صحت مند معاشرہ اور ہماری ذمہ دا ری                

صحت مند معاشرہ اور ہماری ذمہ دا ری                
صحت مند معاشرہ اور ہماری ذمہ دا ری                

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر : تنزیلہ مہناز افشاں 
  ''خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، نہ ہو جس کو خیال اپنی حالت  بدلنے کا''
کہتے ہیں کہ نیکی گھر سے شروع کی جاتی ہے ،اس سوچ کو اگر دیکھا جائے تو شہر میں جابجا جو کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں اس میں کسی حد تک قصور ہمارا اپنا بھی ہے ،ہم اپنے گھروں کا کچرا تھیلوں میں بھر کرباہر گلی میں پھینک دیتے ہیں،لوگوں کا جہاں دل کر تاہے وہیں کوڑا پھینک د یتے ہیں جس سے نہ صرف ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق پاکستان سالانہ تقریباً 6 ملین ٹن ٹھوس فضلہ پیدا کرتا ہے، جس میں سالانہ2.4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔ 

  حکومت پاکستان کا تخمینہ ہے کہ ہر ہفتے87,000ٹن ٹھوس فضلہ پیدا ہوتا ہے، جو زیادہ تر بڑے میٹروپولیٹن علاقوں سے ہوتا ہے۔  ایک اندا زے کے مطابق اگلے تیس برسوں میں، یہ عوامل عالمی فضلہ کی پیداوا ر میں 3.40 بلین ٹن اضافہ کریں گے۔
ہر ملک میں ہر طرح کا کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن کچھ کچرے کی اقسام ایسی ہیں، جو ری سائیکل ہو سکتی ہیں ا ور دوسری جانب کچھ اقسام ایسی بھی ہیں، جو ماحول دوست نہیں ہوتی ،ا ن کو ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا۔ بڑھتی ہوئی آبادی،ترقی کی تیز ی ا ور نت نئی ایجادات کے فروغ سے کوڑے کی پیدا وا ر میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، کچرا نہ صرف ماحول ا ور شہریوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ  خوبصورتی کو بھی برقرا ر رکھنے میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
 غیرترقی پذیر ممالک میں پلاسٹک ا ور غیر بائیو ڈ ی گریڈ ا یبل کچرے کو ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ بن گیا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں سولڈ ویسٹ کو بڑے اچھے طریقے سے ری سائیکل کیا جاتا ہے ا ور دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے کچھ ترقی یافتہ ممالک جیسے(سو یڈن)ریسائیکل کیے گئے ٹھوس کچرے کو برآمد کر کے غیر ملکی  کرنسی کماتے ہیں۔ 
جدیدسائنسی طریقوں کی بدولت فضول سمجھ کر پھینکا جانے والا کوڑا اب  ری سا ئیکلنگ کرکے قابل استعمال بنانا ممکن ہو چکاہے۔سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی نے آج بظاہر بیکار و ناکارہ کچرے میں شامل بہت سی اشیا کو قیمتی بنا دیا ہے۔ یہ عمل سائنسی اصطلاح میں ”ری سائیکلنگ کہلاتا ہے۔اگر بیروزگار پاکستانی نوجوا ن اس  نئے شعبے کے اسرا ر ورموز سے واقف ہوجائیں تو و ہ اسے اپنا کر معقول ذریعہ آمدن بناسکتے ہیں   ۔

 اگر  مغربی ممالک کی بات کی جائے تو وہاں بچوں کو ا ول دن سے کچرے کو ٹھکانے لگانے اور صفائی ستھرائی  کی تربیت ملتی ہے۔اس تربیت کے تین بنیادی اصول ہیں۔   ”Reduce, Reuse and Recycle‘
 یعنی کوڑا کم سے کم پیدا کرو،اسے دوبارہ استعمال کرنے کی کوشش کرو یا پھر اسے بحفاظت ٹھکانے لگا دو۔ اس تربیت کا نتیجہ ہے کہ مغربی ممالک میں سڑ کیں ا ور گلیاں صاف ستھری دکھائی دیتی ہیں،  ری سائیکلنگ سے نئی اشیا بنتی ہیں۔
 لیکن اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اگر پاکستان سمیت غیر ترقی یافتہ ممالک کی بات کی جائے تو یہاں مزید اقدامات کی ضرورت باقی ہے، سولڈویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پوری دنیا سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کی اہمیت پر زور دے رہی ہے یہ عمل ماحول کو صحت مند رکھنے،زمینی منظر کو بہتر بنانے ا ور مواد کو دوبارہ مزید مستقل طریقے سے دوبارہ استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

 لیکن ہمارے معاشرے میں لوگوں کے رو یوں کو بدلنا بہت مشکل ہے، ہم اپنی ناک  پر رومال رکھ کر انتظامیہ کو برا بھلا کہتے ہیں، کچرے کے پاس سے گزر جاتے ہیں ا ور انتظار کرتے ہیں کہ کوئی مسیحا آ ئے ا ور اس بدبودا ر صورتحال سے ہماری جان چھڑائے، ہم یہ نہیں سوچتے ہمیں بھی اپنا کردا ر ادا کرنا ہے۔
حکومت ا ور شہریوں دونوں کے تعاون ا ور تال میل سے نہ صرف ماحول صاف ستھرا رہتا ہے بلکہ انسانی صحت کو نقصان نہیں پہنچتا۔ ہم کہتے ہیں کہ کچرا تو کچرا ہوتا ہے یہ غیرمفید ہے ہمارے کس کام آسکتا ہے، کچرے کو قابل استعمال بنانے سے نہ صرف کچرا کم ہوتا بلکہ صنعتوں کو سستا خام مال میسر آتا ہے۔اسی باعث اب دنیا بھر میں لاکھوں افرادکا روزگار کچرے کی ری سائیکلنگ سے وابستہ ہو چکا ہے۔یہ کام بتدریج صنعت بن رہا ہے۔اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے پاکستان میں بھی وسعت پذیر ہے۔  
  ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کچرا اس لیے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ عام لوگ نامیاتی ا ور غیرنامیاتی کو ڑے کو بھی الگ نہیں رکھتے ا ورساتھ ملا دیتے ہیں۔چنا چہ ایسی کئی اشیا جو دوبارہ قابل استعمال بن سکتی ہیں نامیاتی کچرے میں لتھڑ کر تقریباً ناکارہ ہو جاتی ہیں،  لوگوں کا انفرادی کردا ر ا ن کی سوچ رویہ عملی اقدامات ملک کی ترقی ا ور تبدیلی میں بڑا کردا ر ادا کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرنا ا ور ملک کے لیے مل جل کر کام کرنا ا ن کی سب سے بڑی قوت ہے، انفرادی کوششوں کے ذریعے ہر شہری ماحولیاتی صفائی کے لیے ایک مثبت تبدیلی بن سکتا ہے جو کہ ملک کی بہتری کی راہ میں ایک قدم ہے ۔ ہمارے ماحول کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم کچرے کو علیحدہ کرنے کی عادت کو اپنائیں تاکہ ہم زمین کو صاف رکھ سکیں، ماحول کو بچا سکیں ا ورآنے والی نسلوں کو بھی صحت مند ماحول فراہم کر سکیں۔

۔

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -