آم کھانے کی خاطر

آم کھانے کی خاطر
آم کھانے کی خاطر

  

 ہم سال بہ سال کینیڈا اس لئے جاتے تھے کہ جون جولائی میں لذیذخوش ذائقہ ،خوشبو دار آم ٹورنٹو میں ہر جگہ موجود ہوتے تھے، جتنے چاہو، خریدو اور کھاﺅ۔امریکہ لانے کی اجازت نہیں تھی، چھپا کر لاﺅ تو اور بات ہے، لیکن اس میں خطرہ ہے۔بارڈر پر کسٹم آفیسر نے دیکھ لیا تو آم پھینک دے گا۔ ہم کینیڈا جاتے ہیں تو احباب آم پارٹی رکھتے ہیں،جس میں ہر شخص آم رج کر کھاتا ہے۔وہ شخص بھی، جسے ڈاکٹر منع کرتے ہیں۔ ہندوستان میں ایک آم ثمر بہشت ہوتا ہے۔ہم ہر آم کو ثمر بہشت سمجھ کر کھاتے ہیں، اب کون نادان ہوگا،جو جنت کا پھل نہ کھائے۔

اس سال ہم نے اپنے کینیڈا والے احباب سے معذرت کی تھی ، کیونکہ امریکہ میں پاکستانی آم آنے تھے، اب بھلا آم شہر میں ہوں اور ہم دوسرے ملک کا سفر کریں۔ پچھلے سال پاکستانی آم محدود مقدار میں آئے تھے۔ نیویارک میں کئی آم پارٹیاں ہوئیں۔ہمارے کرم فرما حسن چشتی نے فون کرکے کہا:ہم آپ کو پاکستانی آم بھجوائیں گے، کیونکہ امریکہ میں پاکستانی آم صرف شکاگو میں آنے تھے۔پھر ہوا یہ کہ اول تو کم مقدار میں آئے اور کھیپ کا بڑا حصہ امریکی سیاستدانوں کو تحفے میں بھیج دیا گیا،بس ہمیں نہیں ملا۔

امریکی سفیر کیمرون منٹر کی ایک تصویر اخبار میں شائع ہوئی۔وہ ملتان کے ایک باغ میں آم توڑ رہے تھے۔ہمیں امید بندھی ، اگر امریکی پاکستانی آم توڑ رہا ہے تو اپنے ملک ضروربھیجے گا، لیکن کیمرون منٹر کو پاکستان کے باغ سے ہی توڑ لیا گیا۔وہ واپس آرہے ہیں۔امریکہ اپنی مدتِ تعیناتی پوری کرنے سے پہلے اب بھلا وہ آم کا بدل تو نہیں ہوسکتے۔ہم ان کا کیا کریں گے! ایک دکھ کی خبر یہ ہے کہ امریکہ میں اس سال پاکستانی آم نہیں آئیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دوکلو آم بائیس ڈالر کے پڑیں گے،جبکہ میکسیکو کے آم چھ ڈالرمیں تقریباً دو کلو مل جاتے ہیں، ان کی نہ شکل اچھی ہوتی ہے نہ ذائقہ۔بس دل کے بہلانے کو ” آم“ ہوتا ہے، لیکن یوں لگتا ہے کہ اب دل کا بہلاوا ہی رہ جائے گا۔

پاکستانی آم چونکہ مہنگے ہوں گے، اس لئے نہ کوئی تاجر خرید رہا ہے، نہ مارکیٹ میں اس کے گاہک ملیں گے۔یوں پاکستانی آم کھانے کے لئے کینیڈا جانا ہوگا۔ سنا ہے آم منگوانے کے سلسلے میں مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی، اس لئے لاگت زیادہ ہوگئی۔ادھر امریکی سینٹر اور کانگریس مین ہر صبح اُٹھ کر یہ کھوج لگاتے ہیں کہ امریکہ کے کس معاملے پر تنقید کریں اور بیان داغ دیں۔کانگریس مین ٹام ریڈ نے ”انڈین ایکسپریس“ اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے پاکستانی آموں کے کسانوں کو تیس ملین ڈالر کے آموں کی مراعات دیں،جبکہ امریکی کسان کی حالت خراب ہے،جو کہ ایک بے حد نامناسب اور امریکہ کی معیشت کے لئے نقصان دہ بات ہے۔

ہمیں یہ خبر تو تھی کہ پاکستان کے چالیس آم کے باغوں میں پھلوں کی چیکنگ کا نظام قائم کیا ہے، تاکہ جب آم امریکہ پہنچیں تو کوئی بیماری نہ لا سکیں، لیکن یہ علم نہیں تھا کہ یہ مراعات تیس ملین ڈالرز کی ہوں گی۔کیا اچھا ہوتا کہ اتنی رقم خرچ کرنے کے بعد آم تو آتے، لیکن افسوس یہ ہے کہ امریکہ کو ان دنوں پاکستان سے کچھ نہیں مل رہا۔ہر ممکن امداد کے بعد پاکستان”ڈومور“ نہیں کررہا۔امریکہ کی حسب خواہش دہشت گردوں کو پوری طرح مارنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوا، اس لئے امریکہ ڈرون حملے کررہا ہے۔اس کے بعد بھی بات نہیں بن رہی، لیکن تیس ملین ڈالر خرچ کرنے کے بعد آم کی ایک پیٹی بھی امریکہ نہیں آئی۔ پھر وہ کہاں چلے گئے؟ خدانخواستہ دہشت گرد تو اٹھا کر نہیں لے گئے، کیونکہ انہیں امریکہ کی ہر چیز اچھی لگتی ہے اور جہاں سے امریکی سفیر آم توڑ رہے تھے، وہیں سے انہوں نے بھی توڑ لیا ہے۔

حیرت اس بات پر ہے کہ ہندوستان کے آم بھی امریکہ نہیں آئے۔الفانسو نام کاآم ضرور آیا ہے۔یہ انتہائی مہنگا ہے اور اسے آم بھی دیکھ کر شرماتے ہیں، اس سے بہتر ہے آدمی میکسیکو کے آم کھالے ....کینیڈا میں پاکستانی آم آتے ہیں اور اتنے اچھے اور خوش ذائقہ ہوتے ہیں کہ دل خوش ہوجاتا ہے۔کینیڈا والے بڑے خوش نصیب ہیں۔ آم،جامن، فالسے جی بھر کر کھاتے ہیں اور ہمیں للچاتے ہیں، اس سال ہم نے جانے سے انکار کردیا تھا، اس لئے کسی محبت کرنے والے نے گڑگڑا کر دعا مانگی ہوگی کہ اے رب امریکہ میں پاکستانی آم نہ جانے دینا اور اس کی دعا قبول ہوگئی۔اب ہمیں کینیڈا آم کھانے جانا ہوگا۔

پاکستان والوں کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوگی کہ آم امریکہ جاتا ہے یا نہیں، کیونکہ وہاں ویسے ہی بڑے مسائل ہیں اور ان دنوں تو یہ سوال گرم ہے کہ خط کون لکھے؟ اس مسئلے پر ایک وزیراعظم قربان ہوچکے ہیں، دوسرے بھی اس لائن پر چلنے کی کوشش کررہے ہیں، اگر بُرا نہ مانیں تو سوئٹزرلینڈ خط ہم لکھ دیتے ہیں، بلکہ خط لے کر جنیوا جا کر عدالت میں جمع کراسکتے ہیں۔شرط یہ ہے کہ پاکستان کے آم امریکہ بھجوا دیں۔ ٭

مزید :

کالم -