،کراچی مونسپل کارپوریشن( کے ایم سی) کے ہزاروں سکول وڈسپنسریاں سندھ حکومت نے لے لی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ آج شاہراہ فیصل پر مارچ کے شرکاءشہر کے تین کروڑ شہریوں کاحق مانگ رہے ہیں ،کراچی کروٹ لے رہا ہے اور بیدار ہورہا ہے ، یہ تبدیلی لسانیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے جائز اور قانونی حق کے لیے ہے ، کراچی کے عوام کا حق ہے کہ صحت ،تعلیم ،ٹرانسپورٹ سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں،ہم تحریک کو مزید آگے بڑھائیں اور کالا قانون واپس لینے پر مجبور کردیں گے،حکمران بتائیں کہ جب کراچی پورے ملک کو 54فیصد ٹیکس ،قومی خزانے میں تقریبا 70فیصد اور صوبے کو 95فیصد جمع کراتاہے تو اسے بنیادی حقوق سے کیوں محروم کیا ہوا ہے؟35سال متحدہ قومی موومنٹ( ایم کیو ایم) اور پیپلزپارٹی نے مل کر کراچی کے شہریوں کا استحصال کیا،بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری بتائیں کہ پورے ملک اورصوبے کو چلانے والا شہر بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہے ؟سندھ حکومت شہر کو لنگڑی لولی بلدیہ کا نظام دینا چاہتی ہے ،جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں شہریوں کے مسقبل کے لیے جدوجہد کررہی ہے ،حکمران بتائیں کہ کراچی شہر کے بچوں کا مستقبل کیا ہے؟حکومت کی جانب سے معیاری تعلیم تک میسر نہیں ہے ،کراچی کا شری اپنے بچوں کو معیاری تعلیم نہیں دلواسکتا ،سرکاری سطح پر کوئی سکول موجود نہیں ہے کہ جہاں بچوں کو پڑھایا جاسکے ،کروڑوں کی آبادی والے شہر میں ٹرانسپورٹ کا کوئی مو¿ثر نظام تک موجود نہیں ہے ،کراچی کے مائیں ،بہنیں اور بیٹیاں چنگ چی رکشوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے ، ساڑھے تین کروڑ عوام کا حق چھین کر لیں گے ،پورا پاکستان حق دو کراچی تحریک کی پشت پر ہے ،حق دو کراچی تحریک پاکستان کی ترقی کی تحریک ہے۔ 

انہوں نے کہاکہ وڈیروں اور جاگیرداروں نے دیہی سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اب کراچی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ،جماعت اسلامی کراچی کے ہر زبان بولنے والا کی نمائندگی کررہی ہے ،ہماری جدوجہد ،عوامی حقوق کی تحریک اور تمام مطالبات جائز ،آئینی اور قانونی ہیں ،ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کو میگا سٹی کا درجہ دیا جائے ،دیہی و شہری آبادی میں یکساں تناسب سے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں ،بین الاقوامی طرزکا ٹرانسپورٹ کا نظام دیا جائے،شہر میں میئر ،ڈپٹی میئر ،کونسل کے ممبران کا براہ راست انتخاب کیا جائے ،کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا نگراں بااختیار میئر کو بنایا جائے ،بااختیار شہری حکومت کے ماتحت صحت ،تعلیم، سپورٹس، سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ کا مربوط نظام بنایا جائے، کے ڈی اے ،ایس بی سی اے ،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ،سٹی پولیس وٹریفک پولیس سمیت بلدیاتی اداروں میگاسٹی گورنمنٹ کے تحت کیے جائیں ،کوٹہ سسٹم ختم اورنئی مردم شماری ڈی فیکٹو کی بجائے ڈیجور طریقے سے کی جائے ۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -