افغانستان عراق ہے نہ ہی میں مالکی ہو ں ، اشرف غنی

افغانستان عراق ہے نہ ہی میں مالکی ہو ں ، اشرف غنی
افغانستان عراق ہے نہ ہی میں مالکی ہو ں ، اشرف غنی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 کا بل( آن لائن )افغان صدارتی انتخابات کے امیدوار اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغان عوام یک جا ہیں اور ان کا ملک عراق نہیں۔ میرا اور عبداللہ عبداللہ کا مقصد صر ف ملکی سلا متی اور یکجہتی ہے امر یکی خبر رسا ں ادار کو دئیے گئے ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ وہ امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، جس میں صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے تمام 80 لاکھ ووٹوں کی جانچ پڑتال کا کہا گیا تھا۔ غنی اور عبداللہ عبداللہ نے اس جانچ پڑتال کے بعد سامنے آنے والے نتائج کو تسلیم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اشرف غنی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ وہ اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ ملکی یک جہتی اور اتحاد کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قانون کی بالادستی اور انتخابات کی شفافیت کی اہمیت سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کا تقابل عراق سے ہرگز نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ وہاں مختلف مسالک اور نسلوں کے افراد ایک سیاسی معاہدے پر متفق ہونے میں ناکام ہیں، جس کے ذریعے وزیراعظم نوری المالکی کو تبدیل کیا جا سکے۔ ”میں مالکی نہیں ہوں اور افغانستان عراق نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ عبداللہ عبداللہ ان سے ملاقات کے لیے آ رہے ہیں جس میں وہ ملک کے سیاسی مستقل اور آئندہ حکومت میں دونوں امیدواروں اور افغانستان کی تمام برادریوں کی شرکت کے موضوع پر بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں وہ عبداللہ عبداللہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملنے کی توقع بھی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے دوبارہ ایک تاریک دور میں چلے جانے کے خوف نے دونوں سیاست دانوں کو اس معاہدے پر مجبور کیا۔

مزید : عالمی منظر