جڑی بوٹیوں کی وجہ سے مسور کی فصل کو نقصان ہوتا، ماہرین
فیصل آباد (اے پی پی):ماہرین زراعت نے کاشتکاروں سے کہاہے کہ جڑی بوٹیوں کی وجہ سے مسور کی فصل کی پیداوار 50فیصد جبکہ چنے کی فصل 25فیصد تک متاثر ہوتی ہے لہذا وہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے فوری اقدامات یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ مسور کی فصل جڑی بوٹیوں کی بہتات کی وجہ سے بعض اوقات ناکام بھی ہو جاتی ہے کیونکہ جڑی بوٹیوں سے متاثرہ کھیتوں کے چنے اور مسور کی پیداوار غیر معیاری ہوتی ہے جس کی مارکیٹ میں کم قیمت ملتی ہے اسلئے پہلے 8سے10ہفتوں کے دوران فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ جڑی بوٹیاں بیج پکا کر فصل کے بیجوں کے ساتھ مل سکتی ہیں اور کٹائی و گہائی کے دوران جڑی بوٹیاں مشکل کا باعث بنتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ چنے کی فصل میں کم و بیش وہ تمام جڑی بوٹیاں اگتی ہیں جو گندم میں بھی اگتی ہیں لیکن بعض جڑی بوٹیاں چنے کے اصل علاقہ (تھل ایریا) سے مخصوص ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چنے اور مسور کو اگر پہلے 2ماہ جڑی بوٹیوں سے بچا لیا جائے تو بعد میں اگنے والی جڑی بوٹیاں زیادہ نقصان کا باعث نہیں بنتیں۔انہوں نے کہاکہ جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کیلئے فصلوں کے ہیرپھیر کا عمل تدریجا تمام کاشتہ رقبہ پر دہرایا جائے اور چنے و مسور کی بجائے بعض رقبہ پر ایک سال اور بعض پر دوسرے سال برسیم، لوسرن یا گندم کاشت کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ مسور کے ایسے کھیت جن میں بکثرت جڑی بوٹیاں اگنے کا امکان ہو وہاں زمین کی تیار ی کے وقت مٹی پلٹنے والا ہل چلا کر جڑی بوٹیوں کے زیادہ تر بیجوں کو زمین میں دبایا جائے۔