آسٹریا میں کورونا مخالف مظاہرہ

آسٹریا میں کورونا مخالف مظاہرہ
آسٹریا میں کورونا مخالف مظاہرہ

  

ویانا(اکرم باجوہ)آسٹریا کے دارالحکومت ویانا شہر کے وسط ریڈ ایریا میں 15 جنوری کی شام کو ویانا کے ہیلڈن پلاٹز پر کورونا مخالف مظاہرہ کیاگیا جس میں حکومتی مخالف سیاسی پارٹیوں اور انکے کارکنوں نے بھرپور شرکت کی، پولیس کے مطابق تقریباً 27 ہزار کے لگ بھگ شرکاء مظاہرہ میں موجود تھے جو گزشتہ کورونا مخالف مظاہرے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔گذشتہ کورونا مخالف مظاہرہ میں 40 ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی تھی۔اس سے قبل لازمی ویکسینیشن مخالفین ہزاروں مظاہرین معروف شاہراہ رنگ روڈ شہر کے مرکز سے مارچ کرتے ہوئے ہیلڈن پلاٹس پہنچے تھے انتظامیہ نے رنگ روڈ کو مکمل کسی بھی ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھا اور مظاہرین کی انتظامیہ نے ایک بڑے ٹرالے پر لاؤڈ اسپیکر پر حکومت مخالف نعرے اور زبردستی کورونا ویکسینیشن پر تنقیدی تقاریر کرتے ہوئے مارچ کرتے رہے۔

 پولیس کے ترجمان کرسٹوفر ورہنجاک کے مطابق ایک گرفتاری اس لیے کی گئی کہ ایک کارکن نے متعدد درخواستوں کے باوجود ماسک پہننے سے انکار کر دیا تھا۔ کورونا مخالف مظاہرہ پروگرام کا سیاسی فائدہ ایک بار پھر سیاسی جماعت FPÖ کے سربراہ ہربرٹ کِکل کو ہوا جس نے ایک بار پھر بہت تعریفی تقریر میں وفاقی حکومت اور سب سے بڑھ کر وزیراعظم کارل نیہمر  پر نکتہ چینی کی۔ اپنی تقریر میں کِل نے آسٹریا میں لازمی ویکسینیشن کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا وعدہ کیا۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا ریلی میں کئی شرکاء پولیس جیسی وردیوں میں نظر آئے جو کہ اصلی پولیس کی وردیوں کی شکل میں دیکھے گئے تھے۔ان لوگوں کو پولیس نے روکا اور قانونی کارروائی کے بعد انہیں مظاہرے سے مجبوراً نکلنا پڑا۔ پولیس نے ایک اور بیان میں کہا کہ ہفتہ کی شام پولیس کی پہلی کارروائی کرتے ہوئے مظاہرہ میں ایک خاتون نے ایڈولف ہٹلر کی تصویر والا بینر اٹھا رکھا تھا۔ بینر کو محفوظ کر لیا گیا ہے اور اس خاتون کو ممنوعہ قانون کی خلاف ورزی کے شبہ میں اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

ابتدائی بیلنس شیٹ میں ممنوعہ قانون کی خلاف ورزی اور ریاستی اتھارٹی کے خلاف مزاحمت کے شبہ میں گرفتاری کے ساتھ ساتھ ماسک کی ضرورت کو نظر انداز کرنے پر کچھ گرفتاریوں اور 565 رپورٹس بھی اندراج کی گئی ہیں۔کشیدہ صورتحال کے باوجود کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔مظاہرہ میں دوپہر دو بجے کے قریب دو گرفتاریاں کی گئیں - بشمول ایک منتظم کے خلاف پر جس نے پولیس کی درخواست کے باوجود FFP2 ماسک نہیں لگایا تھا دوسری ہٹلر کے پوسٹرز اور بینر اٹھانے پر کی گئی۔ مظاہرہ میں جعلی پولیس افسران کے ایک گروپ نے جو دھوکہ دہی سے اصلی پولیس یونیفارم کے ساتھ موجود تھے نے مظاہرہ میں ہلچل مچا دی۔ان کے ساتھ کالی مرچ کا سپرے، ہتھکڑیاں اور کیبل ٹائیز تھے۔ایک پولیس افسر نے انکو چیک کیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ خود ساختہ "باڈی گارڈ" ہیں جس کی اطلاع پہلے ہی انتظامیہ دے دی گئی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -